معروف افسانہ نگار پروین عاطف انتقال کر گئیں


راول پنڈی :معروف افسانہ نگار اور مصنفہ پروین عاطف ہفتے کے روز راولپنڈی میں انتقال کر گئیں ۔ وہ ہاکی کے مشہور کھلاڑی برگیڈئیر عاطف کی اہلیہ اور نامور ادیب اور صحافی احمد بشیر کی ہمشیرہ تھیں۔پروین عاطف کی عمر 83 سال تھی ۔ ان کا جنم 1935ء میں گوجرانوالہ کے قریب ایمن آباد میں ہوا۔ ان کے والد غلام حسین تاریخ اور فارسی میں ایم اے تھے۔ عمر بھر تدریس سے وابستہ رہے، جو کہ شاعر بھی تھے۔ والدہ زیادہ تعلیم یافتہ نہ تھیں لیکن فنون لطیفہ سے شغف تھا اور ’’نقوش‘‘ جیسے معیاری ادبی جریدے ان کے زیر مطالعہ رہتے۔ پروین عاطف کے ایک بھائی احمد بشیر بھی ملک کے نامور صحافی اور ادیب تھے۔ ان کے دوسرے بھائی اختر عکسی بھی لکھنے کی طرف مائل تھے۔ اسی طرح ان کا ایک بھائی فرخ ڈھائی برس کی عمر میں ہی پولیو کے مرض میں مبتلا ہوا اور پھر تمام عمر اس روگ کے ساتھ کے ساتھ ہی ساری زندگی گزارنا پڑی۔ پروین عاطف اپنے بھائی احمد بشیر کے ساتھ لاہور آگئیں۔ مدرستہ البنات سے تعلیمی سفر کا دوبارہ آغاز کیا جو پنجاب یونیورسٹی ایم اے سوشیا لوجی پر جا کر رکا۔ ایم اے کے دوران ان کی نسبت ہاکی کے مشہور کھلاڑی اور اولمپیئن برگیڈئیر عاطف سے طے ہو گئی۔ انہیں احمد بشیر نے پسند کیا تھا۔ ان کے دو بیٹے ہیں ڈاکٹر گل عاطف اور شان عاطف، دو بیٹیاں ظل عاطف اور شکوہ عاطف ہیں۔ جب کہ مشہور ادیبہ نیلم احمد بشیر اور معروف اداکارہ بشری انصاری ان کی بھتیجیاں ہیں۔ پروین عاطف بنیادی طور پر افسانہ نویس تھیں۔ وہ سولہ برس تک پاکستان وومن ہاکی فیڈریشن کی صدر رہیں۔ اور کئی برسوں تک ایک قومی اخبار میں کالم’’ میں سچ کہوں گی‘‘ کے عنوان سے لکھتی رہیں اور اس کے علاوہ انہوں بے شمار ملکوں کی سیر وسیاحت بھی کی جس کا تفصیل سے ذکر ان کے سفر ناموں میں ملتا ہے۔
تصانیف:
ٹپر وَاسنی
بول میری مچھلی (افسانے)
میں میلی پیا اُجلے (افسانے)
عجب گھڑی عجب افسانہ (افسانے)
ایک تھی شادی (افسانے)
صبح کاذب
کرن تتلی اور بگولے

فیس بک کمینٹ
image_print




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*