کشمیر،کتاب اور صوبہ جنوبی پنجاب : ڈرتے ڈرتے / رضی الدین رضی


articles. columns and poetry of razi ud din razi at girdopesh.com
  • 17
    Shares
  کشمیر، کتاب اور صوبہ جنوبی پنجاب کا باہمی تعلق کیا ہے؟ ہم نے یہ تینوں نام ایک ہی قطار میں کیوں تحریر کئے  اور ان تینوں میں ربط کیسے پیدا کیا جا سکتا ہے ؟قارئین محترم یہ توہمارا مسئلہ ہی نہیں ۔ ہم تو آپ سے بس کشمیر اور کتاب کی بات کرنا چاہتے تھے اورآپ کو بتانا چاہتے تھے کہ اسلام آباد میں ہونے والے 9ویں سالانہ کتاب میلے میں کشمیر کا ذکر کیسے ہوا ؟ اور کس طرح سے نہتے کشمیری اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے اس کتاب میلے کا حصہ بن گئے؟ اور پھر اس میلے کی افتتاحی تقریب میں جب ہم نے یہ دیکھا کہ منتظمین بہت سی سیاہ پٹیاں ہاتھوں میں لئے ہوئے پنڈال میں موجود ہیں اور ملک کے طول و عرض سے آنے والے ادیبوں ، شاعروں اور دانش وروں کے بازوﺅ ں پر یہ سیاہ پٹیاں باندھی جا رہی ہیں تو ہمیں معلوم ہوا کہ دو روز قبل کشمیر میں بھارتی بربریت کا شکار ہونے والے کشمیری اپنی جانیں دے کراس کتاب میلے میں شریک ہو گئے ہیں ۔کتاب میلے کی افتتاحی تقریب عین اس روز تھی جب ملک بھرمیں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا دن منایا جا رہا تھا ۔ یہ کوئی طے شدہ شیڈول نہیں تھا ۔میلے کی تاریخ بہت پہلے سے مقرر تھی لیکن یوم یکجہتی کشمیر اس روز اچانک منانا پڑا۔ہم نے پہلے بتایا نا کہ کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اچانک  اس میلے میں شریک ہوگئےتھے ۔کشمیر کے ساتھ المیہ یہ ہوا کہ آزادی کی اس تحریک کو پاکستان میں بعض ایسی قوتوں نے ہائی جیک کر لیا جو کشمیر ہی نہیں اور بہت سے خطوں کو بھی آزاد کرانا چاہتی ہیں ۔ اس طرح انسانی حقوق کا یہ حقیقی مسئلہ بھی سیاست اور الزام تراشیوں کی نذر ہو گیااور تحریک آزادی کو دہشت گردوں کی مہم جوئی سمجھا جانے لگا۔ہمارے دانشوروں کو فلسطین اور شام و عراق میں ہونے والے مظالم تو نظر آئے لیکن دائیں ، بائیں بازو کی تفریق اور ہیجانی کیفیت کے باعث بہت سے قلم کاروں نے اس انسانی مسئلے پردانستہ خاموشی اختیار کئے رکھی ۔
پاک چین دوستی مرکز اسلام آباد میں منعقد ہونے والی کتاب میلے کی افتتاحی تقریب کی صدارت صدرمملکت ممنون حسین نے کی ۔ تقریب میں وزیراعظم کے مشیربرائے قومی تاریخ ،ادبی ورثہ ڈویژن عرفان صدیقی ، اسی وزارت کے سیکرٹری انجینئر عامر حسن ،نامور مزاحیہ شاعر ،نیشنل بک فاﺅنڈیشن کے چیئرمین اور تقریب کے میزبان ڈاکٹر انعام الحق جاویدبھی موجودتھے۔صدرمملکت نے کتاب اور کشمیر کے تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج اس کتاب میلے کی افتتاحی تقریب ایسے موقع پر ہورہی ہے جب ہم کشمیریوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کا دن منارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کتاب دوستی دراصل انسان دوستی ہے۔کتاب انسانیت کی بھلائی کا پیغام دیتی ہے۔انہوں نے کہاکہ خوشی کی بات یہ ہے کہ نیشنل بک فاﺅنڈیشن نے امن بذریعہ کتاب کانعرہ متعارف کرایا۔کتاب امن اور روشنی کا پیغام دیتی ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ بھارت نہتے کشمیریوں پر جو ظلم ڈھارہاہے اس کا اقوام متحدہ کو نوٹس لیناچاہیے۔انہوں نے کہاکہ اہل قلم کو اپنے قلم کے ذریعے کشمیریوں کے دکھوں کو اجاگرکرنا چاہیئے ۔اس موقع پر ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے تفصیل کے ساتھ ادارے کی کارکردگی پر روشنی ڈالی۔ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے بتایا کہ نیشنل بک فاﺅنڈیشن ملک بھر میں کتاب دوستی کا کلچر متعارف کرارہاہے۔انہوں نے کہاکہ کتاب سے محبت کو اجاگر کرنے اور لوگوں کوکتاب کی طرف راغب کرنے کے لئے منعقد ہونے والا یہ سالانہ کتاب میلہ اب اسلام آباد کی پہچان بن چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ نیشنل بک فاﺅنڈیشن کے اس میلے میں لوگوں کی بڑی تعداد کتابیں خریدنے آتی ہے اور ہم نے اس تاثر کو ختم کیا کہ لوگ کتاب سے دورہورہے ہیں۔ڈاکٹرانعام الحق جاوید نے مزید بتایا کہ 2017ءمیں نیشنل بک فاﺅنڈیشن نے 33کروڑ 50لاکھ روپے کی کتابیں فروخت کیں۔اس مرتبہ بھی میلے میں کتابوں کے 132سٹالز لگائے گئے ہیں۔انعام الحق جاوید نے یہ بھی بتایا کہ نیشنل بک فاﺅنڈیشن کے بک کلب کے ذریعے لوگوں کو سستی کتابیں فراہم جاتی ہیں اور ہم نے اپنے ممبران کو سستی کتابیں فراہم کرنے کے لئے  اس برس ساڑھے تین کروڑ روپے کی سبسڈی دی ۔
چارروزہ کتاب میلے میں سرائیکی وسیب سے ہمارے ساتھ تابش الوری،شاکر حسین شاکراورخالد مسعود خان بھی اسلام آباد میں موجودتھے۔ ان چارروز کے دوران حقیقی معنوں میں ایک میلے کا سماں رہا۔ پاک چین دوستی مرکز میں 70سے زیادہ ادبی و ثقافتی تقریبات منعقد ہوئیں جن میں کتابوں کی تعارفی تقریبات ،مذاکرے،کتاب خوانی کی محافل،مشاعرے اور مختلف اصناف ادب کے حوالے سے مباحث خاص طورپر قابل ذکرہیں۔میلہ ہمیشہ سے میل ملاقات کا ذریعہ رہا ہے۔سو کتاب میلے میں بھی دوستوں اور احباب کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔بہت سے ملتانی دوستوں کے ساتھ مدت بعد اسی میلے میں ملاقات ہوئی۔ان میں محترم مسعود اشعر، اصغر ندیم سید، ڈاکٹراخترشمار، ڈاکٹر وحید الرحمن، مبین مرزا، ناصر بشیر، سبطین رضا لودھی، خواجہ کاشف رفیق، فرحت عباس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ محمودشام، افتخارعارف، امجد اسلام امجد،وسعت اللہ خان،انور شعور، عقیل عباس جعفری، ریاض مجید، فاطمہ حسن، زاہدہ حنا، حسن عباس رضا، ناصر علی سید، رحمن حفیظ، رخشندہ نوید، بینا گوئندی، جلیل عالی، سرفراز شاہد، کشور ناہید،ڈاکٹر صغرا صدف ،حمید شاہد،اختر رضا سلیمی،اختر عثمان،اصغر عابد،محبوب ظفر،خالد شریف، الماس شبی،سید فہیم الدین کی موجودگی نے بھی میلے کی اہمیت میں اضافہ کیا۔
ان چارروز کے دوران ہم ملکی سیاست سے بے خبررہے۔صرف کتابوں کا تذکرہ رہا۔ مختلف پبلشرز کے ساتھ ملاقاتیں ہوئیں۔ مختلف سٹالز پر ادیبوں،شاعروں کی محفلیں رہیں۔ بے شمار لوگ سرراہے ملے اور میلے میں گم ہوگئے۔ بلوچستان سے منیر احمد بادینی سے مختلف محفلوں میں ملاقات کے دوران یہ بحث ہوتی رہی کہ بلوچستان کا احساس محرومی جس طرح سے دورکرنے کی کوشش کی جارہی ہے کیااس کے نتیجے میں یہ احساس محرومی واقعی دورہوجائے گا ؟ یا احساس محرومی دور کرنے کی یہ کوششیں محرومیوں اور نفرتوں میں اضافہ کررہی ہیں؟اورجب ہم یہ بحث کررہے تھے تو ہمیں معلوم نہیں تھا کہ کہیں کسی محفل میں کسی میز کے گرد کچھ لوگ سر جوڑ کر اس بات پر غور کررہے ہیں کہ جنوبی پنجاب کا احساس محرومی کس طرح ختم کیا جائے؟اور جب ہم ملتان واپس پہنچے تو معلوم ہوا کہ جنوبی پنجاب کا نام لے کر سرائیکی خطے کی محر ومیاں دور کرنے کامنصوبہ تیارہوگیاہے ۔مسلم لیگ(ن)اوراس سے پہلے دیگرجماعتوں میں اقتدار کے مزے لوٹنے والے اراکین اسمبلی جنوبی پنجاب صوبے کی بحالی کے لیے متحد ہوگئے ہیں۔یہ آزاد گروپ صوبہ جنوبی پنجاب کے کاز کے نام پر آئندہ انتخابات میں حصہ لینے جارہاہے۔بہت سی بحثیں شروع ہوچکی ہیں اور سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ کیا سرائیکی عوام ایسے صوبے کو قبول کرلیں گے جس کے نام میں لفظ ”پنجاب “ شامل ہوگا؟
( بشکریہ : روزنامہ نئی بات )
فیس بک کمینٹ
image_print




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*