قصور میں تیسرے روز بھی کشیدگی : زینب کے والد کا تحقیقاتی افسر کے مسلک پر اعتراض




قصور : جنسی زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی بچی زینب امین کے والد کے اعتراض کے بعد حکومت پنجاب نے معاملے کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سربراہ کو تبدیل کر دیا ہے۔کمسن زینب امین کے والد نے گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں قتل کی تحقیقات کے لیے قائم کی جانے والی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ کے مسلک پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان سے اپنی بیٹی کے قتل کی تحقیقات نہیں کروائیں گے۔بی بی سی کے مطابق اے آئی جی ابوبکر خدابخش کی جگہ آر پی او محمد ادریس کو اس تحقیقاتی ٹیم کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔ادھر قصور میں زینب کے ریپ اور قتل کے خلاف بدستور کشیدگی جاری ہے اور مظاہرین کی ایک بڑی تعداد اس وقت بھی سڑکوں پر موجود ہے۔زینب کے والد نے کچھ دیر قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پر امن احتجاج جاری رکھیں گے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے انھیں مجرموں کی جلد گرفتاری کی یقین دہانی کرائی ہے اور اس طرح سے املاک کو نقصان پہنچانے اور پرتشدد مظاہروں سے اس کیس کی تحقیقات کے لیے جاری کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔جمعرات کے روز بھی قصور میں اس واقعہ کے خلاف ہونے والے پرتشدد احتجاج کی وجہ سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان اپنا دورہ مختصر کرنے کے بعد واپس لاہور چلے گئے تھے۔دوسری جانب آج پاکستان کی قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے جس میں ارکان پارلیمان اس معاملے پر بھی اظہار خیال کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ حکمراں جماعت مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والے رانا مشہود نے قصور میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور جلد ہی اس کیس سے متعلق اہم خبر سنائی جائے گی۔خیال رہے کہ کمسن زینب امین کے قتل کی بہیمانہ واردات ہوئے چار دن گزر جانے کے بعد بھی اس جرم کی تحقیقات میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہو سکی ہے جبکہ حکومت پنجاب نے قاتل کی نشاندھی کرنے والے کے لیے ایک کروڑ روپے کے انعام کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔پنجاب حکومت کی جانب سے قصور میں سات سالہ زینب امین کے قتل کے لیے قائم کی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے جمعرات کو جائے حادثہ کا دورہ کیا اور مقامی افراد سے اس بارے میں معلومات اکھٹی کیں۔پنجاب کے ضلع قصور میں کمسن بچی زینب کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد کے بعد قتل کا یہ پہلا واقعہ نہیں اس سے پہلے ایک سال کے عرصے میں 11 واقعات رونما ہو چکے ہیں لیکن ان واقعات میں ملوث کسی ایک بھی ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

Views All Time
Views All Time
80
Views Today
Views Today
1
فیس بک کمینٹ

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*