فہمیدہ ریاض، ثوبیہ رشید اور معاشرتی بے حسی ۔۔صدائے عدل /قیصر عباس صابر


ملتان آرٹس کونسل کی ادبی بیٹھک میں ایک آنسوؤں بھری شام سخن ور فورم نے برپا کی تو شرکاءکی تعداداتنی ہی تھی جتنی عین اسی وقت لاہور میں ہونے والے فہمیدہ ریاض کے جنازے میں شاعروں اور ادیبوں کی تھی۔ تعزیتی شام سینئر صحافی اور سابق صدر پریس کلب ملتان رشید ارشد سلیمی کی جواں سال بیٹی ثوبیہ رشید کی یاد میں منعقد ہوئی تو رشید ارشد سلیمی جو ہمیشہ بلا خوف تردید بولتے ہیں ، چُپ تھے مگر آنکھیں برس رہی تھیں۔ وہ نالاں تھے کہ انہیں اب ادراک ہوا ہے کہ وہ پتھروں میں رہتے رہے کہ انسانوں میں تو گوشت کا دل ہوتا ہے جو جس قدر بھی سخت ہو دھڑکتا ضرور ہے۔ مگر بظاہر مصروف دوست کس قدر بے حس ہیں کہ ان کی جواں سال بیٹی کی وفا ت پر کسی نے غم بانٹنا بھی گوارہ نہیں کیا۔ ثوبیہ رشید کی مصوری کی نمائش جب آرٹس کونسل ملتان میں سجی تھی تو اک شہر امڈ آیا تھا اور آرٹس کونسل کی انتظامیہ کو تین دن سے بڑھا کر پندرہ دن تک نمائش سجانا پڑی۔ثوبیہ کی بنائی ہوئی تصویریں بولتی گئیں مگر کسے خبر کہ جس کی انگلیوں کی پوروں سے بکھرنے والے رنگ بولتے ہیں وہ خود بہت جلد خاموش ہونے والی ہے۔ ثوبیہ اپنی بیماری آخر تک چھپاتی رہی کہ انہیں ڈر تھا کہ اگر گھر والوں کو بیماری کا علم ہوا تو وہ ایم فل کا مقالہ مکمل نہیں کر پائے گی۔ جان لیوا بیماری کی تصدیق کے بعد بھی وہ یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور میں فائن آرٹ کی کلاس لیتی رہیں اور تب تک پڑھاتی رہیں جب تک سانس رواں رہے۔ اپنی بے رنگ ہوتی زندگی کے باوجود موت کی لکیروں میں رنگ بھرتے بھرتے مقالہ بھی لکھا اوردو کتابیں مصوری کی بھی تخلیق کیں۔ فہمیدہ ریاض بھر پور اور مصروف زندگی جینے کے بعد چل بسیں تولاہور جیسے ادبی شہر میں ”بے حسی“کے ہاتھوں دفنائی گئیں۔ جنازے میں صرف تین ادیب شریک تھے باقی چند لوگ جو مسجد میں نماز پڑھنے آئے انہوں نے جنازے کا بھرم رکھا۔اب کہا جا رہا ہے کہ لاہور کے فوجی رہائشی علاقہ کا بہت دور ہونا جنازے میں عدم شرکت کا سبب بنا ۔ مگر یہ وجہ بلا وجہ بتائی جا رہی ہے۔ اصل وجہ یہ تھی کہ وہ اب کسی قومی ادارہ کی سربراہ تھیں اور نہ ہی ادیبوں ، شاعروں کو ایوارڈ دلوانے میں کوئی کردار ادا کر سکتی تھیں۔ فہمیدہ ریاض جواں سال بیٹے کی وفات کے بعد بیمار رہنے لگیں تو دل بہلانے کے لئے کراچی سے لاہور اپنی بیٹی کے پاس قیام پذیر ہوئیں۔ کہا جاتا ہے کہ اگر وہ کراچی میں فوت ہوتیں تو جنازہ بڑا ہوتامگر وہ لاہور کے لئے کوئی اجنبی نہ تھیں۔
فہمیدہ ریاض 28جولائی 1946کو میرٹھ میں پیدا ہوئیں۔ مگر حیدر آباد ، سندھ میں شعوری آنکھ کھولی ۔ والد ریاض الدین ماہر تعلیم تھے اس لئے کتابوں کا شوق انہیں ورثہ میں ملا ۔ پانچ برس کی عمر میں ہی والد کا انتقال ہو گیاتو والدہ حسنہ بیگم نے پڑھایا لکھایا ۔ ہائی سکول کے زمانے سے ہی اردو ، فارسی شاعری اور کلاسیکل ادب پڑھ لیا ۔ ریڈیو پاکستان حیدر آباد سے وابستہ رہیں۔1967ءمیں شادی ہوئی تو لندن چلی گئیں۔ جہاں ایک انشورنس کمپنی میں کام کیا۔ بی بی سی اردو سروس سے بھی منسلک رہیں۔ 1973ءمیں واپس وطن آئیں اور ادیبوں کا فورم بنانے کے لئے رسالہ” آواز“شروع کیا۔ ضیاءالحق کا دور ہر صاحب علم و عقل کی طرف فہمیدہ ریاض کے لئے بھی کچھ مناسب نہیں رہا اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید کے الزام میں کئی مقدمے بھگتے، جلا وطنی اختیار کرکے بھارت چلی گئیں ، بے نظیر بھٹو نے اپنے دور ِ اقتدار میں انہیں نیشنل بک کونسل کی چیئر پرسن تعینات کیا۔ 2009ءمیں فہمیدہ ریاض کو تمغہ برائے حسن کارکر دگی سے نوازا گیا۔ بھر پور علمی و ادبی زندگی جینے کے بعد وہ 22نومبر2018ءکو جب قبر میں اتاری گئیں تو جاتے جاتے معاشرتی بے حسی کے منہ پر زور دار طمانچہ رسید کر گئیں۔ وہ اپنی زندگی میں بھی اپنے اس شعر کی تفسیر رہیں
ہوں جب سے آدمِ خاکی کے حق میں نغمہ سرا
میں دیوتاؤں کے بپھرے ہوئے عتاب میں ہوں
فہمیدہ ریاض کو اپنی زندگی میں بھی اپنے ہم عصروں سے شکوے رہے کہ انہیں ترقی پسند قلمکار کے طورپر تسلیم نہیں کیا گیا ۔ ایک عورت ہونے کے ناطے وہ عورتوں کے حقوق کے لئے آخری سانس تک لڑتی رہیں۔
سنگدل رواجوں کی
یہ عمارت کہنہ
اپنے آپ پر نادم
اپنے بوجھ سے لرزاں
جس کا ذرہ ذرہ ہے
خود شکستگی ساماں
سب خمیدہ دیواریں
سب جھکی ہوئی کڑیاں
خستہ حال زنداں میں
اک صدائے مستانہ
ایک رقص ِ رندانہ
یہ عمارت کہنہ ٹوٹ بھی تو سکتی ہے
یہ شہزادی چھوٹ بھی تو سکتی ہے
فیس بک کمینٹ
image_print




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*