”دستک نہ دو‘ الطاف فاطمہ“۔۔ہزارداستان/مستنصر حسین تارڑ




mustansar hussain tararr columns at girdopesh.com

میرا خیال ہے کہ لونئیل عہد کی وہ رہائش گاہ ‘ وہ کوٹھی‘ جس کے برآمدے بیلوں سے ڈھکے ہوئے تھے اور بیلوں پر سارا دن دھوپ ٹھہری رہتی تھی اور ایک وسیع اجاڑ سا باغ اس کے گرد پھیلا ہوا تھا۔ چند شجر تھے لیکن ان میں پرندے بہت تھے۔ وہ رہائش گاہ میرا خیال ہے کہ اب تک لاہور کی دیگر قدیم عمارتوں کی مانند ایک کھنڈر ہو چکی ہو گی۔ سینٹ انتھونی چرچ کے تقریباً پہلو میں۔ لارنس روڈ پر واقع وہ طویل برآمدوں والی کوٹھی ا?ج سے تقریباً نصف صدی پیشتر آباد تھی۔ بیلوں پر پھول کھلتے جاتے تھے۔ برآمدوں میں خوش نما غیر ملکی لڑکیاں ہنستی پھرتی تھیں۔ پرندے سارا دن ک±وکتے رہتے تھے اور ک±ہرے کی ماری خشک گھاس والے لان میں ایک تخت پوش پر اپنے اردگرد کتابیں‘ امتحانی پرچے اور مسودے سجائے الطاف فاطمہ ناول لکھا کرتی تھیں۔ آج سے تقریباً نصف صدی پیشتر۔ میں تب ریگل چوک کے پار لکشمی مینشن میں رہتا تھا۔ ہفتے میں ایک آدھ بار ادھر جا نکلتا اور تخت پوش کے سامنے ایک گارڈن چیئر پر بیٹھا سردیوں کی نِگھی دھوپ سے لطف اندوز ہوتے الطاف فاطمہ سے باتیں کرتا رہتا۔ تب وہ اسلامیہ کالج کوپر روڈ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہوا کرتی تھیں۔ ریڈیو پر باقاعدگی سے پروگرام کیا کرتی تھیں۔ ان کی آواز میں ایک مدھر دھیما پن تھا۔ تیز نہ تھی۔ ڈرامائی نہ تھی۔ ایک د±ھند بھرے خواب کی مانند دھیرے دھیرے کانوں میں اترتی تھی۔ ان کا لہجہ بھی کومل سروں والا تھا۔ ریڈیو پر اگر میزبان اہل زبان ہوتے تو وہ اپنے شین قاف کی ادائیگی یوں کرتے کہ الجھن ہونے لگتی اور جو نااہل زبان ہوتے وہ اپنے شین قاف کے ساتھ پنجہ آزمائی کرتے رہتے۔

الطاف فاطمہ کی آواز ان سب سے الگ اور قدرتی تھی۔ وہ پرندوں کی مانند سوچ سمجھ کر نہ کوکتی تھی۔ اس کی روح بولتی تھی اور مجھے اقرار کر لینے دیجیے کہ الطاف کے سوا اس قدیم رہائش گاہ میں میرے لئے ایک اور بھی کشش تھی۔ وہ غیر ملکی بلکہ اکثر امریکی لڑکیاں برکلے یونیورسٹی کی اردو سیکھنے کے لئے لاہور وارد ہوتیں تو وہ الطاف کے ہاں پے انگ گیسٹ کے طور پر قیام کرتیں۔ برآمدوں میں قلیلیں کرتی ہنستی پھرتیں اور اپنے تئیں اپنی اردو درست کرنے کی خاطر نہائت سنجیدگی سے میرے ساتھ اٹک اٹک کر گفتگو کرتیں۔ بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ رفیق حسین ان کے ماموں لگتے تھے۔ انہوں نے جانوروں کے بارے میں جو حیرت انگیز کہانیاں لکھیں ان کی مثال اردو میں تو کیا دنیا بھر کے ادب میں کہیں نہیں ملتی۔ اگرچہ وہ شکار کے شوقین تھے لیکن میری سمجھ میںنہیں آتا کہ وہ جانوروں کی نفسیات۔ ان کے رہن سہن سے تو آگاہ تھے لیکن وہ کیسے ان کی مانند سوچ سکتے تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے اس جانور کا دماغ رفیق حسین کے سَر میں منتقل ہو گیا ہے۔ وہ خود ایک نیل گائے ہو گئے ہیں۔ ایک بارہ سنگھا یا گھوڑا ہو گئے ہیں۔ الطاف کو رفیق حسین کے ساتھ میرے قلبی لگاﺅ کا علم تھا کہ میں بھی جانوروں اور پرندوں سے بہت قربت محسوس کرتا تھا۔ چنانچہ اکثر ان کا ذکر چھڑ جاتا کہ کیسے مستقل مزاجی ان کی خصلت میں نہ تھی۔ کبھی ملازمت چھوڑ دیتے۔ غائب ہو جاتے کبھی کسی ایک مکوڑے پر پہروں جھکے رہتے کہ یہ کیسے حرکت کرتا ہے۔ اس کی بناوٹ کیسی ہے۔ کھاتا کیا ہے اور پھر الطاف ہنس کر کہتیں”وہ تھوڑے سے باﺅلے تھے“ اور میں نہائت سنجیدگی سے کہتا۔ اس کا مطلب ہے کہ باﺅلا پن خاندان میں چلا آتا ہے کہ الطاف بھی کچھ باﺅلی سی تو تھیں۔ شہرت اور ناموری سے بیزاری کی حد تک گریزاں۔ حکومتی ایوارڈز کا میں گواہ ہوں کہ متعدد بار منت سماجت کے ساتھ پیشکش۔ ایک بھاری رقم کی نوید۔ لیکن انہوں نے ہمیشہ نہائت لجاجت سے معذرت کر دی۔ ایک مرتبہ پرائڈ آف پرفارمنس کو بھی قبول نہ کیا حالانکہ ان دنوں ان کی گزر اوقات مشکل سے ہوتی تھی۔ کہنے لگیں کہ اس کی بجائے مجھے ترجمے کا کوئی پروجیکٹ دے دیجیے۔ مجھے رقم کی ضرورت ہے لیکن حکومت سے نہ لوں گی۔ کبھی کبھار کسی ادبی محفل سے واپسی پر میں انہیں اپنے سرخ ہونڈا موٹر سائیکل پر بٹھا کر گھر چھوڑنے جاتا تو خوفزدہ ہی رہتیں۔ بھئی آہستہ چلاﺅ‘ دم نکل رہا ہے۔ ”آہستہ‘ ‘ تو میں کہتا‘ بیس کلو میٹر کی رفتار ہے بی بی۔ اس سے آہستہ تو یہی ہو سکتا ہے کہ ہم موٹر سائیکل دھکیلتے پیدل چلتے جائیں۔ گھر پہنچ کر وہ زیر لب جانے کیا کیا پڑھتیں۔ ان دنوں ان کے ناول”دستک نہ دو“ کا بہت چرچا تھا اور یہ ایک بہت مختلف نوعیت کا نہائت شاندار ناول تھا جس کے کردار کمال کے تھے۔ مجھے تو ان کی جس چیز سے جادو ہو جاتا تھا وہ ان کی زبان اور بے پناہ تخلیقی قوت کا بہاﺅتھا۔ وہ صرف ایک فقرے میں وہ کچھ بیان کر جاتیں جس کے لئے میں پورا صفحہ لکھتا تو بھی تشنگی باقی رہ جاتی۔ میں انہیں قرة العین حیدر ‘ نثار عزیز بٹ اور جمیلہ ہاشمی کے پہلو بہ پہلو بلکہ اکثر ان سے بھی قد آور ہوتی شمار کرتا ہوں۔ کیا کسی نے ان کے زوال بغداد کے بارے میں افسانے پڑھے ہیں؟ میری طرح وہ بھی اندلس کے طلسم میں گرفتار تھیں”مستنصر‘میںنے بچپن میں“ ٹیلز آف الحمرا“ پڑھیں۔ اس وقت سے بہت پہلے میری والدہ نے مسدس حالی کے اشعار”کوئی قرطبہ کے کھنڈ ر جا کے دیکھے“والے تمام بند زبانی یاد کروائے تھے۔ پھر میں نے طالب علم کی حیثیت سے ”مسجد قرطبہ“ پڑھی۔ استاد کی حیثیت سے پڑھاتی رہی اور بے تابی بڑھتی گئی۔ میری روح اب بھی اکثر وادی الکبیر اور غرناطہ کے اطراف میں سرگرداں ہو جایا کرتی تھی۔ تشنگی اور دید کی تڑپ آسودہ نہ ہوئی۔ لیکن تمہاری تصنیف ”اندلس میں اجنبی“ پڑھ کر جیسے روح کو چین آ گیا۔ سیرابی آسودگی کا وہ لازوال احساس اب میرے فانی وجود کا ایک ایسا حصہ بن گیا ہے جو شائد بعد فنا بھی فنا نہ ہو۔ یہ تمہاری تحریر کے معجزے نے ایسا ممکن کر دیا۔ دوران مطالعہ ہی نہیں کئی روز تک میں یہاں موجود نہ تھی۔ وہاں تھی۔ بس میں تو صرف یہی کہہ سکتی ہوں کہ سبحان اللہ‘ خبر اک اللہ! (ایک خدا سے اقتباس) میں بعدازاں ”ماہ نو“ کے دفتر کشور کے ہاں جاتا تو کنج گلی تو وہیں تھی۔ الطاف فاطمہ سے ضرور مل کر آتا۔ وہ وقت سے پہلے بوڑھی ہو گئی تھیں اور میں کہتا”آپا‘ آپ شادی کر لیتیں تو آج یوں تنہا تو نہ ہوتیں“ اور وہ پوپلے منہ سے مسکرانے لگتیں۔ لارنس روڈ کے زمانوں میںایک مرتبہ میمونہ نے ان سے کہا ”آپا آپ نے شادی کیوں نہیں کی؟“تو حسب عادت خوشدلی سے بولیں”بھئی ہمیں تو کچھ انکار نہ تھا۔ کسی نے پوچھا ہی نہیں ”ان کے شادی نہ کرنے میں کوئی نہ کوئی بھید تھا ورنہ وہ جوانی میں ایک بہت دل کش خاتون ہوا کرتی تھیں۔ پھر فون پر بھی ان کی آوازیں لکنت در آتی۔ بولنے میں دشواری ہونے لگی۔ محمود الحسن باقاعدگی سے انہیں میراسلام پہنچاتا اور وہ بہت دعائیں دیتیں۔ایک بار میں نے بہت کوشش کی کہ وہ اپنا وہ ناشر ترک کر دیں جو قدرے لاپرواہ ہے اور رائلٹی بھی کم کم نصیب ہوتی ہے اور وہ میرے ناشر کو اپنی کتابیں سپرد کر دیں جو بہت مناسب رائلٹی ادا کرے گا اور ان کا گزارہ سہولت سے ہو جائے گا۔ کہنے لگیں ”مستنصر ‘ اب چار پیسوں کے لئے ناشر کے ساتھ عمر بھر کا ساتھ چھوڑ دوں۔ مجھے اچھا نہیں لگتا۔ بعدازاں میری فرمائش پر فرخ سہیل گوئندی نے ان کی تمام کتابیں بطریق احسن شائع کیں اور الطاف فاطمہ کے نصیب میں کچھ خوشی آ گئی۔ زمانے نے ان کی قدر نہ کی تو انہوں نے بھی زمانے کو درخور اعتنا نہ سمجھا کہ وہ کسی ایک زمانہ کی نہیں‘ زمانوں کی ادیب تھیں۔ ان کے ناول ”دستک نہ دو“ کے حوالے سے مجھے ہمیشہ ایورلی برورز کا وہ گیت یاد آتا ہے کہ ”کیپ آن ناکنگ بٹ یو کانٹ کم اِن“ یعنی دستک دیتے رہو لیکن تم اندر نہیں آسکتے۔ اب ک±نج گلی کے مکان کے دروازے پر آپ دستک دیتے رہیے لیکن آپ اندر نہیں جا سکتے کہ جو دروازہ کھولا کرتی تھی وہ تو چلی گئی اس لئے‘ دستک نہ دو!
(بشکریہ:روزنامہ 92نیوز)

Views All Time
Views All Time
49
Views Today
Views Today
2




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*