صحافیوں کی خلائی مخلوق اورایم یو جے کے سلیکٹڈ الیکشن .. محمود احمد چوہدری




لو جی! پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کی مرکزی قیادت (ایم یو جے) کے ارکان کو پیشگی مبارکباد قبول ہو کیونکہ ان کے حقوق کے تحفظ کی ضامن تنظیم ایم یو جے کے دونوں دھڑوں کے اگلے سال کیلئے سلیکٹڈ عہدے داران کا انتخاب بالترتیب 9اور10فروری کو ہونے جا رہا ہے تمام ترانتخابی قواعد و ضوابط مکمل ہونے کے بعد تادم تحریر کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے جانچ پڑتال اعتراضات اور اپیلوں کی سماعت جاری ہے یہ عمل مکمل ہوتے ہی دونوں دھڑوں کے سابقہ عہدے داران نئے سرے سے سلیکٹ ہو جائیں گے سلیکٹ ہونے والے عہدے دار سال بھر اخباری کارکنوں اورصحافیوں کو حقوق دلانے کے نام پر بین الصوبائی دورے کرینگے پرتعیش دعوتیں
اڑائیں گے اعلیٰ حکومتی شخصیات کے ساتھ سیلفیاں بنوا کر سوشل میڈیا پرپوسٹ کرکے ہر طرح کی سہولیات سے محروم و محکوم ساتھی صحافیوں کے زخموں پرنمک پاشی کرتے رہیں گے ۔



پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جے ) بنیادی طور پر ایک ٹریڈ یونین ہے جس کے قیام کا بنیادی مقصد اور منشور ہی اخباری صنعت سے وابستہ تمام کارکنوں کا بلا امتیاز اور بلا لحاظ عہدہ حقوق کا تحفظ کرنا اخباری اداروں میں ان کی عزت اور وقار بحال رکھوانا اور مشکل وقت میں متاثرہ صحافیوں اور کارکنوں کا بھرپور ساتھ دینا اور اس مقصد کیلئے آخری حد تک جانا ہے ۔مگر بد قسمتی سے گزشتہ چند برسوں سے اخباری صحافیوں کی اس واحد نمائندہ تنظیم پر مخصوص ٹولہ نے قبضہ جما رکھا ہے اور اس ٹولہ کا تعلق بھی چند ایک مخصوص اداروں سے ہے ملتان کے صحافیوں کی یہ بھی بڑی بد قسمتی ہے کہ تنظیم پر قابض یہ ٹولہ اپنے علاوہ نہ توکسی کو صحافی سمجھتا ہے اور نہ کارکن . مخصوص جگہ پر بیٹھ کر آپس میں عہدے تقسیم کر کے ایک پریس ریلیز جاری کیا جاتا ہے دو چار اخبارات میں خبر چھپوا کر انتخابی عمل کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے اور عہدوں کی بندر بانٹ کرلی جاتی ہے اس سارے عمل سے پہلے من پسند انتخابی فہرست مرتب کی جاتی ہے اور اس میں ایسے نام بھی شامل کرلئے جاتے ہیں جن کا اخباری صنعت سے دور دور تک کا تعلق یا واسطہ تک نہیں ہوتا اس انتخابی فہرست میں اپنے اداروں کے اتنے ووٹ درج کرلئے جاتے ہیں کہ یا تو کوئی دوسرا مقابلہ میں آنے کی ہمت نہیں کرتا اور اگر کوئی آ بھی جائے تو اسے اس ادارے سے ووٹ نہیں ملتے جس کی وجہ سے یہی ٹولہ ہر سال مختلف نشستوں پر عہدے بدل بدل کر دوبارہ
قابض ہو جاتا ہے اس قابض ٹولے نے آج تک عام صحافی اور ورکر کیلئے کبھی کچھ نہیں کیا بعض عہدے دار تو سلام لینا تو درکنار جواب دینا تک گوارا نہیں کرتے اور خود کو کسی اور سیارے کی مخلوق سمجھتے ہیں. آج تک کوئی عہدے دار کسی عام صحافی اور ورکرز کی خوشی، غمی، شادی بیاہ کی تقریب میں شریک
ہونا تو بہت دور کی بات حال احوال پوچھنا تک گوارا نہیں کرتا ۔



پرتعیش مقامات پر سیر سپاٹوں، اعلیٰ فائیو سٹار ہوٹلوں میں کھانوں، اعلیٰ حکومتی شخصیات سے ملاقاتوں کی سوشل میڈیا پر پوسٹیں لگا کر اپنے عہدے داراور بڑے صحافی ہونے کے دعویدار ان نمائندوں کو کبھی اپنے ساتھیوں کی خبر گیری کا خیال تک نہیں آیا الیکشن تو بہت دور کی بات سلیکشن کی شفافیت کا بھی یہ عالم ہے کہ بعض سینئر ،بزرگ، سرگرم، فعال اور نظریاتی کارکنوں کو بھی علم تک نہیں ہوتا کہ سارا عمل کہاں پراسس ہوا سکروٹنی کمیٹی کس نے تشکیل
دی اس کا اجلاس کب ہوا اس نے سکروٹنی کب کی الیکشن کمیٹی کب بنی شیڈول کا اعلان کب ہوا اور کب کاغذات نامزدگی جمع ہوئے آج کل موبائل اور انٹر نیٹ کا دور ہے ایک واٹس ایپ میسجز تمام ارکان کو باآسانی جا سکتا ہے مگر شاید ان خود نمائی کے شوقین عہدے داروں کو اندر سے خوف ہوتا ہے کہ اگر کسی کو پتہ چل گیا اور کوئی اور سامنے آگیا تو ان کی ٹھیکیداریاں اور دکانداریاں ختم ہو جائیں گی سال2018ء کے آخری ماہ میڈیا پر جتنے بھاری گزرے اور گزر رہے ہیں شاید ہی ملکی تاریخ میں اس کی مثال ملتی ہو کئی ادارے بند ہوگئے سینکڑوں کارکنوں کو بیک فلم جنبش فارغ کرکے بے روزگار کردیا گیا ان بے روزگارہونے والے کارکنوں سے وابستہ ہزاروں افراد کا روزگار چھن گیا چولہے ٹھنڈے پڑ گئے متاثرین نے احتجاج کئے دھرنے دیئے مگر مجال ہے کہ ایم یو جے کسی عہدے دار نے بے روزگار ہونے اور نکالے جانے والوں کی حمایت یاا ظہار یکجہتی میں کبھی ایک لفظ بولا ہو کسی کارکن کے پاس جا کر اظہار ہمدردی کرکے اس کی ڈھارس بندھائی شائع ہونا یا نہ ہونا بعد کی بات کوئی ایک مذمتی پریس ریلیز جاری کیا ہو اخباری مالکان کی طرف سے کارکنوں کی جبری برطرفیوں کیخلاف کوئی مذمتی لفظ ہی پوسٹ کیا ہو پی
ایف یو جے (برنا گروپ) کے بانی منہاج برنا مرحوم زندگی بھر اخباری کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے لڑتے رہے محروم اور مظلوم طبقہ کو حقوق دلانے کیلئے ہر حکمران اور اخباری اداروں کے مالکان سے ٹکر لی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں کوڑے کھائے اپنے روزگار اور مفاد کی پرواہ کئے
بغیر صحافیوں اور کارکنان کو باعزت مقام دلاتے رہے مگر ایم یو جے کے عہدے دار بالکل اس کے برعکس چل رہے ہیں۔شنید ہے کہ یہ سلیکشن مرکزی قیادت کی ہدات پر کی جارہی ہے اگر یہ درست ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایم یو جے کا دوسرا دھڑا ایم یو جے ( دستور برنا) دھڑا بھی مرکزی قیادت کی ہدایت پر قائم ہوا ہے اور اگر دھڑے بندیوں کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب ایم یو جے کے ہر لیڈر کا اپنا اپنا دھڑا ہو گا اور پھر ہر کارکن ہی عہدے دار ہوگا۔

55 total views, 1 views today

فیس بک کمینٹ