افسانےسائرہ راحیل خانلکھاری

انٹر نیٹ والے بہن بھائی ؟ ۔۔ سائرہ راحیل خان

“کچھ تو خدا کا خوف کرو، تم تو کہتے
تھے کہ میں تمہاری بہن جیسی ہوں ، بھلا بہن سے بھی کوئی ایسی گھٹیا خواہش کا اظہار کر سکتا ہے ۔ دیکھو مجھے میرے اعتبار کی اتنی بڑی سزا مت دو ۔ جیسا تم چاہتے ہو میں ویسا ہرگز نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔۔۔۔”
(اس نے بیحد مجبور ہو کر التجا کی۔۔۔۔)

“کیا خبر مجھ جیسے کتنے بھائی ہوں گے تمہارے بیبی، بہتر ہوگا انہی کی بہن بن کر رہو مگر میں نے اب اپنا ارادہ بدل لیا ہے ۔ تمہارے ان آنسوؤں اور التجاؤں کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہونے والا اس لیے بہتر ہے کے یہ ڈرامہ بند کرو اور چپ چاپ میری بات مان لو ورنہ انجام بہت برا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ”
(میں نے نہایت سفاکی سے جواب دیا)
“میری اس سے ملاقات چند ماہ پہلے انٹرنیٹ کے ذریعے ہوئی تھی ۔ وہ آسانی سے ہاتھ آنے والیوں میں سے نہیں تھی تاہم میں نے اسے بہن کہہ کر اسکا اعتبار جیتا تھا۔ مگر اسکی موہنی صورت اور قربت نے دھیرے دھیرے میرے اندر کی خباثت کو بیدار کر دیا . میں نے اعتبار کا جو جال بچھایا تھا وہ اس میں بری طرح سے پھنس چکی تھی۔
میں اپنے غلط ارادوں کی تکمیل کی خاطر اسے خود سے ملاقات پر مجبور کرنے لگا۔

وہ میرے آگے مسلسل گڑگڑا کر رحم کی بھیک مانگ رہی تھی مگر میرے حواس پر شیطانیت اسقدر سوار تھی کہ مجھ پر اس کی کسی بھی بات کا کوئی اثر نہ ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ”
” کل اس ایڈریس پر پہنچ جانا ورنہ انجام کی ذمہ دار تم خود ہوگی”
میں نے انٹرنیٹ پر اسے ایک آخری میسج سینڈ کرتے ہوئے اپنا لیپ ٹاپ بند کر دیا ۔ میری اس حرکت سے وہ کسقدر اذیت اور پریشانی کا شکار ہوئی ہوگی ، اس بات سے مکمل لاتعلقی برتتے ہوئے میں اپنے ناپاک ارادوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی منصوبہ بندی کرنے لگا ۔ اور اگلے روز مقررہ وقت پر اپنے دوست کے اس خالی فلیٹ میں جا پہنچا جہاں میں نے اسے آنے پر مجبور کیا تھا ۔ میں بےتابی سے اس کا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد ڈور بیل بجی۔ میں تیزی سے دروازے کی طرف بڑھا۔
ایک لڑکی اپنے چہرے پر نقاب ڈالے میرے سامنے کھڑی تھی۔ میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ میں نے اسے اندر بلایا اور دروازہ بند کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ت ت تم! تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ ”
میں لڑکھڑاتی ہوئی زبان میں چلایا۔
لڑکی نے اپنے چہرے سے نقاب ہٹایا تو میرے پیروں سے جیسے زمین کھسک گئی ۔ وہ کوئی اور نہیں بلکہ میری بہن تھی۔
“میں پوچھ رہا ہوں تم یہاں کیا کر رہی ہو”
میں ایک بار پھر غضبناک انداز میں گرجا۔۔۔۔۔۔
“یہی سوال تو میں آپ سے پوچھنے یہاں تک آئی ہوں بھائی ! کہ آخر آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ”
وہ میرے غصے کی پرواہ کیے بغیر نہایت تحمل سے مگر معنی خیز انداز میں بولی۔
“وہ، میں ، یہاں کسی سے ملنے آیا تھا”
میں اس سے نظریں چراتے ہوئے بوکھلاہٹ کا شکار ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“شاید اس سے ملنے آئے تھے جسے آپ نے بہن جیسے مقدس رشتے کی آڑ میں اپنی ہوس کا نشانہ بنانا چاہا، ،،،، خیر وہ بہن تو نہیں آ سکی ، لیجئے میں حاضر ہوں۔۔”
“بکواس بند کرو جانتی بھی ہو کیا کہہ رہی ہو تم اور کسی کو فقط بہن کہہ دینے سے کوئی بہن بن نہیں جاتی ”
میں نے اپنی بہن کے گال پر ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔
“ارے واہ بھائی! آپ تو اچھے سے جانتے ہیں کہ صرف کہہ دینے سے کوئی کسی کی بہن یا بھائی نہیں بن جاتا۔ مگر وہ کم عقل تو آپ کو واقعی بھائی سمجھ کر اعتبار کر بیٹھی جسکی آپ اسے اتنی بھیانک سزا دینے چلے تھے۔ افسوس کے آپ صاحبِ عقل اور با شعور ہوتے ہوئے بھی ایک کم فہم اور کمزور لڑکی کا جان بوجھ کر فائدہ اٹھانا چاہ رہے تھے ۔ ”
میں حیرت کے عالم میں پھٹی پھٹی نگاہوں سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔ اس کے الفاظ کسی نشتر کی طرح میری سماعتوں کو زخمی کرنے لگے مگر میں ابھی بھی اس کی باتوں کو مکمل طور پر سمجھنے سے قاصر تھا۔ آخر وہ یہاں تک کیسے پہنچی ؟جہاں یہ سوال مجھے بےچین کیے جا رہا تھا وہیں دوسری طرف اپنی بہن کو وہاں پا کر میں خود کو ذلت کی پستیوں میں دھنستا محسوس کرنے لگا۔ اس نے میری آنکھوں میں حیرت اور سوال بھانپتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔۔۔۔۔۔
“حیران مت ہوں بھائی جس لڑکی کے آپ منتظر تھے اتفاق سے وہ میری سہیلی ہے ۔ اس کی قسمت اچھی تھی جو اس نے اپنی اس پریشانی میں مجھے شریک کیا اور سب بتا دیا۔ آپ نہیں جانتے کہ میں کس قدر بوجھل قدموں سے یہاں تک پہنچی ہوں بھائی۔”
اس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور میں اس کے سامنے آنکھ اٹھانے کے قابل تک نہیں رہا تھا۔۔۔۔۔۔
“کاش کہ میری سہیلی جیسی عاقبت نا اندیش لڑکیاں یہ حقیقت پرکھ سکیں کہ جو محرم رشتے اللہ نے ان کے لیے مختص کیے ہیں ان کا نعم البدل کوئی بھی نا محرم ان کا نعم البدل کوئی بھی نا محرم نہیں ہو سکتا۔انٹرنیٹ پر محض وقت گزاری کی خاطر کسی بھی نامحرم سے بھائی یا دوست جیسے تعلقات استوار کرنے سے پہلے کاش کہ لڑکیاں ایک بار سوچ لیں کہ یہ تعلقات ان کے اختیار میں تو ہیں مگر اخلاقی اور مذہبی حدود میں نہیں اور ان حدود سے تجاوز کسی تباہی کا پیش خیمہ ہو سکتے ہیں۔ کاش کہ وہ جان سکیں، یہ نام نہاد نامحرم دوست اور بھائی فقط عورت ذات کا لمس لینے کا ایک بہانا ہیں ۔ کاش کہ ایسی کم عقل، جذباتی طور پر کمزور لڑکیوں کو جھوٹے اور کھوکھلے رشتوں میں الجھا کر فائدہ اٹھانے والے لڑکے بھی جان پائیں کہ یہ دنیا مکافاتِ عمل ہے۔ جہاں تک لانے کے لیے وہ کسی اور کی بہن کو مجبور کر سکتے ہیں ، کوئی دوسرا ان کی بہن کو بھی وہاں تک لے جا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
اس بار آنسو فقط اس کی ہی نہیں بلکہ میری آنکھوں کو بھی بھگو رہے تھے۔ مگر میرے آنسووُں میں “ندامت” کا غبار اسقدر چھایا تھا کہ سارا منظر دھندلا سا گیا۔ مگر میری یہ ندامت اپنی بہن کے سامنے میرا جھکا سر اٹھانے کے لیے کافی نہیں تھی
وہ جا چکی تھی !!!!!!
اور میں وہیں کھڑا زمین بوس ہونے لگا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker