افسانےسائرہ راحیل خانلکھاری

عشقِ حقیقی کا مقام .. سائرہ راحیل خان

ساحلء سمندر اور اسکے پاس موجود وہ چھوٹی سی درگاہ، اس دنیا میں ہم دونوں کے لیے واحد گوشء نشاط تھا۔۔۔۔۔۔
“یار دا دیدار پا کے پا لیا،
عشقِ حقیقی دا مقام”
وہ اپنا پسندیدہ پنجابی گیت گنگناتے ہوئے ساحل کی ریت سے گھروندا بنانے میں مگن تھی۔
“کس کا آشیاں ہے یہ”؟
میں جو قریب ہی موجود پتھر کے بینچ پر کب سے بیٹھا انہماک سے اسے دیکھ رہا تھا، اسکا گھروندا مکمل ہونے پر سوال کر بیٹھا۔۔۔۔۔۔۔
“ہمارا ”
اسنے گھروندے کو درگاہ کے پھولوں سے سجاتے ہوئے مختصر جواب دیا ۔۔۔۔۔۔
“اور بھلا کب رہیں گے ہم دونوں یہاں؟”
میں نے مسکرا کر ایک اور سوال کیا،
“نہیں جانتی کب؟؟؟”
اسنے گھروندے کی آرائش ترک کی اور ریت سے سنے ہاتھ کی ہتھیلی پلٹ کر اپنے چہرے پر بکھری زلفیں ہٹاتے ہوئے گہری اداسی سے کہا۔۔۔۔۔۔
“ارے اداس کیوں ہو گئی تم؟ “
میں نے تشویش ظاہر کی۔۔۔۔
اک بات بتاؤ!
“کسی کے برہنہ، لرزتے وجود کو اپنی ذات کے سات پردوں میں ڈھانپ لینا۔ اور اسکے تقدس کو اپنے دل و جان سے عزیز تر جاننا ۔۔۔۔۔
اس سے بڑھ کر محبت کی انتہا اور کیا ہوگی؟
“وہ وہیں نیچے ریت پر بیٹھی میری طرف پلٹی اور میرے گٹھنوں پر اپنے دونوں ہاتھ جما کر بولی”
محبت کی انتہا طے نہیں کی جا سکتی۔ محبت ہمیشہ “بے انتہا” ہوتی ہے ۔ جب ہم سمجھتے ہیں کہ یہاں محبت کی حد ہو گئی عین وہیں سے محبت کا نیا آغاز ہوتا ہے۔ اسی طرح ہم ایک ایک کر کے محبت کی کئی منازل طے کرتے چلے جاتے ہیں۔ رستے میں ایک پڑاؤ آتا ہے “عشق” ۔ اور اس سے آگے کا سفر نہایت کٹھن ہے ۔جسے طے کرنا سب کے بس کی بات نہیں۔ کیوں کے یہ سفر جس اعلیٰ مقام تک رسائی رکھتا ہے وہ “عشقِ حقیقی کا مقام” ہے ، جہاں تک پہنچنے کے لیے من تو کیا تن کی بھی بازی لگا دی جاتی ہے ۔ اور پگلی تم میری محبت کی ابتدا کو انتہا سمجھ بیٹھی ہو ۔۔۔ “آنسوؤں سے بھیگے اسکے رخساروں پر اپنی انگلیوں کا لمس چھوڑتے ہوئے میں نے اسے پیار سے سمجھایا”
عشق و محبت کی منازل تو تم ہی جانو، میرا مقام اور منزل تو بس یہیں ہے ، مجھے عمر بھر یہیں رہنے دو۔۔۔۔۔۔
“اسنے جھک کر اپنا سر میرے قدموں میں رکھتے ہوئے کہا تو میری دھڑکنیں بے ترتیب ہو گئیں، مسلسل بہتے اسکے آنسوؤں سے میرے پیر بھیگنے لگے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “نہیں پگلی تمہاری آنکھوں سے بہتے ان انمول موتیوں کا مقام میرے قدموں میں نہیں بلکہ میرے دل میں ہے۔ آنسو بہانے ہی ہیں تو میرے سینے پر دل کے قریب بہاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” میں نے تڑپ کر اسے اپنے قدموں سے اٹھایا اور باہوں میں بھر لیا”
جانتی بھی ہو کتنی تکلیف دیتے ہیں مجھے تمہارے آنسو؟
“میں نے شکوہ کیا، اس بار یہ سوغات میری آنکھوں میں بھی اتر آئی”
ہاں جانتی ہوں مگر میرے ایسے ان گنت آنسو بھی تمہارے اس ایک آنسو کی اذیت کا ازالہ نہیں کر سکتے جو تم نے میرے وجود کے گرد بکھرے خار چنتے چنتے بہائے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“وہ میرے سینے سے جدا ہوتے ہوئے سر جھکا کر بولی”
کچھ دیر خاموش بیٹھے رہنے کے بعد اسنے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور میرے قریب سے اٹھ کر وہی گیت گنگناتے ہوئے سامنے درگاہ کی طرف چل دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس روز وہ فقط میرے سینے سے ہی جدا نہیں ہوئی تھی بلکہ مجھ سے بھی جدا ہو کر جا چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


“دادا جان آپ اکثر فجر کے بعد یہاں ساحل پر آکر گھنٹوں وقت گزارتے ہیں۔ کوئی خاص بات ہے یہاں کیا؟”
“بہت خاص”
میرے عزیز پوتے نے آکر میری سوچوں کا تسلسل منقطع کیا تو میں نے مسکرا کر اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔
(وہ مجھے لینے آیا تھا)
” کیا مجھے نہیں بتائیں گے وہ خاص بات”
جواباً اس نے بھی مسکرا کر پوچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
یوں سمجھ لو کے کوئی بہت خاص میرے اور اپنے لئے برسوں پہلے اسی ساحل پر خوابوں کا ایک حسین آشیاں بنا کے چھوڑ گیا تھا۔ جہاں زندگی کی مصروفیات سے چند لمحات چرا کر اسکے سنگ جینے آتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔
“میں نے ایک گہری سوچ میں ڈوبتے ہوئے اسکی بات کا جواب دیا”
کیا واقعی دادا جان، اور اب کہاں ہے آپکا وہ خاص؟
“نہیں معلوم”
اپنے پوتے کی بات پر میں نے سامنے درگاہ کی طرف دیکھتے ہوئے اداسی سے کہا۔۔۔۔
مگر آپ تو اللہ کی یاد میں اسقدر مگن رہتے ہیں ، لگتا ہی نہیں کے کوئی دوسری یاد بھی آپکے دل میں گھر کرتی ہوگی۔۔۔۔۔۔
“میرے پوتے نے چلتے چلتے معنی خیز لہجے میں کہا”
ارے میاں! اللہ کی یاد سے غفلت کی کوتاہی بھلا کیسے کر سکتا ہے یہ دل ۔ ہاں البتہ کبھی کبھی وہ صورت تلاشنے یہاں آ بھٹکتا ہوں جسکی محبت نے مجھے “عشقِ حقیقی کا مقام” سمجھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔ (ہم نے کار میں بیٹھ کر گفتگو جاری رکھی)
بہت گہری باتیں کرتے ہیں داداجی آپ!!
اسنے کار اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا تو میں نے جواباً ایک ہلکی سی مسکراہٹ اسکی نذر کی۔۔۔۔۔۔
کار جب درگاہ کے قریب سے گزری تو کسی بھولے بھٹکے فقیرء عشق کی آواز میں گونجتا وہی برسوں پرانا گیت میری سماعتوں سے ٹکرایا ۔ اور محسوس ہوا کہ میں ایک بار پھر اسکی تلاش میں وہیں ساحل کے کنارے جا کھڑا ہوا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“دور سی جدائی والا چلدا
زندگی غماں دے وسے پے گئی،
ایسا مستانہ یار ملیا ،
کمی نا کوئی زندگی اچ رہ گئی،
یار دا دیدار پا کے پا لیا،
“عشقِ حقیقی دا مقام”
سجدہ کراں میں دوجھا رب نوں پہلی میرے یار نوں سلام!!!!!!!!!!!

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker