سرائیکی وسیبقمر رضا شہزادکالملکھاری

حنیف صوفی کا بھوت اور شاعرہ کا شور شرابہ :گزر گیا جو زمانہ / قمر رضا شہزاد

جوں جوں الیکشن نزدیک آرہے تھے سیاسی گہماگہمی میں بھی اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ پاکستان کی دومقبول سیاسی پارٹیاں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی زیادہ تر نشستوں پر ایک دوسرے کے مقابل صف آرا تھیں۔ پیپلز پارٹی کی قیادت محترمہ بے نظیر بھٹو کر رہی تھیں جبکہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف تھے۔ ملتان میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے لئے یوسف رضا گیلانی سرگرم عمل تھے جبکہ ن لیگ کے امیدواران کے لئے کنویسنگ شاہ محمود قریشی کر رہے تھے۔ ایک دوسرے کے خلاف تقریریں جلسے اور جلوس اپنے عروج پر تھے۔ مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو بیس ماہ کے بعد برطرف کردیا گیا تھا ۔ لہٰذہ پیپلز پارٹی کا بیانیہ اس ناانصافی اور جمہوریت دشمنی کے خلاف تھا ۔ جبکہ ن لیگ پیپلز پارٹی کی کرپشن اور ترقیاتی کام نہ کرنے کو ہدف بنا رہی تھی۔ شیخ رشید نواز شریف کی حمایت میں بے نظیر اور پیپلز پارٹی کے خلاف نازیبا اور سخت زبان استعمال کر رہے تھے۔ زیادہ تر سیاسی پنڈت مسلم لیگ کے برسراقتدار آنے کی پیشین گوئی کر چکے تھے۔ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ جن طالع آزماؤ ں نے بے نظیر کی حکومت کو برطرف کیا تھا ۔ ان کی امیدیں اب مسلم لیگ ن سے تھیں ۔ ایسا ماحول بنادیا گیا تھا۔ جہاں مسلم لیگ کی فتح یقینی تھی۔ جنوبی پنجاب کے الیکٹیبل امیدوار حسب معممول جیتنے والی جماعت کی ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے تھے۔ چنانچہ جب نتیجہ آیا تو مرکز اور پنجاب میں سب سے زیادہ نشستیں مسلم لیگ ن نے حاصل کرلی تھیں۔ ۔ چنانچہ نواز شریف پہلی مرتبہ ملک کے وزیر اعظم منتخب ہوگئے۔ پنجاب کی وزارت اعلیٰ شہبازشریف کے حصے میں آئی۔۔۔ جبکہ شاہ محمود قریشی پنجاب کے وزیر خزانہ بن گئے۔ ملک طیب اعوان میرے حلقے سے ایم پی اے منتخب ہوگئے۔ بیوروکریسی میں بھی اکھاڑ پچھاڑ کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔ نواز شریف ہمیشہ مرتضیٰ برلاس کے لئے ان کی ایمانداری اور کارکردگی کے حوالےسے اپنے دل میں ایک نرم گوشہ رکھتے تھے۔ لہٰذ ہ انہوں نے ذاتی طور پر ان کے بطور کمشنر بہاولپور تعیناتی کے نہ صرف آرڈر جاری کروائے بلکہ یہ کہہ کر فوری طور پر جوائن کرنے کے لئے بھی کہا کہ اس سے پہلے مجھے ایم این اے اور ایم پی اے کسی اور کو کمشنر تعینات کرنے کے لئے کہیں آپ فورا بہاولپور چلے جائیں۔ غالبا یہ عید یا بقر عید کا موقع تھا۔ برلاس صاحب نے انہی چھٹیوں کے دوران بہاولپور میں بطور کمشنر اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔برلاس صاحب کے آنےسے یہاں کے ادبی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔اور کیوں نہ دوڑتی کہ پہلی مرتبہ کمشنر ہاؤ س کے دروازے ادیبوں اور شاعروں کے لئے کھل گئے تھے۔ ۔ برلاس صاحب نے حسب معمول چارج سنبھالنے کے کچھ عرصہ بعد یہاں ایک کل پاکستان مشاعرے کے انعقاد کا اعلان کر دیا۔ اس مشاعرے کی صدارت احمد ندیم قاسمی نے فرمائی جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض طاہر تونسوی نے انجام دئیے۔ اس مشاعرے کے حوالے سے چند ایک دلچسپ اور خوبصورت یادیں بھی مرے ذ ہن کے گوشے میں محفوظ ہیں
برلاس صاحب نے ہمیشہ اپنے مشاعروں کو نامور شاعروں کے علاوہ اپنے دوست لیکن اچھے شاعروں سے سجایا۔ اس مشاعرے میں بھی ان سے محبت کرنے والے بہت سے شاعر دوستوں کی تعداد موجود تھی۔ مثلا بورے والہ سے پنجابی کے معروف شاعر حنیف صوفی ۔ کبیروالہ سے خادم رزمی جھنگ سے صفدر سیلم سیال ملتان سے انور جمال لالہ موسیٰ سے کاوش بٹ خانیوال سے طاہر نسیم بھی اس مشاعرے میں شریک ہوئے۔ تمام شعرا کا قیام سرکٹ ہاؤ س میں کیا گیا۔ یہاں ان کی مہمانداری کے فرائض کسی مجسٹریٹ کے سپرد تھے ۔ کاوش بٹ نے کمرہ سنبھالتے ہی مجسٹریٹ کو بلایا اور سامان کی ایک لمبی فہرست اسے تھما کر حکم دیا کہ فوری طور پر میرے کمرے میں ان چیزوں کا بندوبست کیا جائے۔ مجسٹریٹ فہرست دیکھ کر حیران رہ گیا۔ یہ سامان گولڈ لیف کی ڈبیوں، شیمپو ، منرل واٹر، ٹوتھ برش ، ٹوتھ پیسٹ ، ریزر اور اسی طرح کی کچھ اور اشیا پر مبنی تھا۔ جب مجسٹریٹ نے یہ سامان فراہم کرنے میں کچھ لیت ولعل سے کام لیا تو کاوش بٹ نے اپنی گونج دار آواز میں کہا۔ فیر میں انہاں چیزاں لئی برلاس صاحب نوں آکھاں( پھر میں ان چیزوں کے لئے برلاس صاحب کو کہوں)۔ مجسٹریٹ یہ سن کر گھبرا گیا اور دبے دبے لفظوں میں کاوش بٹ صاحب کو یہ جملہ کہہ کر سامان لینے چلا گیا ساری زندگی برلاس نے کمشنر نییں رہنا۔ فیر کدے جے تو میرے ہتھے لگیا میں تینوں ویکھاں گا۔ادھر سرکٹ ہاؤ س کے لاؤ نج میں ایک اور دلچسپ واقعہ ہوا۔ حنیف صوفی جو ہمارے شعرا کے پہلوان ہیں۔ اور رنگ بھی ماشااللہ کچھ زیادہ ہی سانولا ہے لاؤ نج کے ٹایلٹ کو کنڈی لگائے بغیراستعمال کر رہے تھے کہ خانیوال سے ہمارے پیارے دوست نثر نگار دھان پان سے شعیب الرحمن دروازہ کھول کر اسی ٹائلٹ میں داخل ہوگئے ۔ سامنے جب ایک لحیم شحیم نیم برہنہ حالت میں ایک قوی الجثہ سائے پر نگاہ پڑی تو بوکھلاہٹ کے عالم میں بھوت بھوت کہہ کر باہر کی طرف دوڑ لگا دی۔ڈنر کے بعد مشاعرے کا آغاز ہوا۔ مشاعرے کاپنڈال سامعین سے کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔ طاہر تونسوی کی “خصوصی مہربانی” کی وجہ سے میرا نام بھی ابتدائی شاعروں میں تھا۔ بہرحال میں نے جو وہاں غزل سنائی خدا کے فضل وکرم سے اس نے سامعین کا سکوت توڑدیا۔ اور مشاعرے کا رخ بدل ڈالا۔ ۔۔ مشاعرہ صبح کی اذ ان تک جاری رہا۔ مشاعرے سے اگلے روز ایک اور افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا ۔ جب شعرا کو اعزازیے کے لفافے دئیے گئے۔ ملتان سے تعلق رکھنے والی شاعرہ غزالہ اپنے لفافے میں کم رقم دیکھ کر بھڑک اٹھیں اور نہایت غلیظ زبان میں ایک اور مشاعرہ پڑھنے والی شاعرہ کا نام لے کر چیخ چیخ کر کہنے لگیں۔ کیا میں اس سے کم شاعرہ ہوں ۔ کم خوبصورت ہو۔ یا میری کسی اور شے میں کمی ہے کہ مجھے اس شاعرہ سے کم اعزازیہ دیا گیا ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker