افسانےسائرہ راحیل خانلکھاری

قوس قزح ۔۔ سائرہ راحیل خان

بارش کے بعد ساری کائنات نکھری نکھری سی تھی اور آسمان بھی اجلا اجلا، سورج کی کرنیں ہلکی بوندوں سے سرگوشیاں کرتی محسوس ہو رہی تھیں ،،،،
آسمانی نیلے سوٹ میں اسکا چاندی سا بدن، لبوں کی گلابی، ساگر سی آنکھوں کا کاجل اور اسکے سنہرے بال،،، بادلوں کی اوٹ سے جھانکتی قوسِ قزاح کی ۔منظر کشی کر رہے تھے،،،،،
وہ میرے سامنے بیٹھی تھی ، جوس کا گلاس اسکے گلاب ہونٹوں سے لگا دیکھ ، مجھے کانچ کے اس گلاس سے شدید جلن محسوس ہو رہی تھی،،،، اسکی صراحی سی گردن میں گھونٹ گھونٹ اترتا وہ رس میری آنکھوں کو مدہوش کیے جاتا تھا،،،،، اسکی کھنکتی ہوئی آواز فضاؤں میں سنگیت گھول رہی تھی،،،،،
“خاموش کیوں ہو؟ کہو نا کیوں بلایا تھا مجھے؟”
اسنے جوس کا گلاس میز پر رکھا اور اپنے نازک مرمریں ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھتے ہوئے پوچھا،،،،،،،، اس سے پہلے کے میں کوئی جواب دیتا، اسکے ھاتھوں کا لمس میرے روم روم تک اتر گیا،،،،،،
“پتا نہیں ” میں اسکے سحر میں ڈوبتے ابھرتے بمشکل اتنا ہی کہہ پایا ۔۔۔۔۔”
“پھر مجھے بلایا کیوں ” اسنے بھنویں سکیڑتے ہوئے پوچھا،،،
“تمہیں دیکھنے کے لئے ” اسکے حسن میں مدہوش ، ہلکی سی مسکراہٹ کیساتھ میں نے جواب دیا،،،،،،،
“مگر تم نے تو کہا تھا تم مجھ سے ناراض ہو، مجھے دیکھتے ہی ناراضی ختم ہو گئی کیا تمہاری؟”
مجھے اپنے حسن کے حصار میں قید ہوتا دیکھ، وہ اترا کر بولی۔۔۔۔۔۔۔۔
یاد آیا کے واقعی مجھے اس سے کچھ گلے شکوے کرنا تھے ، مگر اسے روبرو دیکھ کر سوا محبت کے بھلا اور کیا بھی کیا جا سکتا تھا،،،،،،،،،،،،،،،
“اب کوئی ناراضی باقی نہیں رہی”،،،،،،، میں نے اسکی گہری آنکھوں میں دور تک جھانکتے ہوئے ، معنی خیز مسکراہٹ سے جواب دیا تو اسنے حیا سے گھنیری پلکیں جھکا کر جادونگری جیسی اپنی حسین آنکھوں کے دوار بند کر دیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جب بھی میرے سامنے آتی میں ہونہی کچھ کہے سنے بغیر ، اپنے تخیلات کے گھنے جنگل میں کسی حسین ڈگر پر اسکا ھاتھ تھامے کوسوں دور نکل جایا کرتا،،،،،،، اسکی باتیں ، سننے سمجھنے سے بےنیاز مدھر موسیقی کی مانند میری سماعتوں میں گھلتی رہتیں ،،،،،،
گزشتہ کئی برسوں میں ہم کئی بار مل چکے تھے مگر انتی انفرادیت تھی اسکی شخصیت میں کہ وہ ہر بار ایک نئے انداز میں میرے سامنے ہوتی، اسکی محبت کے اتنے رنگ تھے کہ ابھی ایک رنگ میری ذات سے اترتا نہیں تھا ، وہ دوسرے میں مجھے رنگ دیتی تھی،،،،،،،،
“وہ دیکھو قوسِ قزح ” اسنے آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے میری توجہ چاہی،،،،،،،،،
بارش سے دھلے شفاف آسمان پر قوسِ قزاح رنگین تتلیوں کی طرح اپنے پر پھیلائے جیسے نیلے گگن کی تاج پوشی کر رہی تھی۔۔۔۔۔
میں نے اس دلکش منظر سے نظر ہٹا کر دوبارہ اپنے محبوب چہرے کیطرف دیکھا ،،،،،،،،،
“تم بھی تو “قوسِ قزاح” جیسی ہو، جس نے میری ذات کے کورے کینوس کو اپنی محبت کے بیش بہا رنگوں سے سجا دیا ہے،،،،، ” میں نے خود کلامی کی۔۔۔۔۔
“وہ ابھی تک آسمان پر سجے رنگوں کی طرف دیکھ رہی تھی ،اور میں زمین پر موجود محبت کی اس حسین “قوسِ قزاح” کے رنگوں میں رنگتا چلا جا رہا تھا”۔
میں آج تک نہیں سمجھ پائی کہ قوس قزح کے رنگوں میں سے سب سے حسین رنگ کون سا ہے۔۔۔۔اس نے گہری سوچ میں ڈوبتے ہوئے خود کلامی کی۔ ہاں ویسے ہی جیسے میں آج تک تمہاری محبت کے رنگوں میں سے فیصلہ نہیں کر پایا کہ کون سا رنگ گہرا ہے۔ میں نے اس کے مخملی ہاتھوں کو محسوس کرے ہوئے کہا۔
بناتے خوب ہو جی، اس نے ہلکہ سا قہقہہ لگایا، اور میرے ارد گرد کا سارا جہان اس قوس قزح کے رنگوں میں نہا گیا۔۔۔۔۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker