اہم خبریں

یوم کشمیر پر ملک بھر میں ریلیاں : بھارت کالے قانون ختم کرے .. صدر علوی

اسلام آباد: پاکستان سمیت دنیا بھر میں بھارتی مظام کے خلاف کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا ۔اس دن کو منانے کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا اور یہ باور کرانا ہے کہ کشمیر پاکستانی کی شہ رگ ہے، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے عوام کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور ظلم و جبر کے خلاف ہیں۔ خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کئی لاکھ بھارتی فوجیوں سے لڑ رہے ہیں تاکہ وہ بین الاقوامی سطح پر اپنے حق خود ارادیت کو حاصل کرسکیں۔



یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں پاکستان کے مختلف شہروں میں تقاریب منعقد کی جارہی ہیں جبکہ جلسے، جلوس اور ریلیاں بھی نکالی گئیں ، ساتھ ہی اسلام آباد کے ڈی چوک پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی اور ملک بھر میں صبح 10 بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرکے کشمیری عوام کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اس دن کے حوالے سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خصوصی پیغامات دیئے، جن میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا گیا۔ صدر ڈاکٹرعارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے الگ الگ پیغامات میں کشمیری عوام کو ایک مرتبہ پھر یقین دلایا کہ پاکستان کا مسئلہ کشمیر پر اصولی مؤقف ہمیشہ برقرار رہے گا۔



مظفر آباد میں آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے مطالبہ کیا کہ بھارت معصوم کشمیریوں کے خلاف اپنی دہشت گردی کی وضاحت کرنے کی کوشش کے بجائے کشمیری عوام کو حقوق فراہم کرے۔
صدر عارف علوی نے اپنے خطاب میں بھارتی حکومت سے چند مطالبات کیے جو مندرجہ ذیل ہیں:
تمام سیاسی قیدیوں کو آزاد کیا جائے
آزادی اظہار رائے کا حق دیا جائے
شہریوں کے خلاف آتشی اسلحے کے استعمال پر پابندی لگائی جائے
پیلٹ گنز کے استعمال پر پابندی لگائی جائے۔
دشمنی کے’کالا قانون‘ کا خاتمہ کیا جائے۔
مقبوضہ کشمیر کے رہنماؤں کو آزادانہ طور پر کہیں بھی جانے اور بین الاقوامی سطح پر اپنا مسئلہ بیان کرنے کی اجازت دی جائے۔
بین الاقوامی مبصرین کو مقبوضہ کشمیر تک رسائی دی جائے تاکہ وہ خود صورتحال کا جائزہ لے سکیں۔
پیغام پہنچانے والے برقی آلات پر پابندی کا خاتمہ کیا جائے۔
صدر مملکت نے بھارتی حکومت سے کشمیر میں مواصلات نظام پر پابندی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا سے معلوم ہوسکے کے وہاں کیا ہورہا ہے۔ انہوں نے بھارتی حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر آپ حق پر ہیں تو دنیا آپ کی بات جان لے گی لیکن اگر آپ غلط ہیں تو بھی دنیا کو معلوم ہوجائے گا‘۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے حقائق جاننے والے کمیشن کو مقبوضہ کشمیر روانہ کرنے اور پاکستان اور بھارت سے کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ اپنے خطاب میں صدر مملکت کا مزید کہنا تھا کہ’میں کشمیری عوام کی جدوجہد کو سلام پیش کرتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان آپ کے ساتھ ہے’۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker