کیا میں اذیت پسند ہوں ؟ ۔۔ مسعود قمر

masood qamar

کیا میں ملامتی ہوں ؟ میں کیوں چاہتا ہوں لوگ مجھے برا بھلا کہیں ؟ میری محبتیں کیوں ایک دن ایک ہفتہ یا چند ماہ سے آگے نہیں بڑھ پاتیں ؟ محبتیں کیوں مجھ سے اُکتا جاتی ہیں ؟ انہوں نے اپنے کپڑے استری کرنے ہوتے ہیں، مہمانوں کے لئیے کھانے بنانے ہوتے ہیں ، پکوڑے تلنے ہوتے ہیں ۔۔۔ مگر میں کہتا ہوں پکوڑے نہیں کھاؤ گی تو مر نہیں جاؤگی۔ بس تم مجھے اپنی نظم سناؤ۔ وہ ایک دن، دو دن یا ایک ہفتہ پکوڑے تلنا بند کر دیتی ہیں۔ مگر چولہے پہ رکھی دنیاوی کڑاہی کے اندر رکھا روز مرہ کاموں کا تیل زور و شور سے اُبلنے لگتا ہے۔ وہ یہ ابلتا تیل کڑاہی سمیت میرے منہ پہ پھینک کے بازار سے پکوڑے منگوا کر کھانے لگتی ہیں۔
اور میں پھر اپنی قبر کی دیواروں پہ مُکے مارنے لگ جاتا ہوں کہ میں نے اُسے بازار سے پراندا خریدنے جانے سے کیوں منع کیا ، میں اُسے اپنی نظم شام کو بھی تو سُنا سکتا تھا اور اگر نہ بھی سُناتا تو کیا فرق پڑ جاتا۔ کتنی بار خود سے سے وعدہ کیا کہ اگر محبت کہے کہ میں دس منٹ بعد آتی ہوں تو چاہے وہ دس گھنٹے نہ آئے میں زندگی گزارے بغیر خاموشی سے جیتا رہوں۔ مگر نہیں میں تو پاگل ہو جاتا ہوں۔ میں اُس کے آس پڑوس پہ دستک دینی شروع کر دیتا ہوں کہ جاؤ دیکھو اگر وہ مجھ سے محبت نہیں کرتی تو اس وقت کرتی کیا ہے۔ اور پھر ایک پیغام آتا ہے وعلیکم السلام۔
مجھے کوئی سمجھا سکتا ہے کہ محبت ، موسیقی اور شاعری کے علاوہ بھی کوئی کام ہے جو کرنا چاہیے ۔
دوسرے سارے کام ایسے ہی ہیں جیسے آپ کتاب پڑھتے ایک صفحہ سے دوسرے صفحہ تک جانے کے لیے وقفہ لیتے ہیں۔ میں بےوقوف نہیں ہوں کہ محبت جب دس منٹ کا کہہ کر دس گھنٹے نہیں آتی تو میں شور مچانا شروع کر دوں۔ میں پاگل اس وقت ہو جاتا ہوں جب وہ دس گھنٹے میں ہر دس منٹ بعد یہ کہتی ہے بس آخری روٹی ہے ، بس میں اماں کے کپڑے استری کر لوں ، بس پانچ منٹ میں دوپٹہ رنگا لوں ، مچھلی والے کی دوکان پہ لمبی قطار ہے ، رکشہ والے کے پلگ میں کچرا پھنس گیا ہے ۔۔۔ بس ابھی دس منٹ میں ابھی گھر پہنچ کر بات کرتی ہوں۔
میں ان دس گھنٹوں میں دس نظمیں لکھتا ہوں اور محبت کو جب یہ نظمیں سنا نہیں پاتا تو ان نظموں کو پھاڑ دیتا ہوں۔ میں پھٹی نظمیں ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتا ہوں اور محبت اکتاہٹ میں وعلیکم السلام پھینک دیتی ہے۔ جی ہاں میں اذیت پسند ہوں مجھے پتہ ہوتا ہے کہ یہ محبت مجھ سے محبت نہیں کرتی مگر میں اُسے کہتا رہتا ہوں چاہے مجھ سے محبت نہ کرو مگر کہہ دو ‘مجھے تم سے محبت ہے‘۔ میں نے ایک محبت سے جب بھی پوچھتا کہ کیا تم کو مجھ سے محبت ہے ، وہ نفی میں سر ہلا دیتی اور پھر ایک دن ہمارا جھگڑا ہو گیا۔ تو میں نے اس سے پوچھا کہ کیا سب کچھ ختم ہو گیا ۔ تو محبت نے اقرار میں گردن ہلا دی ۔۔۔ آپ اس کیفیت کو سمجھ سکتے ہیں کہ اس نے پہلی دفعہ اقرار میں گردن ہلائی تو کس فیصلے پہ ۔۔۔
آپ لوگوں کو پتہ ہی نہیں میں اس کیفیت میں ہوں۔ کتنی صدیاں گزر گئیں ہیں اس کو دیکھے حالانکہ اس نے دس منٹ پہلے دس منٹ کے بعد آنے کا کہا تھا اور ان دس منٹوں میں، میں بغیر زندگی کے جئے جارہا ہوں۔ میں پھر اپنی قبر میں آگیا ہوں مگر آپ کو پتہ ہے اس دفعہ محبت نے فرشتوں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔ فرشتوں نے میری قبر میں آنے سے انکار کر دیا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ لوگ بک شاپ پہ کتاب خریدنے ، محبت کو شاعری سنانے اورموسیقی سننے ، سنانے کے علاوہ ۔۔۔۔۔ نائی سے بال بھی کٹوانے جاتےہیں۔ سائیکل کا پینکچر بھی لگواتے ہیں۔ دوکاندار سے مسور کی دال کے بھاؤ پہ بحث بھی کرتے ہیں۔
مجھے پتہ ہے، اس کو بھی پتہ ہے کہ میں نے اب یہ سب کیوں لکھا گیا ہے۔ مگر میں اذیت پسند ہوں میں وعلیکم کا منتظر ہوں۔
(بشکریہ : کارون ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*