کالملکھاری

ناہید سکندر مرزا ایوان صدر سے جلا وطنی تک ..تنویر احمد

پاکستان کے پہلے صدر اسکندر مرزا کی بیوی ناہید اسکندر مرزا لندن میں انتقال کر گئیں۔ بیگم ناہید مرزا دیار غیر میں اس وقت سے مقیم تھیں جب ان کے شوہر اسکندر مرزا کو فیلڈ مارشل ایوب خان نے 7 اکتوبر 1958کے مارشل لاء کے نفاذ کے بیس دن بعد قصر صدارت سے بے دخل کر کے انہیں جلا وطن کر دیا۔ 27 اکتوبر کی شب اگرچہ اسکندر مرزا نے استعفیٰ دیا لیکن اس کے پس پردہ ایوب خان کا دباؤ تھا جو ہر صورت میں صدر کا منصب سنبھالنا چاہتے تھے۔ بیگم ناہید مرزا اپنے شوہر سے ناخوش تھیں کہ انہوں نے ایوب خان کو سپریم کمانڈر اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنا کر اپنے ہاتھ پاؤں کٹوا لیے۔ اس موضوع سے پہلے بیگم ناہید مرزا کے ایوان صدر میں گزرے شب و روز پر بات ہو جائے۔ ناہید مرزا کی اسکندر مرزا سے شادی 1954 میں ہوئی اور کچھ عرصے کے بعد وہ خاتون اول بن کر ایوان صدر کی مکین بن گئیں جب اسکندر مرزا پہلے گورنر جنرل اور پھر صدر پاکستان کے عہدے پر متمکن ہوئے۔ شروع شروع میں ناہید مرزا مغربی لباس زیب تن کرتی تھیں لیکن خاتون اول بننے کے بعد سرکاری تقریبات میں ساڑھی باندھ کر شریک ہوتی تاکہ ان کی ننگی ٹانگیں ہدف تنقید نہ بن جائیں اور شوہر کے لیے کوئی مسئلہ کھڑا نہ جائے۔



م ب خالد جنہوں نے ایوان صدر میں تین سربراہ مملکت غلام محمد، اسکندر مرزا اور ایوب خان کے ساتھ کام کیا اپنی تصنیف “ایوان صدر میں سولہ سال” میں لکھتے ہیں، “ایوان صدر میں اسکندر مرزا سیاست کی بساط پر اپنے پسند کے مہرے سجانے میں مصروف تھے تو بیگم ناہید مرزا نے گھر کا چارج سنبھال لیا۔ سب سے پہلے کمروں کی آرائش و زیبائش پر توجہ دی۔ فرنیچر، پردے ، قالین اور فانوس سب بدل گئے۔ کمروں کو مرتب کرنے کے بعد گارڈن کی باری آئی”. بیگم ناہید مرزا نے اپنے شوہر پر کئی قدغنیں لگا رکھی تھیں۔ مثال کے طور پر شام کے وقت وہ صرف دو پیگ وہسکی لگا سکتے تھے ۔ تیسرے پیگ کی اجازت نہ تھی۔ طلب کرنے پر انکار ہو جاتا۔ البتہ وہ شوہر سے سگریٹ نہ چھڑوا سکیں۔ اسکندر مرزا چین اسموکر تھے اور گفتگو کے دوران بھی وہ سگریٹ کو ہونٹوں سے جدا نہ کرتے تھے حتیٰ کہ راکھ جھاڑنے کی بھی زحمت گوارا نہ کرتے تھے۔ گفتگو کرتے ہوئے سگریٹ تھرکتی تو راکھ خود بخود گر جاتی۔



ناہید خانم کا ذوق لطیف بھدی چیزوں کو پسند نہ کرتا تھا اسلیے انہیں چیل، گدھ اور کوؤں سے نفرت تھی۔ مالیوں کو حکم تھا کہ ان پرندوں کو کسی دیوار یا درخت پر نہ بیٹھنے دیں۔ ایوان صدر کے مالی سارا دن ان پرندوں کو اڑانے کے لیے ایک کونے سے دوسرے کونے میں بھاگتے پھرتے۔ بیگم ناہید مرزا نے لان کے اس حصے میں جو ان کی خواب گاہ کے قریب تھا ایک خوبصورت سوئمنگ پول بنوایا جو اس وقت کراچی میں اپنی نوعیت کا واحد سوئمنگ پول تھا۔ اس سے لطف اندوز ہونے کے لیے ناہید مرزا غیر ملکی اور پاکستانی خواتین کو مدعو کرتیں۔ کہتے ہیں کہ اس وقت کے پاکستان میں امریکی سفیر کی دختر اور اسکندر مرزا کے اے ڈی سی کیپٹن سعید کی دوستی اسی پول میں پروان چڑھی۔



ستائیس اور اٹھائیس اکتوبر کی شب بیگم ناہید مرزا کے مزاج کی تلخی دیدنی تھی۔ وہ اپنے شوہر کے اس فیصلے پر ناخوش تھیں کہ سات اکتوبر کے مارشل لاء کے بعد انہوں نے صدر کے عہدے ہی پر اکتفا کیا۔ ان کی خواہش تھی کی اسکندر مرزا صدر کے ساتھ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ہوتے اور ایوب خان کو ڈپٹی چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کرتے۔ اس لیے سات سے ستائیس اکتوبر کی شب تک میاں بیوی میں تندو تیز تکرار ہوتی۔ ایوب خان کے مارشل لاء کے نفاذ میں کلیدی کردار ادا کرنے والے لیفٹیننٹ جنرل خالد محمود شیخ کا بیان ہے کہ جب انہوں نے جنرل اعظم اور جنرل برکی کے ہمراہ اسکندر مرزا سے استعفیٰ پر دستخط لیے تو بیگم ناہید مرزا موجود نہ تھیں ورنہ تلخ کلامی کا قوی امکان تھا۔ تاہم م ب خالد لکھتے ہیں کہ ایک دوسری روایت کے مطابق جب تینوں جنرل اسکندر مرزا کے بیڈ روم میں ان کا استعفیٰ لینے گئے تو وہ بغیر کسی مزاحمت کے آمادہ ہو گئے لیکن بیگم مرزا چیخ چیخ کر بولنے لگیں۔ ان کی چیخنے کی آوازیں ایوان صدر کے ملازمین نے سنیں۔ پھر ایک “چٹاخ” کی آواز ابھری اور پھر مکمل سکوت طاری ہو گیا۔



جب صدارت سے فراغت کے بعد میاں بیوی کو روانہ کیا جا رہا تھا تو اس کی بابت الطاف گوہر اپنی تصنیف”ایوب خان ” میں لکھتے ہیں کہ بریگیڈیئر نوازش نے اسکندر مرزا کے بیڈ روم کے دروازے پر دستک دی اور اجازت ملنے پر اندر داخل ہوا۔ اسکندر مرزا سلیپنگ گاؤن میں کمرے میں اضطرابی کیفیت میں چل رہے تھے۔ بیگم ناہید مرزا اپنا سامان باندھ رہی تھیں۔ بریگیڈیئر نوازش کو دیکھ کر بیگم ناہید مرزا بولیں” کیا ہم اس کے حقدار ہیں جو ہمارے ساتھ ہو رہا ہے”. اسکندر مرزا اور ناہید مرزا کو ماڑی پور ائیرپورٹ سے کوئٹہ پہنچا دیا گیا۔ ایک ہفتے بعد میاں بیوی کو واپس کراچی لایا گیا اور لندن روانہ کر دیا گیا۔ جب دونوں کو لندن جلا وطن کیا جا رہا تھا تو بیگم ناہید مرزا بہت شکستگی اور افسردگی کی حالت میں تھیں۔ چھ عشرے قبل “چٹاخ” کی آواز کے بعد خاموش ہونے والی ناہید مرزا لندن میں ہمیشہ کے لیے خاموش ہوئی تو اس ملک کے بد قسمت ماضی میں گزرے واقعات کو زبان مل گئی۔
( بشکریہ : ہم سب لاہور )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker