انجم عثمان صاحبہ کا شعری مجموعہ ” العطش “ ۔۔ رضی الدین رضی




poetry book anjum usman
  • 4
    Shares

انجم عثمان صاحبہ کی کتاب ”العطش“ کا مطالعہ ہمارے لئے خوشگوار حیرت کا باعث بنا۔یہ کتاب موصول ہوئی تو ہمارے لیے ان کا نام قدرے اجنبی تھا ۔اگرچہ ان کی شاعری مختلف ادبی جرائد میں نظر سے بھی گزری لیکن ان کی شاعری کے سفر میں تسلسل کے باوجود مختلف اوقات میں طویل وقفے رہے ۔ مشاعروں سے بھی وہ دور رہیں ۔ ان کے شعری مجموعے کے بارے میں پروفیسر سحر انصاری ،محترم افتخارعارف ،ڈاکٹر عالیہ امام اور احمد جاوید کی گراں قدرآراءنے ان کا مکمل تعارف کرادیاہے۔ اور پھر جب ہم نے انجم عثمان صاحبہ کا پیش لفظ ”کچھ اپنے بارے میں“ پڑھا تویہ تعارف مکمل ہو گیا ۔ہم نہ صرف یہ کہ ان کی شاعری بلکہ انکی نثری صلاحیتوں کے بھی معترف ہوگئے۔کیا خوب انداز تحریر ہے کہ جس میں بچپن سے اب تک کا احوال بھی موجودہے ۔زندگی کے نشیب وفراز بھی ہیں اور شاعری کا سفر بھی ۔یہ ایک ایسی خاتون کی شاعری ہے جو زبان و بیان پر گرفت رکھتی ہیں ۔ جنہوں نے فارسی کا بھی مطالعہ کیا۔ کلاسیکی ادب کے ساتھ بھی ان کی وابستگی رہی۔شاعری کا سفر انہوں نے زمانہ طالب علمی میں ہی شروع کیا تھا۔وہ سکول میگزین کی ایڈیٹر اور بزم ادب کی سیکرٹری بھی رہیں۔یوں ایک طویل شعری سفر نے ان کی شاعر ی میں وہ رچاﺅ پیدا کردیا جو کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ان کی غزلوں نظموں میں زبان و بیان اور شاعری کے فن پر ان کی مکمل گرفت قاری کو متوجہ کرتی ہے ۔ بحور کا تنوع اور منفرد زمینیں ان کی غزلوں کو خوبصورت بناتی ہیں چند اشعار آپ کی نذر۔۔
ہم تشنگاں سراب سے بہلے رہیں تو خوب
دریا تک آئے ہی تھے کہ دریا تمام شد
آوارگانِ شوق کی دیوانگی نہ پوچھ
پیش از طواف وسعت صحرا تمام شد
۔۔۔
چند ساعت کے لیے شوق کا جلوہ دیکھا
اور پھر چاروں طرف آگ کا دریا دیکھا
میں جو ڈوبی سرِ ساحل تو عجب بات ہوئی
دور جاتا ہوا دریا کا کنارہ دیکھا
۔۔۔
آرزو مختصر نہیں ہوتی
بندگی کارگرنہیں ہوتی
کون جلوہ نما مقابل ہے
آئینے کو خبر نہیں ہوتی
۔۔۔
جاں سوز تھا وہ عشقِ طرح دار!الوداع
اے درد الوداع مرے اے یار الوداع
وارفتگی متاع جنوں تھی کبھی مجھے
دیوانگی مری تجھے سو بار الوداع
عشرت گہہِ نگاہ ہے جلوہ ندیم کا
بارِ طلب سے ہے ہمیں انکار الوداع
۔۔۔
آسماں سے پرے جہاں کیا ہے
دہر کی آنکھ میں نہاں کیا ہے
رائیگانی ہے عمربھر کی رفیق
اورترے ہجر کا بیاں کیا ہے
دو سو صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت 300 روپے ہے اور اسے دنیائے ادب ریگل چوک کراچی کے پتے سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔

Views All Time
Views All Time
83
Views Today
Views Today
1




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*