ملتان مرا رومان : یادیں ( 3 ) ۔۔ رضی الدین رضی


Bab-e-_Qasim_Multan
  • 28
    Shares

یہاں صدیاں ہم کلام ہوتی ہیں‌

پانچ ہزار سال قدیم شہر میں سانس لینا بلا شبہ ایک منفرداور خوشگوار تجربہ ہے۔اس تجربے سے گزرتے تو سبھی ہیں لیکن اسے محسوس کرنے کے لئے اس شہر کے ساتھ والہانہ محبت بلکہ عشق ضروری ہے۔بہت کم شہر ایسے ہیں کہ جن کی گلیوں اور بازاروں میں گھومیں تو صدیاں آپ کے ساتھ سفر کرتی ہیں ۔ملتان بھی ایسا ہی ایک شہر ہے جہاں ہر گلی اور ہر محلے میں تاریخ آپ کے قدم تھامتی ہے۔سوچنے ،سمجھنے اور ادراک رکھنے والوں کو یہ شہربار بار اپنی جانب متوجہ کرتا ہے ۔کبھی کسی النگ سے گھوڑوں کی ٹاپیں سنائی دیتی ہیں تو کبھی قلعہ کی بلندی سے دور افق پر دھول کے بادل دکھائی دیتے ہیں ۔بوہڑ گیٹ کے قریب بن لوہاراںمیں کسی مچھیرے کی آواز سنائی دیتی ہے کہ کبھی کسی زمانے میں جب شاہ یوسف گردیز نے یہاں راوی کنارے اپنا ہجرہ بنایا تو دریا کی ایک شاخ اس زمانے میں اسی مقام سے گزرتی تھی جسے اب بن لوہاراں کہا جاتا ہے۔

سکندر ملتان سے خالی ہاتھ گیا

پھر خونی برج کے مقام پرسکندر اعظم خون میں لت پت پسپائی ہوتا دکھائی دیتا ہے۔بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ سکندر دنیا سے ہی نہیں ملتان سے بھی خالی ہاتھ گیا تھا۔اور پھر ایک منظر سورج کنڈ اور دوسرا پرہلاجی کے مندر کا نظر میں سماتا ہے۔ایک بہت بڑا اجتماع سورج دیوتا کے پجاریوں کا نظرآتا ہے جودنیا بھر سے اس اجتماع میں شرکت کےلئے ملتان آیا کرتے تھے۔ ایک گرج دار آواز اس توپ کے گولے کی سنائی دیتی ہے جو انگریز حملہ آوروں نے قلعہ ملتان پر داغا تھا اورپھر اس کے نتیجے میں کئی دھماکے ہوئے، کئی روز تک شہر جلتا رہا اور ان دھماکوں کی آواز میں لوگوں کی چیخ و پکار دب گئی ۔شہر کا بڑا علاقہ خاکستر ہوگیااور ظاہر ہے صرف مکان ہی راکھ نہیں ہوئے مکانوں کے ساتھ مکین بھی اس راکھ کا حصہ بن گئے۔تاریخ نا مور لوگوں کو تو ہمیشہ یاد رکھتی ہے لیکن تاریخی عمل کے دوران رزقِ خاک ہونے والوں کو کون یاد رکھے ۔یہ تو وہ کام ہے جو مؤ رخین بھی نہیں کر سکتے ۔

نو گزے پیر ملتان کے گم نام شہید

گمنام شہیدوں کی تو بس کبھی کہیں یادگار بنتی ہے یا کوئی اجتماعی قبر اور پھر اس قبر پر لوگ پھول چڑھاتے ہیں ،دیے اور اگر بتیاں جلا کر منتیں مرادیں پاتے ہیں اور اس اجتماعی قبر کو ”نو گزے پیر “ کی قبر قرار دے دیا جاتا ہے۔میں جب بھی ملتان میں کسی نو گزے پیر کی قبر پر دیا جلتا دیکھتا ہوں تو گم نام شہیدوں کے احترام میں چند لمحوں کے وہاں ٹھہر جاتا ہوں ۔
( جاری )

Views All Time
Views All Time
168
Views Today
Views Today
1
فیس بک کمینٹ




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*