ضیاء دور میں فیض صاحب پر کیابیتی ؟ ( وفات 20 نومبر 1984 ء ) پانچویں جماعت کے بچے کی یادیں ۔۔چوہدری محمود احمد


ہر سال20نومبر کو جب عظیم انقلابی ،لینن امن ایوارڈ یافتہ شاعر فیض احمد فیض کی برسی آتی ہے تو مجھے 27جی گلبرگIIIوالی وہ کوٹھی یاد آتی ہے جس میں میں نے فیض صاحب کو کئی مرتبہ دیکھا تھا۔
یہ غالباً بھٹو شہید کے دور حکومت کے آخری ایام تھے اور میں چوتھی یا پانچویں کلاس کا طالب علم تھا ۔ والد مرحوم محمد جمیل فیض صاحب کے زیر نگرانی ایک ادارے میں ملازم تھے ۔ بھٹو شہید نے فیض صاحب کی سربراہی میں ایک چھوٹا ساادارہ بنا رکھا تھا جس کے ملازمین کی کل تعداد 5یا6تھی یہ ادارہ 27جی گلبرگ IIIوالی اس کوٹھی میں قائم تھا انگلش میں ادارے کا نام کیا تھا یہ تو مجھے اب یاد نہیں البتہ آسان الفاظ میں اس ادارے کے قیام کا مقصد برصغیر میں موسیقی کے ورثہ پر تحقیق کرکے محفوظ کرنا تھا ۔فیض‌صاحب اس زمانے میں بھٹو کے مشیر تھے اورآرٹس کونسلیں اور دیگر ثقافتی ادارے ان کی نگرانی میں کام کرتے تھے ۔ جس کوٹھی کا میں ذکر کر رہا ہوں وہ ایک طرح سے میوزک کا ایک عجائب گھر تھا جس کے سر براہ فیض صاحب ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹرعطا صاحب ،ایک سٹینو گرافر ،ایک مالی، ایک چوکیدار ،ایک فیض صاحب کے ڈرائیور چاچا رشید اور میرے والد مرحوم اس کے ملازم تھے ۔جب بھی سکولوں میں موسم گرما کی تعطیلات ہوتیں ہم دونوں بھائی بہن چھٹیاں گزارنے والد صاحب کے پاس لاہور چلے جاتے ۔ چونکہ اس ادارے کا کام اس وقت تک ہی ہوتا تھا جتنی دیر تک فیض صاحب آفس میں موجود رہتے تھے ۔کوٹھی بہت بڑی تھی اس لیے والد صاحب کی رہائش کا بندوبست بھی اسی آفس میں تھا۔ آفس اوقات کے بعد ہم دونوں بہن بھائی آفس کے برآمدے میں کھیلتے رہتے اچانک کسی بھی وقت ڈرائیور چاچا رشید گیٹ کے سامنے آکر گاڑی کا ہارن بجاتے والد صاحب ہمیں کہتے صاحب آگئے ہیں تو ہم دبک کر ایک طرف ہو کر بیٹھ جاتے فیض صاحب گاڑی سے اترتے برآمدے سے ہو کر اپنے کمرے میں چلے جاتے ۔ تب مجھے فیض صاحب کو دیکھنے کا موقع ملتا فیض صاحب وجیہہ شخصیت کے درمیانی جسم و قدامت کےانسان تھے نظر نیچے کر کے چلتے تھے ۔ چہرہ سر اور بالوں کا سٹائل بھٹو شہید سے تقریباً ملتا جلتا تھا۔ سرمئی رنگ یا گہرے بادامی کلرکا سفاری سوٹ پہنتے تھے اور بعض اوقات ان کو دیکھ کر ان پر بھٹو صاحب کا گمان ہوتا تھا ۔غیر ملکی تمباکو بہت زیادہ پیتے تھے وہ مجھے اس لئے معلوم ہے کہ آفس میں تمباکو کی جو ڈبیاں خالی ہوتی تھیں وہ بہت پیاری اور نفیس ہوتی تھیں اور ہم ان سے کھیلا کرتے تھے ۔ آفس کے ایک کمرہ میوزک کا پورا عجائب گھر تھا یہاں ہمہ قسم کے آلات میوزک رکھے ہوئے تھے والد صاحب اس وقت ہمیں بتاتے تھے کہ برصغیر میں آج تک جو جو میوزک کے آلات استعمال ہوئے ہیں وہ یہاں موجود ہیں ۔ اسی طرح کمروں اور راہداری کی دیواروں پر بڑے بڑے بورڈ آویزاں تھے جن پر سٹیل کے کوکوں (پنوں) سے تمام گلوکاروں (مرد و خواتین) کی بلیک اینڈ وائٹ تصاویر لگا کر نیچے کیپشن درج تھے غالباً برصغیر پاک و ہند کے تمام گلوکاروں کی تصاویر وہاں موجود تھیں ۔ دن بھر درجنوں ملاقاتی فیض صاحب کو
ملنے آتے تو والد صاحب ہمیں بتاتے کہ یہ نور جہاں، یہ گلبہار بانو ہیں یہ ندیم تھے یہ محمد علی اور زیبا تھے غرض کہ ثقافت و ادب کی کوئی ایسی شخصیت نہ تھی جو فیض صاحب کو ملنے کیلئے نہ آتی ہو ۔ اکثر اوقات فیض صاحب والد مرحوم کو گھر بھی بلا لیتے جو ایچ بلاک ماڈل ٹاؤن لاہور میں ہے تو ہم وہاں بھی جایا کرتے تھے ۔ فیض صاحب کے ذاتی کمرے میں دو لوہے کی سنگل چارپائیاں( بیڈ) نما بچھی ہوتی تھیں ان پر سفید چادریں تھیں کمرے کےچاروں اطراف لوہے کی شیشے والی الماریاں تھیں جن میں سینکڑوں کتابیں آویزاں تھیں غالباً فیض صاحب کا لائبریری اور سونے کا یہی کمرہ تھا ۔بیگم ایلس فیض صاحبہ کا کمرہ ان کے کمرے کے بالکل سامنے تھا یہ کوٹھی بھی گھر کم اور میوزیم زیادہ لگتی تھی ۔ گھر کی ہر دیوار پر نوادرات آویزاں تھے ۔ یہ گھر یورپی اور ہمارے پنجابی کلچر کا بھرپور عکاس تھا اس گھر میں اس دور میں ہم نے چھاج ،چرخہ تک دیکھا کچن میں ہمہ قسم کی دالیں اور ہر وہ چیز جو پنجاب میں پیدا ہوتی ہے تھوڑی تھوڑی جاردانوں میں محفوظ کی گئی تھیں۔ اسی قسم کا ایک گھر ملتان میں معروف ادیبہ ڈاکٹر شگفتہ فراز اور ان کے ڈاکٹر شوہر ڈاکٹر فراز احمد کا NESTہے ۔
فیض صاحب اور بیگم صاحبہ کا طرز زندگی انتہائی سادہ تھا دونوں اپنے ذاتی ملازمین کیساتھ انتہائی شفقت اور پیار کیساتھ پیش آتے تھے ان کا مکمل خیال رکھتے تھے گوکہ ان کی دونوں بیٹیاں منیرہ ہاشمی اور سلیمہ ہاشمی اپنے اپنے گھروں میں قیام پذیر تھیں اس کے باوجود فیض صاحب اور بیگم صاحبہ نے کبھی والد مرحوم سے یہ شکایت نہ کی تھی کہ یہ بچے کیوں سارا دن اودھم مچاتے پھرتے ہیں ۔پھر انہی دنوں بھٹو حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا آمر ضیا الحق نے مارشل لاء لگا کر اقتدار پر قبضہ کر لیا یہ دن نہ صرف بھٹو خاندان بلکہ ان کے سب رفقا اور ساتھیوں پر بھاری تھے ۔ ہم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ بھٹو صاحب کے بعد جو شخصیت ضیائی مارشل لا کے سب سے زیادہ زیر عتاب رہی وہ فیض صاحب تھے ۔ خفیہ والے( سپیشل برانچ) کی ایک گاڑی مسلسل فیض صاحب کی گاڑی کے تعاقب میں رہتی تھی اور چاچا رشید ڈرائیور والد صاحب کو آکر بتایا کرتے کہ آج میں نے ان کو (خفیہ والوں) کو بہت چکمے دیئے اور وہاں وہاں گاڑی لے کر گیا جہاں کا شیڈول بھی نہ تھا۔ میں نے گاڑی کو بہت ” کلٹیاں “ ماریں مگر یہ بہت ڈھیٹ ہیں پیچھا نہیں چھوڑتے ۔ میں خود دیکھتا تھا کہ فیض صاحب کی چھوٹی گاڑی تو اندر آجاتی فیض صاحب آفس چلے جاتے خفیہ والوں کی بڑے بڑے ٹائروں والی جیپ نکڑ والی کوٹھی کے سامنے لگے سکھ چین کے درخت کے نیچے کھڑی ہو جاتی اور فیض صاحب کو ملنے کیلئے ہر آنیوالے کی گاڑی کا نمبر نوٹ کیا جاتا۔ خفیہ والے فیض صاحب پر ہاتھ ڈالنے کیلئے بہت پریشان تھے مگر ان کو کوئی ثبوت نہیں مل رہے تھے کہ گرفتاری کیسے ڈالی جائے اس کا حل انہوں نے ایسے نکالا کہ میرے والد کو پیش کش کی کہ آپ ہمارے ادارے سے بھی تنخواہ لے لیں صرف یہ بتا دیا کریں کہ آفس میں جو جو گاڑی آتی ہے اس میں کون کون ہوتا ہے اور اندر کیا کیا باتیں ہوتی ہیں ۔ میرے والد کو ہی دوران ملاقات فیض صاحب کے کمرے میں جانے کی اجازت تھی اور خفیہ والوں کو ان سے بڑا سورس کوئی نہیں مل سکتا تھا ۔ والد مرحوم نے سوچ کر بتانے کا وعدہ کیا فیض صاحب کو تو یہ بات نہ بتا سکے البتہ گھر جا کر بیگم ایلس فیض صاحبہ کو تمام حالات و واقعات گوش گزار کر دیئے ۔ بعد میں والد نے چاچا رشید کو آکر بتایا کہ بیگم صاحبہ نے میرے سامنے آئی جی( سپیشل برانچ) کو فون کیا اور ٹوٹی پھوٹی اردو میں کہا کہ آپ کے کچھ آوارہ(ڈاگز) ہمارے بندوں کو تنگ کررہے ہیں ان کو پٹہ ڈالیں اس دن کے بعد پھر خفیہ والوں کی گاڑی نظر آئی نہ وہ خود ۔ اچانک ایک دن آفس کا پورا نظام ضیا ء حکومت کے کارندوں نے سنبھال لیا تمام ملازمین فاغ کرکے دفتر سیل کر دیا گیا ۔ فیض صاحب بھارت کے راستے روس چلے گئے ۔ فیض صاحب کے بھارت جانے کے بعد ایک دن بیگم صاحبہ نے سب ملازمین کو اپنے گھر بلایا اور واشگاف الفاظ میں کہا کہ آمر ضیا الحق کی دشمنی بھٹو اور ہمارے ساتھ ہے آپ کو اس کی سزا نہیں ملنی چاہئے ۔ بیگم صاحبہ نے ایک ایک ملازم سے پوچھا کہ وہ کون سے شہر میں ملازمت کرنا چاہتا ہے جس نے جہاں کا بتایا بیگم صاحبہ نے وہاں کا نمبر ملایا اور اس کو وہاں بھیج دیا کیونکہ ہر جگہ بیورو کریسی میں فیض صاحب کے چاہنے والے ہزاروں افسران موجود تھے ۔ اس دور میں نوکری ایک ٹیلی فون کال پر مل جاتی تھی ۔حمید اختر مرحوم ٹی وی آرٹسٹ صبا حمید کے والد ان دنوں روزنامہ ”امروز” ملتان کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر تھے میرے والد کا تعلق چونکہ وہاڑی سے تھا اور وہاڑی کا نزدیک ترین شہر ملتان تھا بیگم صاحبہ نے حمید اختر صاحب کو فون کیا کہ فیض صاحب کا خدمت گزار آرہا ہے کل سے ڈیوٹی پر ہو۔ ایسے ہی ہوا والد صاحب جیسے ہی امروز آفس پہنچے گیٹ پر ہی چوکیدار نے بتا دیا کہ آپ کی ڈیوٹی ہوگئی ہے فلاں تاریخ سے آکر جوائننگ کرلیں اور اس طرح بندہ ناچیز کا بھی صحافت سے چھوٹا موٹا تعلق قائم ہوا ۔بعد ازاں کئی برس بعد غالباً1989-90میں ایک با رپھر بیگم ایلس فیض صاحبہ سے جاب کے سلسلہ میں ملاقات ہوئی وہ ان دنوں بہت کمزور اور ناتواں ہوچکی تھیں سر کے سارے بال سفید تھے۔ رک رک کر بولتی تھیں کہنے لگیں پہلے ہم ضیا الحق کے زیر عتاب تھے اب اس کے منہ بولے بیٹے وزیراعظم نواز شریف کی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بن رہے ہیں ۔سرکاری ملازمت تو ابھی مشکل ہے آپ لارنس روڈ پر واقع میرے آفس آجائیں جہاں سے بیگم صاحبہ انگلش رسالہ ویو پوائنٹ نکالتی تھیں فی الحال آپ کو پروف ریڈنگ کی جاب دے دیتی ہوں۔ جب آپ کو انگلش کی سمجھ آجائے گی تو دوسری جگہ شفٹ کرادوں گی ۔ میں وہاں نہ جا سکا اور ملتان کا ہی ہو کر رہ گیا ۔ فیض صاحب کی وفات کے بعد جب ترکہ کی تقسیم ہوئی تو ہمارے حصہ میں فیض صاحب کی زیر استعمال ایک بنیان اور ایک جوڑا جرابوں کا آیا ۔جو بیگم صاحبہ نے خود اپنے ہاتھوں سے نوازا شاید ہمیں اس کی قدرومنزلت کا احساس نہ تھا اس لئےہم ان کی حفاظت نہ کر سکے ۔

فیس بک کمینٹ
image_print




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*