عمر بھر کا دکھ ۔۔ ثمانہ سید


urdu short stories and columns of of samana syed at girdopesh.com
  • 19
    Shares

کُرم ایجنسی کے اس علاقے میں پہنچنے کے لیے پہاڑوں سے گزرنا پڑتا ہے۔یہاں سال میں بارہ ماہ برف پڑی رہتی ہے۔میں سات سال بعد یہاں آئی تھی۔بھیا کی نوکری یہاں تھی اس لیے مجھے ماں سے ملنے یہیں بلایا گیا۔جگہ نئی مگر بہت خوبصورت تھی۔بادل اکثر میرے دریچے میں اتر آتے مجھ سے باتیں کرتے اور میں اس وادی کی رعنائیوں میں کھو جاتی۔
آج کی صبح جب میں نے کھڑکی سے پردہ ہٹایا تو برفیلی چادروں پر سورج کی کرنوں کو چھن چھن کرتے پایا۔چنار کے درختوں سے ڈھکا یہ علاقہ بہت دلفریب لگ رہا تھا۔میں کچھ دیر انہی وادیوں کی رنگینی میں کھو گئی۔باہر ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی۔مجھے ایک دم سامنے چنار کے نیچے بیٹھی عورت کا خیال آیا۔میں روز اس کو وہیں‘ایک سمت اور ایک انداز میں بیٹھے دیکھتی۔وہ ہمیشہ کالے لباس‘بے سرمہ آنکھوں اور بغیر دنداسہ(دانت صاف کرنے کے لیے استعمال ہونے والی ایک چھال جس سے ہونٹ رنگین ہونے لگتے ہیں)کیے دیکھتی۔اس کا چہرہ بے تاثر سا ہوتا‘جیسے وہ کچھ دیکھتی سنتی ہی نہ ہو۔اس کی چادر ہوا سے ہل رہی تھی مگر اسے اس کی خبر نہ تھی۔دوسری جانب ہماری بکریاں بندھی تھیں۔میں نے دیکھا ایک میمناکھل کر اس کی باڑ کے پاس آ رکا۔اس ڈر سے کہ کہیں میمنابھاگ نہ جائے میں نے آواز دی:
’پکڑنا۔۔۔اسے پکڑنا‘مگر وہ عورت ساکت بیٹھی رہی۔مجھے اس کا انداز عجیب لگا۔خیر اس دن میں اپنا میمنا واپس لے آئی اور یہ بات آئی گئی ہو گئی۔لیکن روزبروز میرا اس عورت کے متعلق تجسس بڑھنے لگا۔وہ کون تھی‘کہاں سے آئی تھی‘کیا اکیلی تھی‘کیوں چپ سی تھی۔۔۔امی بتاتی تھیں کہ وہ نئی پڑوسن ہے۔اس سے زیادہ ان کو بھی نہیں معلوم تھا۔’امی آپ بھی کمال کرتی ہیں۔آپ کی پڑوسن ہے اور آپ نے پوچھا تک نہیں۔‘آج میں اس کے پاس جاتی ہوں‘آپ مجھے ایک پلیٹ میں کچھ پھل ڈال دیں تاکہ اس کوتحفہ دے سکوں۔جب میں اس کے پاس پہنچی تو وہ حسبِ معمول کالے لباس میں بے تاثر چہرے کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔اس کی عمر کوئی35سے40کے لگ بھگ تھی اور اس پر سردی بڑھنے کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔
’السلام علیکم!‘وہ چپ رہی۔
’یہ پھل میں آپ کے لیے لائی ہوں۔‘میں نے پھل اس کے قریب پڑے ٹوٹے ہوئے میز پر رکھ دئیے۔اس نے میری جانب ایسے دیکھا جیسے شکریہ بول رہی ہو۔میں مسکرائی کہ یہ انداز خلافِ توقع تھا۔ اور اس کے پاس پڑے بڑے سے پتھر پر بیٹھ گئی۔
’میں زرمینہ ہوں۔جمروسے آئی ہوں۔آپ کو اکثر وہاں سے دیکھتی ہوں۔۔‘میں نے اپنی کھڑکی کی جانب اشارہ کیا۔اس نے پلکیں جھکا کر سر ہلایا۔وہ بول کیوں نہیں رہی تھی۔مجھے سمجھ نہ آ رہا تھا۔’آپ کا نام کیا ہے؟‘کچھ پل رکنے کے بعد میں نے سوال کیا۔اس نے چونک کر مجھے دیکھا پھر ادھر ادھر ایسے دیکھنے لگی جیسے جواب ڈھونڈ رہی ہو۔کالی چادر میں ڈھکے سنہری بالوں کی لٹ کو پیچھے کرتے بولی:
’نام؟۔۔۔۔۔میں اپنا نام بھول گئی ہوں۔‘
میں نے اس کی آنکھوں میں آنسوﺅں کی قطارگرتے دیکھی۔ہم کچھ دیر خاموش بیٹھے رہے پھر میں بولی۔
’آپ کون ہیں؟‘(میں اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولی۔)
’میں۔۔۔۔۔میں ایک لاش ہوں‘اس کے جواب نے مجھے جیسے تھپڑ سا لگا ہو۔وہ کیوں ایسے بول رہی تھی۔اس کے ساتھ کیا ہوا تھا۔وہ کیوں اکیلی بیٹھی رہتی۔میں جاننا چاہتی تھی۔کچھ دیر ہم چپ کر کے ایسے ہی بیٹھے رہے۔پھر میں گھر آ گئی۔ہمارایہ معمول کئی دن چلتا رہا۔پھر ایک دن میں نے آہستہ سے اس کا ہاتھ تھاما اور اس کو اپنے گھر کے برآمدے میں لے آئی۔یہاں اس کو آگ کے نزدیک بٹھایا اور قہوہ بنا کر پیش کیا۔وہ رفتہ رفتہ مجھ سے مانوس ہو رہی تھی۔جب قہوہ ختم ہوا تو وہ خود ہی بولی۔۔۔۔’میرا نام گلناز ہے۔میں پانچ بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی۔والدین نے بہت ناز سے پالا۔اکیلی تھی اس لئے گھر بھر کا پیار ملا۔مجھے یاد ہے بچپن میں مجھے کھیلنے کے علاوہ کوئی کام نہ ہوتا تھا۔پھر جب میں نو سال کی ہوئی تو میرے سب سے بڑے بھائی نے دوسرے قبیلے کے ایک آدمی کو قتل کر دیا۔اب ہمارے گھر میں ایک کہرام برپا تھا ۔دشمن قبیلے والے ہمارے قبیلے کے خون کے پیاسے ہو رہے تھے۔والدین نے میرے پانچوں بھائیوں کو پہاڑیوں میں فرار ہونے کا مشورہ دیا۔مگر ان کے جانے کے بعد مسئلہ پھر بھی ٹھنڈا نہ ہوا۔دشمن روزانہ ہمارے گھر کے باہر آ جاتے‘لڑائی جھگڑا‘فائرنگ‘دنگا فساد کرتے اور چلے جاتے۔ابا کا جینا دو بھر ہو گیا۔اب معاملہ دن بدن بگڑتا جا رہا تھا۔پھراس کو سلجھانے کے لیے جرگہ بلایا گیا۔مجھے اس وقت جرگہ ہوتا کیا ہے تک کا پتا نہیں تھا۔خیر جرگہ ختم ہوا تو ہمارے گھر میں مٹھائیاں بٹنے لگیں‘قبیلے والے مبارکیں دینے لگے‘ایک دوسرے کو سلام سلام کرنے لگے۔مجھے ان کی کسی بات کی سمجھ نہ آ رہی تھی۔ میں نے اپنی دادی کے منہ سے سنا’سوارا‘طے پایا ہے۔یہ کیا ہوتا ہے مجھے کوئی نہیں بتا رہا تھا۔
’دادی!یہ سوارا کیا ہے؟‘
’سوارا۔۔۔۔؟‘انہوں نے دہرایا اور میری امی کی جانب دیکھا۔امی نے دادی کو کچھ اشارہ کیا اور دادی نے بات بدل دی۔
’بیٹا!خوشی منا کہ اب تیرے تجھ پر جان چھڑکنے والے بھائی سب پہاڑیوں سے نیچے اپنے گھر آ جائیں گے۔‘میں بچی تھی اس بات سے خوش ہو گئی۔پھر اگلے دن رات کے آخری پہر میں ماں نے چپکے سے مجھے اٹھایا اور بولیں’یہ سوٹ پہن کر باہر آﺅ۔‘میں ان کا مطلب نہ سمجھ سکی۔
’کیوں امی۔۔۔نہیں نا۔۔مجھے سونا ہے نا۔۔۔۔‘میں نیند میں ضد کرنے لگی۔
’ارے جلدی آﺅ نیچے تمہیں لینے آئے ہیں۔ابھی تمہارا نکاح ہے۔‘
جی ہاں!میرا نکاح۔۔۔انہوں نے مجھے’سوارا‘کر دیا تھا۔اس کا مطلب یہ کہ بھائیوں کی خاطر مجھے دشمن کے آگے قربان کر دیا تھا۔اس وقت میں کچھ سمجھ نہ پائی‘بس ماں کے کہنے پر جلدی سے کپڑے بدلے اور باہر نکل آئی۔پردے کے اس پار ایک50سے60سالہ آدمی اور قاضی بیٹھے تھے۔ان کے ساتھ کچھ اور آدمی بھی بندوقیں تانیں بیٹھے تھے۔میں نکلی تو بابا نے میرا ہاتھ اس بوڑھے آدمی کے ہاتھ میں دے دیا۔نکاح کے بعد وہ مجھے اپنے گھر لے آیا۔وہاں جشن جاری تھا کہ دشمن کی عزت لے آئے۔۔۔بدلہ پورا ہوا۔میرا دشمن کے قیدی یا کسی زرخرید غلام کی طرح استقبال کیا گیا۔
میں صبح اٹھی تو مجھے کاموں کی ایک لسٹ تھما دی گئی۔مجھے شوہر‘اس کے والدین‘بھائی بہنوں‘مویشیوں‘باغ‘دادی‘دادا حتیٰ کہ پورے قبیلے کے کام کرنے تھے۔ذرا بھول چُوک کی گنجائش نہیں تھی‘اس لیے کہ غلطی کرتی تو شوہر اور اس کے گھر والے شدید مار پیٹ کرتے ‘کھانا کم دیتے اور بات تک نہ کرتے۔مجھے اپنے گھر والوں سے ملنے کی بالکل اجازت نہ تھی۔وہ مجھے دیکھ تک نہ سکتے تھے اور نہ میں ان کو۔یہ بڑا کھٹن دور تھا۔اسی طرح دس سال گزر گئے۔اب شوہر مزید بوڑھے ہو رہے تھے اور میری خدمتوں کے باعث ان کا دل نرم پڑنے لگا۔انہوں نے اپنا رویہ کچھ حد تک تبدیل کیا اور اس دور میں میرے دو بچے :ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہوئے۔ایک بات یہاں بتا دوں کہ شوہر کے قبیلے کا پیشہ بدمعاشی‘چوری اور غلط کام کرنا تھا۔اس لیے ان کے بہت زیادہ دشمن تھے۔اسی دشمنی کی وجہ سے ایک دن ان کو کسی نے قتل کر دیا۔ان کے قتل کی خبر آنے کی دیر تھی کہ پورا قبیلہ مجھے ’منحوس‘گرداننے لگا۔یہی نہیں انہو ں نے مجھے بچوں سمیت گھر سے باہر نکال دیا۔اب20سال بعد پہلی مرتبہ میں اپنے والدین کے پاس آئی۔یہاں کا نقشہ ہی بدلہ ہوا تھا۔بہاروں کی رتیں ختم تھیں‘والد مر چکے تھے‘ماں بوڑھی ہو چکی تھی اور ایک غیر ترقی یافتہ علاقہ ہونے کی وجہ سے وہاں ایک وبائی مرض پھوٹا ہوا تھا۔سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے اسی مرض کی نظر میری بچی ہو گئی۔خیر جو اللہ کو منظور تھا۔۔۔زندگی ریل گاڑی کی طرح چلتی رہی اور اب میرے بیٹے کی جوانی کا دور شروع ہوا۔وہ کڑیل جوان جب20کا ہوا تو میں نے لڑکی دیکھ کر اس کی شادی کر دی۔بیٹے کی شادی کافی عرصے بعدمیری زندگی میں دوبارہ خوشی کی لہر تھی۔میں سارے پرانے غم بھولنے لگی کہ پھر طوفان نے اپنا رخ میری جانب کر لیا۔کسی نے میرے گھر پر’پے غور ‘کر دیا تھا۔جانتی ہو پے غور کیا ہوتا ہے؟یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھیں سرخ ہونے لگیں۔
’نہیں‘میں نے نفی میں سر ہلایا۔
’آسان الفاظ میں پے غور کا مطلب طعنہ دینا ہے۔ہمارے علاقے میں پے غور کرنے کا مطلب کسی کی بے عزتی ‘سُبکی یا خاندان کو نیچا دکھانا ہوتا ہے ۔ہمارے چاچا کو میرے بیٹے کی شادی کے بعد کسی نے پے غور کیا کہ تم لوگ وہی ہو نا جن کے گھر میں لڑکے نے کسی کو قتل کیا تھا پھر جرگے میں سوارا طے پایاتھا۔یہ اسی سوارا ہونے والی عورت کا بیٹا ہے نا۔۔یہ سننا تھا کہ چاچا طیش میں اٹھے اور میرے بیٹے کے سینے میں گولیاں اتار دیں!

فیس بک کمینٹ
image_print




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*