نوشی گیلانی سے مکالمہ 2 ( سخن ور فورم میں سعید خان سے ملاقات ) ۔۔ سجاد پرویز


noshi gilani baithak
  • 193
    Shares

س۔ آپ کی شاعری میں دو الفاظ کا استعمال ”محبت “ اور ” ہوا “ جابجا ملتا ہے اس کا کیا پس منظر ہے؟
ج۔ ہوا سفر کا استعارہ ہے دیکھئے میں نے جیسے آپکو بتایا کہ تحرک میرا استعارہ ہے، ہوا میرا استعارہ ہے کہ میرے لئے شاعری ایک سفر کی طرح ہے اور وہ ایک لحن کی صورت میں کبھی میں اسے سمندر، پانی بہاولپور کے صحرا میں ہوا ہی تھی تو پھر اس کے بعد جب ہم جزیروں کے سفر پر نکلے سان فرانسسکو میں تو سمندر کا تجربہ بھی ساتھ شامل ہو گیا تو اس لئے ہوا مجھے ہمیشہ سے ایسے لگتی ہے کہ جیسے اس کی اور میری روح ایک ہے تو اس لئے اب اس کی اور کیا.Creative Logic ہو گی ؟مجھے نہیں پتا لیکن ایسا ہی ہے میرے ساتھ۔
س۔ اور محبت؟
ج۔ دیکھیئے محبت تو زندگی ہے زندگی کا دوسرا نام ہی محبت ہے۔ انسان پیدا ہی اس لئے کیا گیا کہ وہ محبت کرے۔ ہم اپنے آپ کو اپنے وجود کو محسوس ہی کیسے کر سکتے ہیں محبت کے بغیر۔ محبت کے گھیراؤ میں رہے بغیر اور یہ وہ والا سوال مجھ سے بالکل نہیں کرنا کہ محبت میں ناکامی کس وجہ سے ہوئی (لمبا قہقہہ) یہ وہ والی محبت نہیں ہے محبت ایک بڑے کینوس میں اپنے آپ کو دریافت کرنا ہے۔ کیونکہ اکثر وہ ہو جاتا ہے۔
س۔ آپ کی کتب کے کتنی زبانوں میں اب تک تراجم ہو چکے ہیں؟
ج۔ Leeds یونیورسٹی نے میری بہت سی نظمیں کیں اورGreen Law نے اسے کیا اور پھر ملائے زبان میں ہوا ہے۔ یونانی زبان میں اس کا ترجمہ ہوا ہے اور ابھی بھی کر رہے ہیں وہ لوگ۔ امریکہ میں ایک بہت بڑی آرٹ گیلری ہے وہاں لائیبریری آف کانگرس میں بھی میری پہلی کتاب خاص طور پر موجود ہے اور پھر اس کتاب کی نظموں سے اس کی ٹرانسلیشن کی گئی ہیں۔ اس سے پھر بڑی بڑی پینٹنگز بنائی گئی ہیں،موضوعات کو سامنے رکھ کر۔ تو وہ ایک سلسلہ رہا اللٰہ تعالٰی کا بہت احسان رہا کہ شائد میری محنت اتنی نہیں رہی جتنا اس نے مجھے اجر دیا اور جہاں بھی گئے شاعری ہوا کی طرح ساتھ رہی۔
س۔ آپ نے شاعری میں زیادہ تر نظم کو اپنا ذریعہ اظہار بنایا یا غزل کو؟
ج۔ دیکھیئے مزاج میں تو نظم میری سہیلی ہے اور ابتدا میں تو نظم کے بہت ہی قریب تھی اور اب بھی اگر وہ ایک خاص رومانوی فضا بڑھتی ہے تو نظم مجھے ابھی بھی اتنی قریب محسوس ہوتی ہے مگر اب تقریباَ دو دہائیوں سے غزل کا لطف بہت لیتی ہوں لکھتے ہوئے،اس کی نشست و برخاست، اس کا مزاج اور شائد وہ عمر کی میچورٹی کے ساتھ آپ کو غزل کا لہجہ زیادہ ہم آہنگ محسوس ہوتا ہے مگر ابتدا میں سفر کا آغاز بھی نظم سے ہی نظم سے تعلق بہت قریب کا تھا اور ابھی بھی نظم سے میری محبت پہلے دن والی ہے۔
س۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک تخلیق کار جب زمانے کی کٹھنائیوں کا مقابلہ کرتا ہے، سردو گرم موسموں کا مقابلہ کرتا ہے تو کیا اس کے اثرات اُس کے ذریعہ اظہار پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں؟
ج۔ ہاں بالکل کیوں نہیں جب آپ شعور کی منزلیں طے کرتے ہیں،آپ کے اندر کے موسم بدلتے ہیں، آپ کی باہر کی فضا بدلتی ہے اور وہ آپ کے شاعری کے موضوعات کو بدل دیتی ہے۔ اب کسی زمانے میں ہم جو کہتے تھے کہ ہم اپنے شہر کی ایک ایک دُشنام کے اوپر بات کرتے تھے مگر اب ہم کہتے ہیں کہ
بہت ہیں بارشیں سنگِ ملامت کی
مگر ہم صورتِ کہسار چپ
تو وہ آ وازے سے خاموشی تک کا سفر، احتجاج سے متانت تک کا سفر۔ اس میں آپکی شاعری کا لہجہ بدل جاتا ہے۔ کیونکہ آپکی زندگی کا مزاج بدل جاتا ہے۔ اگر انسان ہمیشہ ایک سا رہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کہیں جمود کا شکار ہو گیا ہے۔ آپ تجربوں سے، نا کامیوں سے کامیابیوں سے آپ ہر چیز سے سیکھتے ہیں اور مزاج میں تبدیلیاں آتی جاتی ہیں۔ مزاج میں تبدیلی آئے گی تو مزاج کا آئینہ دار آپ کا شعر ہے اس میں بھی تبدیلی آجائے گی۔
س۔ کبھی دل چاہا کہ مزاحمتی شاعری بھی کی جائے ؟
ج۔ مزاحمتی شاعری میں نے ہمیشہ کی ہے دیکھیئے مزاحمت میرے مزاج میں موجود تھی ہمیشہ سے مگر مزاحمتی شاعری کا جو ایک رائج خاکہ ہے اس میں Follow نہیں کر سکی۔ کیونکہ مجھے ہمیشہ یہ لگا سجاد کہ جب آپ ایک دشمن قوت کے خلاف بات کر رہے ہیں؟ آپ ایک بدصورت روئیے کی مزاحمت کر رہے ہیں اور اس بدصورت روئیے کی مزاحمت کرتے ہوئے آپ اپنی خوبصورتی کھو بیٹھتے ہیں تو پہلے قدم پر آپکو تو شکست ہو گئی۔ سو میں نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ احتجاج بھی جاری رہے مگر لہجے کا حسن متاثر نہ ہو، شخصیت پر اتنی کاری ضرب نہ آئے کہ میں وہ گلیوں میں لوگوں کو پتھر مارتی چلی جاؤں (ہنستے ہوئے) یعنی ہر لحظہ وقار کو ملحوظِ خاطر رکھا۔ کیونکہ عورت کی اگر تعریف کی جائے تو ایک لفظ میں ہوتی ہے” وقار“ وہ متاثر نہ ہو۔
س۔ آپ کے خاوند کا شمار بھی نمایاں شعرا میں ہوتا ہے آپکی نظر میں وہ زیادہ شاعر اچھے ہیں یا خاوند؟
ج۔ میں بطور خاوند زیادہ پسند کرتی ہوں بطور شاعر ہم دونوں میں حسد نہیں ہے۔ وہ سعید خان کے نام سے لکھتے ہیں یہی ان کا اصل نام بھی ہے اور ان کا جو لہجہ جو ہے وہ بڑا وہ جو مضبوط، مردانہ گھن گرج والا توانا لہجہ ہے اور وہ اس میں تجربے بھی کرتے ہیں کلاسیکل سارے تشریحات اور استعارے استعمال کرتے ہیںاور میں تھوڑی سی بے ساختہ اظہار کرنے والی ہوں تو ہمارا کہیں پر ٹکراؤ نہیں ہوتا لیکن ایک چھت دو شاعروں کو سہار لے یہ بڑا مشکل ہے۔ اس کے لئے ہم اپنے اپنے خیمے الگ الگ رکھتے ہیں۔ پہلے دن سے ہی اصول رکھا ہے کہ اگر وہ اس خاص فضا میں ہیں جس میں وہ لکھنا چاہتے ہیں یا میں لکھنا چاہتی ہوں توکہیں پر شہرتوں کا آپس میں مقابلہ نہیں کیا جائے اور بطور شوہر ظاہر ہے میں زیادہ ان کو Admire کرتی ہوں کہ بحیثیت انسان میرا ان سے بنیادی رشتہ وہی ہے۔ شاعری پھر ان کی ایک اضافی صلاحیت میں آتی ہے اور میرے ساتھ بھی ان کا ایک رشتہ ایسا ہی ہے کہ وہ پہلے مجھے بیوی سمجھتے ہیں اور وہ بیویوں والے تمام تقاضے مجھ سے کرتے ہیں اور تمام تر خدمتوں کا وہ سمجھتے ہیں کہ مجھے کرنا چاہیے اور میں بھی کوشش کرتی ہوں۔
س۔ تو گویا آپ مغرب میں رہتے ہوئے بھی ایک مشرقی بیوی ہیں؟
ج۔ جی میں آپکو ایک بات بتاؤں مغرب کی بیوی مغربی نہیں ہوتی۔ مغرب کی بیوی بہت محنت کرتی ہے کہ نہ تو وہاں پر سپورٹ سسٹم ہوتا ہے کہ ملازم رکھا ہواہے اور نا وہاں پر لوگوں کو نمودونمائش کا شوق ہوتا ہے۔ یہ ہمارا خیال ہی ہے کہ مغربی بیوی جو ہے وہ خیال نہیں رکھتی وہ بہت خیال رکھتی ہے اور پھر دیکھیں آپ جب اپنے گھر میں ہوتے ہیں نا آپ اپنی ماں کی طرح ہوتے ہیں۔ اب وہ عمر گزرتی ہے تو آپ کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ آپکے اندر سے آپ کی ماں آپکے وجود پر حاوی ہو جاتی ہے
س۔ بہاولپور سے جب آپ نے طویل عرصہ قبل رختِ سفر باندھا تو کہاں کہاں قیام کیا؟
ج۔ میراستارہ ہجرت کا ستارہ ہے۔ میں یہاں سے امریکہ گئی سان فرانسسکو میں گئی سان فرانسسکو میں میرا قیام رہا سترہ اٹھارہ برس کیونکہ یہاں سے جانے کے بعد مجھ وہاں جا کر احساس ہوا کہ میرا جو اردو لٹریچر کی پڑھائی لکھائی ہے یہ تو امریکہ میں کسی کام کی نہیں ہے پھر میں نے وہاں پر بینکنگ فنانس پڑھا۔ بڑا مشکل تھا بالکل Oppsite لیکن میں نے اس کو پڑھا اسے باقاعدہ اس کی Institutional Studiesمیں نے کیں اور پھر اپنے آپ کو وہاں کی Career Life میں ڈھالا باقاعدہBusiness بھی چلایا اور بینکنگ میں بھی کام کیا اور Home Finance میں کام کیا۔ ہم جو سات اور تین جمع نہیں کر سکتے تھے ہم نے لوگوں کے Loansبھی کئے بڑی بڑی عمارتوں کے مطلب وہ ایک خوشگوارتجربہ رہا وہاں پر سترہ اٹھارہ برس اور اس میں میرا Travel چونکہ میرا رہتا تھا Real Estate Financeسے میرا تعلق تھا تو جہاں Loansہوتے تھے آپ وہاں پر جاتے ہیں اور وہاں پرServices Provide کرتے ہیں۔ پھر اس کے بعد میری سعید سے شادی ہوئی تو میں سڈنی چلی گئی۔
س۔ سعید صاحب سے آپکی ملاقات کب اور کیسے ہوئی؟
ج۔ سعید صاحب سے میری ملاقات کہیں بھی نہیں ہوئی تھی رضی الدین رضی کی ایک سائٹ تھی ”سخن ور“ اس پر میں پوسٹ کرتی تھی اپنی چیزیں۔ کیونکہ رضی ہمارے سرائیکی بھرا ہیں اور وہاں سعید بھی اپنی چیزیں پوسٹ کرتے تھے تو وہاں سے ہمارا ایک باہمی ہلکا سا تعارف ہوا اور پھر اس کے بعد آسٹریلیا میں ایک کانفرنس میں ہماری سلام دعا آپس میں ہوئی اور پھر کیونکہ افتی نسیم (افتخار نسیم مرحوم) ہمارے مشترکہ دوستوں میں سے تھے میرا تو وہ بھائیوں کی طرح تھا تو ان کے ذریعے سعید نے جوDecensy ان کی جو میں Admireکرتی ہوں کہ انہوں نے کبھی بھی مجھ سے براہِ راست بات کرنے کی بجائے افتی نسیم کیے ذریعے میرےبھائی سے بات کی اور پھر Familiesمطلب جو ہمارا کلچر ہے تو وہاں رہتے ہوئے اتنے برس بعد جب کوئی ایسے کرے تو آپ بڑا Admire کرتے ہیں کہ بھئی یہ چیز ہے تو وہ ہماری باقاعدہ جو ملاقات جسے کہا جائے وہ شادی پر ہوئی تو اس سے پہلے ظاہر ہے فون پر بات ہوئی۔ کیونکہ میں امریکہ وہ آسٹریلیا۔ شادی ہماری پاکستان میں ہوئی تو تینContinents اس میں Involveتھے سو اس طرح ہوا۔
س۔ سنا ہے آپ نے دیارِ غیر میں اردو ادب کے فروغ کے لئے اور ایشیائی ادیب اور شعرا کی پذیرائی کے لئے کوئی اکیڈمی بھی بنائی ہوئی ہے؟
ج۔ اردو اکیڈمی ہے ہماری، اس میں ہم تقریبات کرتے رہتے ہیں ہمارے گھر میں میری کوشش ہوتی ہے سعید تو ہیں ہی مہمان نواز کہ جو آئے ہمارا دستر خوان کھلا رہے تو ظاہر ہے ڈشز تو ہوتی ہیں مشاعرے کرتے ہیں وہ تو خیر سعید ہیOrganize کرتے ہیں زیادہ تر تو گھر کے اندر۔ لیکن میں کوشش کرتی ہوں کہ ہمارا دروازہ کھلا رہے مہمانوں کے لئے اور ان کی پذیرائی ہوتی رہے گھر آباد رہے رونقیں آباد رہیں۔
س۔ اگر ہم ادب کے میدان میں نظر دوڑائیں تو ماضی قریب میں کوئی نیا بڑا نام نظر نہیں آتا اگرچہ شعرا کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے؟
ج۔ دیکھیں یہ کافی مشکل سوال ہے ہمارے ساتھ ایک المیہ ہو گیا ہے کہ ہم سے اچھا شعر ہوتا ہے اس کے ساتھ پھر ہم خود کو اچھا شاعربھی سمجھنے لگتے ہیں۔ بڑا شاعر بھی سمجھنے لگتے ہیں۔ توسفر رک جاتا ہے ہم سے شعر ہو جاتا تھاہمیں لگتا بھی تھا اچھا ہے مگر ہمیں خود کو عظیم سمجھنے کا خبط نہیں تھا کہ جب آپ پہلی دو غزلوں پر خود کو عظیم سمجھ رہے ہیں تو عظمت کا سفر تو رک گیا نا۔ اب آ گے تو سفر جاری نہیں رہ سکتا نا؟اور شخصیت بڑی ہونا بہت اہم ہوتا ہے۔ بڑا شعر بڑا ادب تخلیق کرنے کے پس منظر میں جیسے احمد ندیم قاسمی تھے کیا قد آور آسمان جیسے لوگ تھے، ادارے تھے، اداروں کی طرح وہ لوگ تھے۔ واقعی آپ صحیح کہتے ہیں لیکن یہ کیونکہ یہ بھی ایک وقت ہے یہ بھی گذر جائے گا اور یہ المیہ فنون لطیفہ کی ہر صنف میں ہے جیسے موسیقی میں کوک اسٹوڈیو آگیا نا ( ہنستے ہوئے ) ادب میں بھی کوک اسٹوڈیو آگیا ہے بغیر کسی کا نام لئے، بغیر کسی کو ستائش کئے، بغیر کسی کا حوالہ دئیے جیسے وہاں گایا بجایا جا رہا ہے وہی یہاں ہو رہا ہے۔ اچھا پھر ایک اور بھی بات ہو گئی ہے نا کہ آپ شاعری سے کیا چاہتے ہیں ؟ کیا دے وہ آپ کو؟ دینا توآپ کو ہے نا۔
س۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور فیس بک نے بھی تو لاتعداد افراد کو بغیر استاد اور مشاعروں کے استاد بنا ڈالا ہے؟
ج۔ بس وہی نا کہ اب آپ کوعوامی طاقت حاصل ہو گئی ہے اور عوامی طاقت کو آپ نے اصل طاقت سمجھ لیا ہے۔ اصل طاقت ہے تخلیق کی طاقت اور ریاضت کا عمل کہیں گم ہو گیا درمیان میں۔ شہرت کے لئے شعر کہنا جیسے کہتے ہیں نام آوری کے لئے شعر کہنا اطمینان کے لئے شعر نہیں کہنا۔
س۔ آپ نے اپنے دورہ بہاولپور کے دوران مشاعروں میں بھی شرکت کی اس دوران کن نئی آوازوں نے آپ کو متاثر کیا؟
ج۔ مجھے عمیر نجمی کا لہجہ بڑا اچھا لگا اور عاصم درانی نے بھی اس دن اچھی غزلیں سنائیں اور عمیر نجمی باقاعدہ مجھے لگے کہ جیسے کوئی نئی بات کرنے والا شاعر ہو۔ اظہر فراغ کو میں نے سنا تھا کوہاٹ میں تو ان کے شعر بھی اچھے تھے۔ لیکن میرے نزدیک ٹاپ آف دی لسٹ عمیر نجمی ہیں۔
س۔ ہر صاحبِ ذوق انسان کو موسیقی سے بھی والہانہ عشق ہوتا ہے آپ کو موسیقی کی کون سی صنف زیادہ Attract کرتی ہے؟
ج۔ مجھے کیونکہ ردھم سے بہت دلچسپی ہے طبلہ، ڈھولک Base جو ہوتی ہے تو اس میں مجھے قوالی کا بہت ہی لطف آتا ہے۔ قوالی، ٹھمری، کافی۔ یہ تین چیزیں ہیں جو بہت اور پھر اگر تھوڑی سی طبیعت جو ہے وہ زیادہ شرارت پر آمادہ ہو تو بہت Fast Paceکے جو گیت ہوتے ہیں اور اس میں کوئی تفریق نہیں ہے وہ کہا جاتا ہے نا کہ شاعر ہے تو غزل ہی سنے گا اور ایسا نہیں ہے Modern Songsبھی مگر ان میں موسیقی بھی ہو اور Logicبھی موجودہو Priority Beatکو دیتی ہوں موسیقیت ہونی چاہیے اس میں زبانیں بھی میرے ہاں کوئی مسئلہ نہیں ہےEnglishبھی سنتے ہوں Nigerianبھی سنتی ہوں کوئی بھی ہو کسی بھی زبان میں ہو بس اس کی Beatجو ہے نا وہ متاثر کرنی چاہیے۔ پھر بیگم اختر میرے میاں کو بہت پند ہے سو اس کو سننا تو ہماری مجبوری بھی ہے۔ غزل سعید کو بہت پسند ہے میرا مگر جو ہے گیت کا امر جو ہے وہ بہت قریب ہے، گیت اور قوالی۔
س۔ نثر کے میدان میں زیادہ لطف کہانی پڑھنے میں آتا ہے یا ناول ؟
ج۔ کہانی میں زیادہ لطف آتا ہے اور کہانی بھی دیہاتی پس منظر کی کہانی یا قصباتی پس منظر کی۔ شائد اس کا پہلو یہ ہے کہ میں جب Grow Up ہوئی ہوں میں یہ ایک قصباتی فضا کا شہر تھا تو وہ ایک مجھے لگتا ہے کہ جیسے زیادہ لطف ہے زیادہ سکون ہے اس میں مجھے احمد ندیم قاسمی اور منشا یاد بہت پسند ہیں۔
س۔ آج کی نشست کے اختتام پر کوئی ایسی بات جو آپ کے من کی بات ہو اور وہ آپ اپنے اہلِ بہاولپور اور صحرا کے باسیوں سے کرنا چاہتی ہوں؟
ج۔ میرے بہاول پور کے لوگ۔۔۔ میں بس ان کی محبتوں کے لئے بہت شکر گزار ہوں کہ اگر وہ میرے ساتھ نہ ہوتے تو میرے لئے زندگی کا کچھ اور ہی انداز ہوتا۔ یہ جو ساری عمر ایک قوسِ قزح سجی رہی نا۔۔ یہ نہیں ہوتی۔ تو یہ اہتمام جو رہا زندگی میں شاعری کا اور جوایک محفل سجی رہی زندگی کی اس کے لئے میرے صحرا کا بڑا، صحرا کی فضا اور صحرا کے لوگوں کا بڑا کردار ہے۔ لیکن ایک بات میں کہوں گی کہ محبت کرنا بھی عبادت کرنا ہے۔ عبادت کے لئے بھی کچھ لوازمات ہوتے ہیں۔ انہیں سیکھنا پڑتا ہے۔ محبت کرنا بھی سیکھیں زندگی اتنی خوبصورت ہو جائے گی اور آپ اپنی زندگی اپنے ذات کے حصول کا خود لطف اُٹھانے لگیں گے۔ تو یہی میرا ایک پیغام ہے اپنے شہر کے لوگوں سے۔ کیونکہ پھر آپکی ذات کی اکائی کبھی تقسیم نہیں ہوتی اگر آپ محبت کرنا سیکھ جائیں۔
(ختم شد)

( بشکریہ : ہم سب لاہور )

Views All Time
Views All Time
676
Views Today
Views Today
1
فیس بک کمینٹ




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*