آصف زرداری اور فریال نے ایف آئی اے سے جواب کا وقت مانگ لیا


zardari and faryal
  • 5
    Shares

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور جعلی اکاؤنٹس کی تحقیقات میں بدھ کو وفاقی تحقیقاتی ادارے کے روبرو پیش نہیں ہوئے۔ان کی جانب سے ایڈووکیٹ فاروق ایچ نائیک نے پیروی کی اور تفتیشی افسر سے 31 جولائی تک کا وقت طلب کیا۔فاروق ایچ نائیک کی جانب سے تحریری طور پر جمع کرائے گئے جواب میں تفتیشی افسر کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ ’آپ کے خط میں ظاہر کی گئی منتقلی 2014 کی ہے، جبکہ ایف آئی آر 2018 میں درج کی گئی تقریباً چار سال بعد، جو اس کو مشکوک بناتی ہے اور ایک ایسے وقت پر جب 25 جولائی کو عام انتخاب کا انعقاد ہو رہا ہے‘۔تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ ’میرے موکل کو جو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین ہیں اس خط کے ذریعے مصروف رکھنا ان کی انتخابی مہم کو متاثر کرنا ہے، یہ دستور پاکستان میں دیے گئے بنیادی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے، جو غیر جانبدار اور شفاف انتخابات کی ضمانت دیتا ہے‘۔فاروق ایچ نائیک کی جانب سے جمع کرائے گئے اس تحریری جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’یہ حقیقت ہے کہ میرا موکل زرداری گروپ کی روزمرہ کی منتقلیوں سے واقف نہیں ہیں، وہ صدر پاکستان کے منصب پر بھی فائز رہے ہیں اور آپ کی تحقیقات میں مکمل طور پر تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ خود پیش ہوں گے یا اپنے وکیل کے ذریعے 25 جولائی سے 31 جولائی تک اپنا جواب پیش کریں گے، لہذا آپ سے گزارش کی جاتی ہے کہ 31 جولائی تک کا وقت دیا جائے‘۔آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کی جانب سے بھی اسی نوعیت کا تحریری جواب جمع کرایا گیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ وہ پاکستان پیپلزپارٹی خواتین وِنگ کی سربراہ ہیں اور پی ایس 10 لاڑکانہ سے انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔تفتیشی افسر کو فاروق ایچ نائیک نے تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ فریال تالپور الیکشن مہم میں مصروف ہیں جس کی وجہ سے تمام ریکارڈ جمع کر کے جواب دینا ممکن نہیں ہے لہذا انہیں بھی مہلت دی جائے۔

Views All Time
Views All Time
54
Views Today
Views Today
1
فیس بک کمینٹ




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*