ہیپی برتھ ڈے ۔۔ سائرہ راحیل خان




shahid raheel

“ہیپی برتھڈے ڈئیر ابا” ہیپی برتھڈے ٹو یو،،،، ”
میں جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا میرے ننھے منے پوتوں اور پوتی کی پرجوش مبارکباد سے فضا گونج اٹھی۔ سب نے مل کر بیحد پیار سے دادا کے لئے یہ سرپرائز برتھ ڈے پلان کی تھی۔ اپنے پیاروں کے چہروں پر خوشی دیکھ کر میرے لب بھی مسکرا دیے ، ساتھ ہی آنکھوں میں چھائی دبیز اداسی نمی کی صورت امڈ آئی ۔ غم اور خوشی کا اس قدر گہرا امتزاج میں پہلی بار محسوس کر رہا تھا۔
گھر پر رکھی گئی سالگرہ کی چھوٹی سی مگر اپنوں کی چاہت اور خلوص سے سجی یہ محفل نہایت حسین تھی۔ مگر دل تھا کہ مضطرب ہوا جاتا تھا، شدت سے محسوس کر رہا تھا کہ ان خوشیوں اور رونقوں پر فقط میرا ہی حق نہیں تھا بلکہ ان کی شریک اور حقدار کوئی اور بھی تھی، جو شاید بہت جلد اپنے اس حق سے دستبردار ہوتے ہوئے ہماری سب خوشیاں ادھوری چھوڑ کے بہت دور جا چکی تھی۔
بہرحال میں نے اپنے بکھرتے جذبات کو ظاہری مسکراہٹ میں بخوبی سمیٹ لیا اور میری خوشی کی خاطر سجائی گئی اس محفل میں اپنے پیاروں کا ساتھ دیا۔ بیشک وہ اپنے بعد میرے جینے کے لئے یہی خوبصورت رشتے اور سہارے ہی تو چھوڑ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر اپنوں کے ساتھ ہنسنے مسکرانے کے بعد میں غیر محسوس انداز میں وہاں سے اٹھ کر اپنی سٹڈی کی طرف چلا آیا ۔ اس کے جانے کے بعد یہ جگہ اور کاغذ قلم ہی میرے احباب اور ہمراز تھے، جہاں میں بہت سے کہے ان کہے احساسات تحریر کی صورت اپنی ڈائری میں مقید کر لیا کرتا تھا۔۔۔۔۔۔
آج میرا جنم دن تھا، سانسوں کی مالا سے ایک اور موتی ایک برس کی مانند سرکایا جا چکا تھا ۔ یہ تسبیح ء زیست جانے ابھی کتنی طویل تھی ۔ میری شریکِ حیات! جس کی دھڑکنیں میری سانسوں کی اس مالا میں شریک تھیں ! اس کے جانے کے بعد یہ مالا جیسے ٹوٹ چکی تھی البتہ ابھی انہیں بکھرنے کا حکم نہیں تھا۔ مگر زیست کی اس شکستہ تسبیح پر بھلا کب تک اور کتنی سانسیں جپھی جا سکتی تھیں ؟ جو شریکِ زندگی تھی اس کے بغیر زندگی کا ایک اور برس گزار دینے میں بھلا کاہے کی خوشی؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
“ہیپی برتھڈے ” ڈئیر بابو جی” سیل فون ریسو کرتے ہی اپنی پیاری نواسی کیطرف سے ملی مبارکباد نے چند لمحات پہلے دل و دماغ پر چھا جانے والے مغموم خیالات کا تسلسل توڑ ڈالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے آنکھوں سے بہتے آنسو انگلیوں کی پوروں میں جذب کرتے ہوئے مسکرا کر اپنی ننھی پری کو شکریہ کہا،،،،،،، ساتھ ہی
“بچھڑ جانے والی کا مسکراتا چہرہ میری چشمِ تر میں لہرا گیا، جیسے کہ میری سانسوں کو چلنے اور دل کو دھڑکنے کی خوبصورت وجہ سمجھا گیا ہو “

Views All Time
Views All Time
18
Views Today
Views Today
2




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*