ارشاد جالندھری کی تیسری برسی بھی خاموشی سے گزر گئی ۔۔ محمد علی ایاز


irshad jalandhari
  • 7
    Shares

دنیائے ادب کے درخشندہ ستارے ارشاد جالندھری سے میری صرف ایک ملاقات رہی ۔ ارشاد جالندھری اپنی وفات 30 اکتوبر 2015 ءسے دو تین ماہ قبل کبیروالا میں تشریف لائے تو کبیروالا کے بزرگ شاعر طالب حسین بٹالوی کی وساطت سے آشنائی ہوئی جس کے بعدراقم الحروف نے اپنے گاؤ ں بارہ میل میں ان کے اعزاز میں ایک شعری نشست کا اہتمام کیا ۔ اس موقع پر انہوں نے علالت کے باوجود کافی دیر تک اپنا کلام سنایا اور خوب داد سمیٹی ۔ ارشاد جالندھری برصغیر پاک و ہند کے نامور شاعر، کبیروالا کی ادبی پہچان ڈاکٹر بیدل حیدری کے چہیتے شاگرد تھے اور علم العروض پر عبور رکھتے تھے ۔ پاکستان کے کونے کونے سے نو آموز شاعر اپنے کلام کی اصلاح کے لیے آپ کی خدمت میں آتے ۔ ارشاد جالندھری نے درویشانہ زندگی بسر کی کسمپرسی کے باوجود کبھی کسی وڈیرے کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا اپنی خود داری کو قائم رکھا ۔آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے ظالم قوتوں اور استحصالی نظام کے خلاف جہاد جاری رکھا اور محروم و مظلوم طبقات کی نمائندگی کا حق ادا کردیا مقتدر قوتوں کے لیے آپ کا قلم شمشیر بے نیام رہا۔ نام نہاد عوامی نمائندوں کی سیاست پر انہوں نے بہت کچھ لکھا انہی کا ایک شعر مجھے یاد آرہا ہے کہ
ایم این اے اسلام آباد، ایم پی اے لاہور رہے گا
خوشحالی کا ہر اک وعدہ برسوں زیر غور رہے گا
آپ ساری زندگی ترقی پسند سوچ کی حامل جماعتوں اور تحریکوں کا حصہ رہے پیپلز پارٹی کے عوامی منشور کی وجہ سے اس پارٹی سے بہت ذہنی ہم آہنگی رہی۔ جب ضیاءالحق نے ایک منتخب وزیر اعظم کو جیل میں ڈالا اور بھٹو خاندان پر ظلم کے پہاڑ توڑے تو آپ کا قلم بول اٹھا
قید میں تھیں بیبیاں سہالہ ملک شام تھا
نرغہء یزیدیت میں قائد عو ام تھا
چیچہ وطنی میں پیپلز پارٹی کے ایک عوامی جلسہ میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی موجودگی میں جب ارشاد جالندھری نے اپنی یہ نظم پیش کی تو محترمہ نے نہ صرف تعریفی کلمات کہے بلکہ نقد انعام پیش کیا ۔ارشاد جالندھری نے اپنی ترقی پسند شاعری کی بدولت ہی پاکستان بھر کے ادبی حلقوں میں بلند مقام حاصل کیا۔ اسی طرح ان کی ایک شہرہ آفاق اورطویل نظم ” کچھ بول میر کارواں، ہم ہورہے ہیں بد گماں “ بہت مقبول ہوئی ۔یہ نظم عوامی مسائل سے بے گانہ اور مفاد پرست حکمرانوں اور مقتدر اداروں کے لیے ایک تازیانہ ہے
سنسان ہر بازار ہے ، اور بندکاروبار ہے
بارود کی بھرمار ہے ،خطرات کی یلغار ہے
کس سوچ میں سرکار ہے ، کیا یہ کوئی تہوار ہے
ہورہا ہے کیا یہاں ، کچھ بول میر کارواں
ہم ہو رہے ہیں بدگماں
جب زندگی درگور ہو، آدم ہی آدم خور ہو
ظالم کی لمبی ڈور ہو، عیاشیوں کا زور ہو
انصاف کا بھی شور ہو ،خود پاسباں جب چور ہو
پھولے پھلے کیوں گلستاں، کچھ بول میر کارواں
ہم ہورہے ہیں بدگماں
ارشاد جالندھری 1945ء میں ضلع جالندھر ہندوستان میں پیدا ہوئے ۔ ان کا نام محمد ارشاد رکھا گیابعد میں اپنی جنم بھومی کے حوالے سے اپنے نام کے ساتھ جالندھری لکھنے لگے ۔ پاکستان کا وجود عمل میں آیا تو ان کا خاندان ہجرت کرکے پاکستان آگیا اور کبیروالا کے نواحی گاؤں نڑھال میں ڈیرے لگائے ارشاد جالندھری نے اپنا بچپن ا ور جوانی اسی گاؤں میں گزاری ۔ صرف مڈل تک تعلیم حاصل کی دنیائے ادب سے وابستگی ہوئی تو کبیروالا میں نامور استاد شاعر ڈاکٹر بیدل حیدر ی کی شاگردی نصیب ہوئی جن کی سرپرستی میں ارشاد جالندھری نے ادبی سفر شروع کیا اور شہرت کی بلندیوں تک جا پہنچے آپ کی شادی ہوئی تو بھی آپ کبیروالا میں ہی مقیم تھے بعد میں آپ کسووال کے قریب چک نمبر 14/4-L میں سکونت پذیر ہوگئے 1981 میں آپ کاروان ادب کے نام سے ایک تنظیم بنائی جس کے زیر اہتمام باقاعدہ ماہانہ مشاعروں کا سلسلہ شروع کیا ۔ ا ن کی شاعری میں ترقی پسندی کا عنصر نمایاں تھا اور آپ کی شاعری میں حبیب جالب، فیض احمد فیض کے پیغام کا ایک تسلسل ہی نظر آتا ہے ۔ انہوں نے ساری زندگی اپنی معاشی ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے کوئی پیشہ اختیار نہیں کیا اسی دوران کسووال میں پان سگریٹ کی ایک دکان بنائی جو کچھ عرصہ ہی چل سکی ۔ مشاعروں کی قلیل آمدنی اور اکادمی ادبیات کے وظیفہ سے ہی اپنی روزی روٹی کا سلسلہ جاری رکھا آپ کی اولاد میں پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا پیدا ہوئے ۔ آپ کا اکلوتا بیٹا بیمار ا ہوا اوربیماری کی حالت میں ہی جان کی بازی ہار گیا بیٹے کی جدائی کا صدمہ آپ برداشت نہ کرسکے اور ا پنی صحت بھی خراب کر بیٹھے ۔ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں ایک لنچ بکس اپنے ساتھ رکھتے جس میں کچھ کھانا سنبھال کر رکھ لیتے تھے کہ رات کے وقت انہیں بھوک لگتی تھی تو کسی کو پریشان کرنے کی بجائے کھانا بکس سے نکال کر کھا لیتے تھے ۔ ارشاد جالندھری نے مزاحمتی شاعری کے ساتھ ساتھ رومانوی اور مزاح سے بھرپور اد ب بھی تخلیق کیا استاد سخن ڈاکٹر بیدل حیدری جو پاکستان بھر کے مشاعروں اور ادبی محفلوں میں بلائے جاتے تھے وہ اپنے شاگرد ارشاد جالندھری کو اپنے ساتھ لے جاتے جس وجہ سے آپ نے اپنے استاد محترم کی زندگی میں فن کا لوہا منو ا لیا ۔

فیس بک کمینٹ
image_print




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*