زینب کی نماز جنازہ : قصور میں ہنگامے ، دوافراد ہلاک ، رینجرز طلب




قصور : قصور میں اغوا کے بعد قتل ہونے والی 8 سالہ بچی زینب کے والدین نے کہا ہے کہ ہمارے ساتھ ظلم ہوا ہے اور ہمیں انصاف چاہیے، بچی کی تدفین تب تک نہیں کریں گے جب تک انصاف نہیں مل جاتا۔عمرے کی ادائیگی کے بعد جدہ سے اسلام آباد پہنچنے پر کمسن بچی کے والد محمد امین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے کوئی تعاون نہیں کیا لیکن دوستوں نے ہمارا ساتھ دیا۔انہوں نے کہا کہ ویڈیو میں ملزمان کی شناخت بھی ہوگئی لیکن پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی نہ کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ زینب ہونہار بچی تھی، اسے سارے کلمے یاد تھے، مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ مصروف ترین بازار سے وہ کیسے اغوا ہوگئی۔اس سے قبل والد کی غیر موجود گی میں پاکستان عوامی تحریک ( پی اے ٹی ) کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے بچی کی نماز جنازہ پڑھائی تھی، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی۔واضح رہے کہ قصور میں 8 سالہ بچی کو اغوا کرنے کے بعد قتل کردیا گیا تھا جبکہ اس واقعے کے بعد علاقہ مکینوں نے سخت احتجاج کیا اور ڈی پی او آفس پر دھاوا بول دیا۔اس موقع پر مشتعل مظاہرین کی پولیس سے جھڑپ بھی ہوئی، اس دوران مبینہ طور پر فائرنگ سے 2 افراد ہلاک ہوگئے، جس کے بعد کشیدہ صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے رینجرز طلب کرلی۔خیال رہے کہ گزشتہ روز قصور میں شہباز خان روڈ پر کچرے کے ڈھیر سے 8 سالہ بچی کی لاش ملی تھی، جسے مبیہ طور ریپ کے بعد قتل کیا گیا تھا۔بچی کی لاش ملنے کے بعد اسے پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں اس کا پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد لاش کو ورثاء کے حوالے کردیا گیا تھا، تاہم اس حوالے سے رپورٹ میں بچی کے ساتھ مبینہ ریپ کی اطلاعات ہیں۔دوسری جانب اس واقعے کے بعد قصور کی فضا سوگوار ہے، ورثاء، تاجروں اور وکلاء کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا اور تاجروں نے مکمل طور پر شٹر ڈاؤن کرکے فیروز پور روڈ کو بلاک کردیا جبکہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن (ڈی بی اے) کی جانب سے بدھ کو عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا تھا۔خیال رہے کہ بچی 6 روز قبل جمعرات کو 8 سالہ زینب اپنے گھر کے قریب روڈ کوٹ کے علاقے میں ٹیوشن پڑھنے گئی تھی، جہاں اسے اغوا کرلیا گیا تھا، جس کے بعد گزشتہ روز پولیس کو زینب کی لاش شہباز خان روڈ پر کچرے کے ڈھیر سے ملی تھی۔اس واقعے کے حوالے سے ایک سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آئی تھی، جس میں ایک شخص کو بچی کا ہاتھ پکڑ کر لے جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا، تاہم پولیس اس واقعے کے ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام نظر آئی۔یاد رہے کہ قصور میں بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، ایک سال میں اس طرح کے 11 واقعات رونما ہوچکے ہیں، جن میں زیادتی کا نشانہ بنائی گئی بچیوں کو اغوا کرنے کے بعد ریپ کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا تھا جبکہ ان تمام بچیوں کی عمریں 5 سے 8 سال کے درمیان تھیں لیکن پولیس ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔

Views All Time
Views All Time
74
Views Today
Views Today
1
فیس بک کمینٹ

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*