چولستان برائے فروخت : صدائے عدل / قیصر عباس صابر


  • 37
    Shares

پاکستان کے شمال کی داستانیں اور سفر نامے لکھتے لکھتے اپنے گھر جنوبی پنجاب کو یکسر نظر انداز کرنے پر معذرت خواہ ہوں کہ چناب کی لہروں میں کچے گھڑے کی موت اور سوہنی کی حیات پر لکھنا ابھی باقی ہے ۔ ضلع راجن پور کا ٹھنڈا دیس ماڑی اور ڈیرہ غازی خان کے مضافات میں خشک پہاڑوں کی وادی فورٹ منرو بھی ہماری توجہ کی حقدار ہے ۔ دریائے سندھ میں آنے والے نانگا پربت، دیوسائی ، رائے کوٹ گلیشیئر ، روپل کی برفوں کے پانی بھی مقدس ہیں جو پل غازی گھاٹ سے گزرتے ہیں اور پھر اپنی سلیٹی رنگت کو جنوبی پنجاب کی زمینوں پر تقسیم کرتے ہیں ۔ دریائے ستلج میں اب پانی نہیں ریت بہتی ہے اور ہم اس ریت پر اپنی محرومیوں کے قصے رقم کرسکتے ہیں ۔ مجھے افسوس ہے کہ ہنزہ ، نگر ، سوست، شمشال ، خنجراب ، کے ٹو گلیشیئر ، بتورا کے برفانی ذخیرے ، شندور میدان ، کافرستان کے رنگ ، کالام کی ہوائیں اور یہ بے شمار جھیلیں میرے جنوبی پنجاب کے مناظر پر گفتگو کا حق بھی کھاگئے۔
اتوار کا ایک دن بہاولپور کے مضافات میں بچھے صحرا کیلئے بہت کم تھا مگر میرے لئے آوارگی کا ایک لمحہ ہی کافی تھا کیونکہ مناظر کو آنکھوں کے ذریعے روح تک اتار لینا اور پھر اسے گھونٹ گھونٹ پینا میں نے انہی صحراﺅں سے سیکھا تھا، میری منزل یزمان کا آباد چک 65تھا اور وہاں تک پہنچنے کے لئے جو راستے تھے وہ اس خطے کے باسیوں کے حقوق پر ڈالے گئے ڈاکے کی المناک داستان سناتے تھے ۔ آج سے پینتالیس برس پہلے جب اڈا گوہر شاہ کے ریتلے ٹیلوں میں روزی تلاش کرنے والے محمد نواز نے ڈیرے ڈالے تھے تو تب میرا ان سے کوئی تعلق نہ تھا کہ میں اس دنیا میں موجود ہی نہ تھا مگر اب میری اس مقام سے جذباتی وابستگی انہی کی وجہ سے ہے۔ کراچی جانے والی مصروف سڑک سے خانقاہ شریف کے مقام پر ایک ریتلی پگڈنڈی نیچے اترتی تھی جو گوہر شاہ ، مقبول آباد سے ہوتے ہوئے نو آباد چکوک سے گزر کر ہیڈ راجکاں اور پھر قلعہ دراوڑ تک اور اس سے پرے ہمسائے ملک کے بارڈر تک جاتی تھی ۔ اب وہاں پختہ سڑکوں کا جال ہے اور زمینیں آباد ہوتی جارہی ہیں ۔ تحصیل یزمان کے چکوک پنجابی جٹ برادری کے بزرگوں نے آباد کئے تھے ایک مشکل ترین زندگی بسر کرنے والوں کی تیسر ی نسل اب قدرے آسودہ ہوئی ۔ پانی کڑوا تھا مگر کہیں کہیں کھوئیاں میٹھے اور ٹھنڈے پانی کا واحد ذریعہ تھیں ۔ دوردراز سے آنیوالی خواتین انہی کھوئیوں سے پانی بھرتی تھیں ۔ موجودہ حکومت کے وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ جب جب اقتدار میں رہے انہوں نے یزمان کے ریتلے ٹیلوں میں بسنے والے لوگوں کو سکول، سڑکیں ، واٹر پلانٹ اور دیگر ترقیاتی منصوبے دیے ۔ نوابوں کے نظر انداز کیے گئے یہ چولستانی قدر ے آسان زندگی گزارنے لگے مگر ستم ڈھانے والوں نے دنیا سے ہٹے ہوئے ان محنت کشوں کے بنیاد ی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے سے بھی گریز نہیں کیا ۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے ادارے میں اپنا آپ مضبوط بنانے کےلئے اور اپنے آئین شکن دور کو قانونی لبادہ پہنانے کےلئے حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسروں کو ہزاروں ایکڑ زمین الاٹ کردی ۔ الاٹی اور مراعاتی افسروں میں سے کسی کا تعلق بھی اس علاقے سے نہ تھا بلکہ دور دراز کے شہری علاقوں کے باسی اور کچھ تو دوسرے صوبوں کے سکونتی تھے۔ عشروں سے ریت پھانکنے والوں کو جب اس الاٹمنٹ کا پتہ چلا تو ان کو سارا سفر رائیگاں محسوس ہونے لگا ۔جن ٹیلوں کو وہ اپنی مدد آپ کے تحت قابل کاشت بنانے اور ٹیوب ویل کے ذریعے سیراب کرنے کی مشق کرتے آرہے تھے وہ چند دنوں میں سرکاری مشینری کے ذریعے آباد ہونے لگی ۔ طرح طرح کے ٹرکوں پر سوار اہلکار دورے کرنے لگے اور پھر وہاں نہری پانی پہنچنے لگا جہاں نہر کھودنا قانون کے خلاف اور بڑی نہر سے موگہ لینا جرم تھا۔ خاص حکم سے چند ہفتوں میں منظور ہونے والے پانی نے ان ٹیلوں کو سرسبز و شاداب کرنا شروع کردیا۔ یہ الاٹی بھلا کب ان علاقوں کی ریت پھانک سکتے تھے ، نہ ہی انہیں اس آبادکاری اور شادابی سے کوئی غرض تھی ان کا تو یہ کاروبار تھا ۔ میں نے کچھ عرصہ قبل سڑک کنارے لگے ”رقبہ برائے فروخت“ کے بورڈ نصب دیکھے تھے جن پر برائے رابطہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے بڑے جنگجو افسروں کے نام اور نمبر درج تھے اور پھر کسی زمین کے تاجر نے اپنی بلیک منی ، وائٹ کرنے کیلئے وہ سارے رقبے خرید لئے ۔ رقبوں کی اس الاٹمنٹ پر سابق چیف جسٹس افتحار محمد چوہدری نے از خود نوٹس لیا تھا اور کچھ زمینوں کی ترسیل ملکیت منسوخ بھی کردی تھی مگر پھر اس چیف جسٹس کو دیگر مسائل میں الجھا دیا گیا۔ وہ رقبہ جو مہنگے داموں وہاں کے ہاریوں کو ملا تھا وہاں تک نہری پانی نہیں پہنچ سکا اور وہ ہر فصل کےلئے بار ش کی دعاﺅں پر وقت بسر کرتے ہوئے روزانہ سرکاری دفاتر میں دھکے کھا کر نہری پانی کی منظوری کی گیدڑ سنگھی تلاش کرتے ہیں ۔ وہ اپنی دو نسلوں کو انہی ٹیلوں میں بنی کچی قبروں کے سپرد کرکے اس دھرتی سے نہ ختم ہونے والا رشتہ جوڑ چکے ہیں ۔ خواب بے تعبیر ہونے کے بعد اب وہ کسی ریٹائرڈ افسر کی زمین کو بطور ہاری کاشت کرنے پر بھی تیار ہیں ۔
ہیڈ راجکاں اور ریت کے سرحدی سمندر تک جس کا جہاں ہاتھ پڑا اس نے سرکاری زمینوں کو باپ کی وراثت کی طرح الاٹ کروایا اور پھر بغیر دیکھے فروخت کردیا ۔ جنوبی پنجاب کی روہی اور چولستان ”جہاں ہے جیسا ہے“ کی بنیاد پر برائے فروخت ہے ۔ رقبوں کی یہ بندر بانٹ تجاوزات اور ناجائز قبضے کے زمرے میں بھی نہیں آتی اور اگر آتی بھی ہوتی تو کیا یہ حکومت اسے واگزار کرالیتی ؟

فیس بک کمینٹ
image_print




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*