رضی الدین رضیسرائیکی وسیبکالملکھاری

: ہوتل بابا کا کالم ( 3) ۔۔ رضی الدین رضی

ادبی تقریبات میں شرکت کا جو ہمیں شوق ہے وہ آپ سے چھپاہوا نہیں۔دعوت نامہ نہ ملے تو ناخواندہ سامعین کی صف میں بیٹھ جاتے ہیں اورتماشائے  اہل قلم  دیکھتے ہیں۔پچھلے دنوں ہم نے بغیر دعوت نامے کے جن تقریبات میں شرکت کی ان میں سے ایک فیض صاحب کے لیے منعقد کی گئی تھی ۔دوسری عرش صدیقی کی شان میں برپاہوئی۔فیض صاحب کی تقریب کے دعوت نامے محمد معاویہ ادیب نے تقسیم کیے جن کا قلمی نام ایم ایم ادیب ہے اورجنہیں اقبال ساغر صدیقی ملی میٹرادیب بھی کہتے ہیں۔عرش صدیقی کے ساتھ منائی جانے والی سہ پہر کے مہتمم خالد خلیل تھے جو اعزاز احمد آذر کی رخصتی کے بعد نیشنل سنٹر کی ساکھ بہتر بنانے میں مصروف ہیں۔ ادبی تقریبات میں شرکت کا جو ہمیں شوق ہے وہ آپ سے چھپاہوا نہیں۔دعوت نامہ نہ ملے تو ناخواندہ سامعین کی صف میں بیٹھ جاتے ہیں اورتماشائے  اہل قلم  دیکھتے ہیں۔پچھلے دنوں ہم نے بغیر دعوت نامے کے جن تقریبات میں شرکت کی ان میں سے ایک فیض صاحب کے لیے منعقد کی گئی تھی ۔دوسری عرش صدیقی کی شان میں برپاہوئی۔فیض صاحب کی تقریب کے دعوت نامے محمد معاویہ ادیب نے تقسیم کیے جن کا قلمی نام ایم ایم ادیب ہے اورجنہیں اقبال ساغر صدیقی ملی میٹرادیب بھی کہتے ہیں۔عرش صدیقی کے ساتھ منائی جانے والی سہ پہر کے مہتمم خالد خلیل تھے جو اعزاز احمد آذر کی رخصتی کے بعد نیشنل سنٹر کی ساکھ بہتر بنانے میں مصروف ہیں۔ فیض صاحب والی تقریب کی صدارت ایلس فیض نے کی ۔عبداللہ ملک ان کے ساتھ تھے۔تقریب میں فیض صاحب کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد موجودتھی۔البتہ عرش صدیقی والی سہ پہر میں حاضرین کی بہت کمی نظرآئی ۔اورتواور طائرلاہوتی بھی موجودنہیں تھے ۔حالانکہ وہ عرش صاحب کی کار کا پانچواں پہیہ سمجھے جاتے ہیں۔جہاں کارک جائے وہاں اپنا کندھا پیش کرتے ہیں۔بعض لوگوں کاکہنا ہے کہ اب طائر لاہوتی حسب فطرت عرش صاحب سے کنارہ کشی اختیارکررہے ہیں۔تاثیروجدان کے بقول ایک وجہ یہ ہے کہ یونیورسٹی میں ملازمت حاصل کرلینے کے بعد اب طائرلاہوتی کو عرش صاحب سے کوئی مطلب نہیں رہا۔اب ہمیں ان پروفیسر صاحب  کی یاد ستارہی ہے۔جنہیں لوگ پیار سے پروفیسر کالے خان بھی کہتے ہیں۔ان کی کتاب ”کہکشاں“ میں ادیبوں اور شاعروں کے علاوہ بااثر افراد کوبھی نمایاں جگہ دی گئی ہے۔خاکہ نگاری کے علاوہ انہوں نے تقریبات کی گٹھلیوں سے دام بنانے کاشغل بھی اختیارکررکھا ہے ۔ایم اے کرنے کے بعد جب انہیں حسب شان ملازمت نہ ملی تو انہوں نے فخرامام (جوان دنوں مسندوزارت پر جلوہ افروز تھے)کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کرڈالی اور خاکہ لکھ کر اپنا کام نکالنے کی کوشش کی۔لیکن فلک کج رفتار کو ان کی بہتری منظورنہیں تھی ۔سو فخرامام صاحب کی وزارت بھی جاتی رہی۔ گزشتہ دنوں پروفیسر صاحب  نے ایک اور سرگرمی کی ۔انہوں نے ملتان کے محمود ادیبوں کو ایاز آرٹسٹوں کے ساتھ ایک ہی قطار میں کھڑا کیا اور ان کے گلے سعید قریشی ایوارڈ منڈھ دیا۔سعید قریشی عشروزکوة کے صوبائی وزیرتھے ۔اس لیے ایوارڈ سے بھی زکوة کی خوشبو آنے لگی۔لیکن تقریب کی صدارت کا نتیجہ سعید احمد قریشی کے حق میں بھی الٹا نکلا ۔وہ بھی وزارت سے محروم ہوگئے۔یوں تقریب تو بیکارگئی لیکن پروفیسر کالے خان کی اہمیت بڑھ گئی۔مخالفین جس وزیرکابسترگول کرانا چاہتے ہیں اس کے پیچھے انہیں  لگادیتے ہیں کہ وہ انہیں صدارت کے لیے مدعو کریں۔خیرپریشانی کی ایسی کوئی بات نہیں۔سنا ہے کہ وہ اب غلام حیدروائیں کے نام سے ایک ایوارڈ کا منصوبہ بنارہے ہیں۔ہمارے کالم سے جو لوگ ناراض ہیں ان میں پروفیسر انورجمال کے مخالفین بھی شامل ہیں۔انہیں ملال اس بات کاہے کہ ہمارے دل میں انور جمال صاحب  کے لیے نرم گوشہ کیوں ہے۔توصاحبو عرض یہ ہے کہ ہمیں انورجمال صاحب استری شدہ کپڑے کی طرح نظرآتے ہیں ۔صاف اوربے شکن ۔ایسے لوگ بھلا ملتان میں کہاں۔پھروہ صاحب طرز شاعر ہیں۔منفرد انشائیہ نگارہیں۔ادبی حلقوں میں ان کاایک وقار اورمقام ہے۔ایسی خوبیوں کے مالک کی تعریف کرنے کوتو ہمارا دل خواہ مخواہ کرتا ہے۔انورجمال کے چاہنے والوں کے لیے انہی کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔ اک بس کے حادثے میں غریب الدیارلوگ  زخمی ہوئے توکرنے لگے لوٹ مارلوگ پیدا ہوئے پنجروں میں توپھرفائدہ کیا ہے ان ننھے پرندوں کے اگرپرنکل آئے  دنیا مرے سوال کا الٹا جواب دے دریا کروں سوال توصحراجواب دے
پندرہ روزہ دید شنید لاہور۔2مئی1986

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker