لطیفی صاحب اور جنت کا شارٹ کٹ ۔۔ مشتاق احمد یوسفی


zar guzasht
  • 19
    Shares

بینک کی ملازمت میں پہلے پہل جس افسر کی ماتحتی میں کام شروع کیا وہ لطیفی صاحب تھے جو نہایت ملنسار، خوش خُلق اور باتدبیر تھے۔ اُن کی اہلیت اُن کے حوصلوں کے ساتھ قدم ملا کر نہیں چل سکتی تھی۔ سیدھی سڑک سے اُنہیں سخت الجھن ہوتی تھی، ہمہ وقت “شارٹ کٹ” کی تلاش میں رہتے خواہ وہ کتنا ہی اوبڑ کھابڑ کیوں نہ ہو۔ دشمنوں نے اُڑا رکّھی تھی کہ چوری چھپے پانچ بسیں چلاتے ہیں جن کی آمدنی کو ہر مہینے گیارہویں کی نیاز دلوا کر پاک کر لیتے ہیں، آخر جنّت کا بھی تو کوئی شارٹ کٹ ہو گا۔نگاہِ بدبِیں نے کہاں کہاں اُن کا تعاقّب نہ کیا۔ اتوار کو دیکھا کہ اینگلو انڈین بھبوکا چھوکریوں کو کار میں بھر کے نہلانے دھلانے “Sand’s Pit” لے جا رہے ہیں۔ ابھی کار کی سیٹیں ٹھیک سے ٹھنڈی بھی نہیں ہوئی ہوں گی کہ دیکھا اُسی کار میں اٹااَٹ مولوی ٹھونسے شبینہ پڑھوانے گھر لے جا رہے ہیں اور ڈِکّی میں اُتنے ہی عدد مرغیاں بھری ہوئی ہیں۔
سنیچر کی رات کو “La Gourmet” میں اِس طرح ڈانس کرتے دیکھے گئے کہ دُور سے تو یہی لگتا تھا کہ ابھی تو پنجے لڑا رہے ہیں، دم کے دم میں گُتھ مریں گے۔ اہلِ درد نے اُنہیں پاک پتن میں روضے کی جالی پکڑے اشکبار بھی دیکھا۔ خود ہم نے اُنہیں 1952 میں جُھگیوں میں سات روپے سیر کے بمبئی کے آم تقسیم کرتے دیکھا۔ کہتے تھے، “روٹی تو رُوکھی سُوکھی سب کو مل جاتی ہے، قلمی آم غریبوں کو برسوں نصیب نہیں ہوتے۔” بقر عید پر پندرہ بیس بکرے ذبح کرواتے تھے تاکہ گورنمنٹ کے بڑے افسروں کو سالم رانیں بھیج سکیں۔چھوٹے بڑے ہر بزنس مین سے اُن کی یاد اللہ تھی، سب سے جُھک کر ملتے۔ پورے سے بھی زیادہ سُود وصول کرتے اور تاکید و تقاضے میں بھی شہد گھول دیتے۔ اپنا کام نکالنا جانتے تھے۔ زمین میں ذرا سا بھی سوراخ کرنا ہو تو پوری قوّت سے کُدال چلانی پڑتی ہے لیکن خاک بسر بیج، کومل، کھوے اور نرم و نازک پنیری کس دھیرج سے اُسی زمین کو ایک ادا سے رضامند کر کے نکل آتے ہیں۔لطیفی صاحب کو کامیاب ہونے میں دیر نہیں لگی، اِس لئے کہ دنیا جس زاویہ سے کج ہے اُسی زاویہ تک اُنہوں نے اپنی رفتار، گُفتار اور کردار میں کجی پیدا کر لی تھی۔ فرماتے تھے، “بزنس میں صرف گھاٹا حرام ہے، باقی سب چلتا ہے۔ زندگی ایک ناٹک ہے، ہر آدمی سوانگ بھر کے اپنا اپنا ڈائلاگ بولتا ہے۔ جھوٹ سچ کا سوال کہاں؟ کٹھ پُتلیوں کے لئے کیا پاپ، کیا پُن؟”

زرگزشت سے اقتباس

Views All Time
Views All Time
235
Views Today
Views Today
1
فیس بک کمینٹ




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*