پتوکی میں طلبا یونین کی بحالی اوربھا ول نگرپولیس کی خلاف مظاہرہ




n s f students

این ایس ایف پاکستان – پتوکی یونٹ کے زیرِ اہتمام طلبہ یونین بحالی ریلی منعقد کی گئی. ریلی کا آغاز گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج پتوکی سے ہوا اور بار کونسل چوک پر طلبہ نے علامتی دھرنا بھی دیا.
میاں ہارون لطیف نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت نے این ایس ایف بہاولنگر کے طلبہ کو حبسِ بے جا میں رکھ کر ثابت کر دیا ہے کہ خود کو جمہوری کہنے والی سرکار اپنی فطرت میں بے حد آمرانہ ہے. بہاولنگر پولیس نے سرکاری ایما پر آئین کے آرٹیکل 22 کی جِس طرح سے دھجیاں اڑائی ہیں اس کی مثال تو فوجی آمروں ادوار میں بھی نہیں ملتی. غیر مسلح اور پر امن طلبہ پر پہلے پی ٹی آئی کے مسلح غنڈوں نے دھاوا بول دیا اور اس کے بعد 25 طلبہ کو غیر قانونی طور پر پابندِ سلاسل کر دیا گیا. طلبہ جو پاکستان کا مستقبل ہیں, انہیں سنگین جرائم میں مطلوب ملزمان کے ساتھ بند رکھا گیا. اگر حکومت سمجھتی ہے کہ طلبہ ایسی اوچھی حرکتوں سے اپنے طلبہ یونین بحالی کے مطالبے سے دستبردار ہو جائیں گے تو یہ ان کی بھول ہے.



میاں ہارون لطیف کا کہنا تھا کہ این ایس ایف کی تاریخ پر امن جدوجہد اور قربانیوں سے عبارت ہے. یہ ہم ہی تھے جنہوں نے ایوب خان جیسے بد ترین آمر کو گھر بھیجا اور جنرل صیاءالحق کے خلاف صد روزہ تحریک چلائی. کیا ہم نے حسن ناصر اور نذیر عباسی کی شہادت کو بھلا دیا؟ ہرگز نہیں. این ایس ایف کا ہر نوجوان اپنی لہو رنگ تاریخ سے واقف ہے. جب تک طلبہ یونین کے انتخابات نہیں ہو جاتے ہم تحریک جاری رکھیں گے.
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے عمیر بھلر نے کہا ہمارا قصور کیا ہے؟ ہم 8 جنوری 1953 کو شہید ہونے والے طلبہ کی یاد منا رہے تھے. ہم غیر مسلح اور پر امن تھے. ہم نے کوئی سڑک یا شاہراہ بلاک نہیں کر رکھی تھی. پھر کیوں این ایس ایف بہاولنگر کے صدر عرفان بھٹی کو درجنوں ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا ؟ اِس کی وجہ یہ ہے کہ حکمران ٹولہ ڈر گیا ہے اور انہیں ڈرنا بھی چاہیئے. نوجوان جاگ رہے ہیں. اگر طلبہ کو یونین سازی کا حق نہ دیا گیا تو طلبہ اپنے احتجاجی دائرے کو بڑھا کر اپنے اتحادی طبقات تک جائیں گے. مزدوروں اور کسانوں کو اپنے ساتھ ملائیں گے. یہ قید و بند اور تشدد نہ ماضی میں ہمارا راستہ روک سکے ہیں اور نہ اب روک پائیں گے. ندیم سندھو نے اپنے خطاب میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت سب کو یونین سازی کا حق حاصل ہے. مزدوروں, کسانوں, کلرکوں, صحافیوں سب کی یونینز موجود ہیں مگر صرف طلبہ کو ہی یونین سازی کا حق نہیں دیا جا رہا. سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی فلور آف دی ہاؤس سے ایک ایگزیکٹو آرڈر دیتے ہیں اور اس پر آدھا عملدرآمد ہوتا ہے یعنی ججوں کو تو بحال کر دیا جاتا ہے مگر طلبہ یونین کے انتخابات منعقد نہیں کروائے جاتے. ایوانِ بالا سے طلبہ یونین بحالی کی قرارداد منظور تو کی جاتی ہے مگر طلبہ یونین پر پابندی بدستور رہتی ہے. تو پھِر طلبہ ان اداروں کو کیا سمجھیں؟ ہمارے نزدیک تو پھر یہ پارلیمان فقط امیروں کے سوشل کلب سے ذیادہ کچھ نہ ہوئی. داؤد جٹ اور رانا نبیل نے کہا کہ اگر طلبہ کو یونین سازی کا حق نہ دیا گیا تو حکومت اپنے دن گن لے. سابق مرکزی صدر صابر علی حیدر نے کہا کہ طلبہ یونین کی بحالی صرف پہلا قدم ہے. اصل مقصد طبقاتی نظامِ تعلیم کا خاتمہ ہے تاکہ طبقات میں بٹے ہوئے سماج کو نیست و نابود کیا جا سکے. انہوں نے کہا کہ عدالت ہماری نسلوں کو نجی تعلیمی اداروں سے 20 فیصد ڈسکاؤنٹ دلوانے کا ڈھکوسلہ بند کرے. اگر انصاف ہی کرنا ہے تو تعلیم کی خریدوفروخت کی دوکانیں بند کرے. سرکاری تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم مفت مہیا کرے جو پاکستان کے ہر بچے کا حق ہے. آخر میں انہوں نے این ایس ایف پاکستان کے پتوکی یونٹ کو کامیاب ریلی نکالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے حالیہ مرکزی صدر ساحر پلیجو کا پیغام پڑھ کر سنایا, جس میں کہا گیا تھا احتجاج کا سلسلہ آزاد کشمیر, خیبر پختون خواہ, سندھ اور بلوچستان تک پھیلایا جائے گا.

Views All Time
Views All Time
21
Views Today
Views Today
1




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*