ثمینہ اشرفکالملکھاری

گُفتار کا غازی ۔۔۔ کردار کا کھلاڑی ۔۔ ثمینہ اشرف

گُفتار کا غازی۔۔۔ کردار کا کھلاڑی۔۔ پاکستانی سیاست میں تاحیات۔۔۔ اناڑی۔۔۔ شیر کا شکاری۔۔۔ پیازی ہی پیازی۔۔۔ شانِ بے نیازی۔۔۔ جانِ بے نیازی۔۔۔۔ عمران خان نیازی!
عمران خان نیازی ۔۔۔ یہ نیاز مندوں والا نیازی ہر گز نہیں بلکہ بسوں۔۔۔ٹرکوں۔۔۔زمینوں جاگیروں لینڈ کروزر۔۔۔ہسپتال۔۔۔ورلڈ کپ۔۔کرسیوں۔۔اور ۔۔بوتلوں والا۔۔۔نیازی ہے۔
یونانی دیوتاﺅں سے مشابہت ۔۔ پاکستانی سورماﺅں سے گھائل ۔۔۔ اور ان کے شکار میں حائل۔۔۔نڈھال نہ کبھی ہوا۔۔۔ ڈٹے رہنا ہی اِس کی ڈھال۔۔۔اعلیٰ قیمتی ملبوسات۔۔۔کسرتی بدن۔۔۔تاحدِ نگاہ خود اعتمادی۔۔۔۔ تاحدِ نظر بے باکی۔۔۔ جذباتی و قلبی آسودگی۔۔انسان کو شاہکار ہی تو بنا دیتے ہیں۔ بہرحال یہ اِس مالکِ دو جہاں کی عطا ہے کہ وُہ خوش خیالی اور خوش نصیبی کے سارے رنگ ایک ایسی شخصیت میں سمودے۔۔۔ کہ وُہ اِن تمام تر رعنائیوں کی اپنے نام کے معنی کی طرح “عمرانیات” بن جائے! سیاہ رنگ کے عوامی لباس میں ملبوس 6فُٹ سے زائد لانبے قد میں سیاہ پشاوری کھیڑی پہنے سیاہ چشمے کے ساتھ فاتحانہ مسکراہٹ سجائے انتہائی شاندار دکھائی دیتا ہے۔
میں نے عمران خان کو روبرو تین بار دیکھا ۔ جب بھی دیکھا۔ لاجواب ۔باکمال اور بے مثال ۔۔۔۔ پہلی بار 13نومبر 1990میں “مائی ڈارلنگ سٹی ملتان”کے قاسم باغ سٹیڈیم میں۔ تب دراصل میں متناسب ترین کھلاڑی، ویوین رچرڈز کو اپنی آنکھوں سے کھیلتے دیکھنا چاہتی تھی۔ ویوین رچرڈز چیونگم کی جگالی کرتا۔۔۔ سفید رنگ کے یونیفارم میں ملبوس سیاہ چمکتی رنگت میں اِس کی چم چم چمکتی دمکتی شخصیت “اماوس” کے چاند کی طرح دِکھائی دی۔ ویسٹ انڈیز ٹیم کے باقی ساتھی کھلاڑی۔۔۔ کپاس کی من چھٹیوں کی طرح بے ڈھنگے اور نوکیلے۔۔۔
دوسری بار قذافی سٹیڈیم کے پہلو ۔۔۔۔۔”الحمرا” میں اداکارہ ریکھا کیساتھ ہم رنگ لباس میں شوکت خانم ہسپتال کیلئے فنڈ ریزنگ کرتے!
تیسری بار! اپنے گھر کی چھت سے 2013کی الیکشن مہم عمران خان اپنے سیاسی” حریفِ اعلیٰ” کے گھر کے عین سامنے۔۔۔چیختے پُکارتے۔۔۔ بلکہ للکارتے ۔۔۔ چنگھاڑتے جلسے کے بعد اگلے جلسے میں جب وُہ اپنی ہڈیاں تڑوا بیٹھا!
ہڈیاں توڑنا اور تڑوانا کرکٹر کیلئے کوئی نئی بات نہیں۔ اِن کی ہڈی توڑنے کا ناغہ محض ان کی اپنی ہڈی کے ٹوٹے ہونے کے باعث ہی ہوتا ہے۔ ورنہ تو باری اور واری کے عادی کرکٹر ہڈیوں کی واری کیلئے ڈریسنگ روم پر واری واری جاتے ہیں۔
عمران خان نیازی 1952لاہور میں گاﺅں کے فطری حسن سے گھرے جدید” گھوٹ “جیسے علاقے زمان پارک میں پیدا ہوا۔ زمان پارک عمران خان کے نانا کے بھائی نے تعمیر کروایا اور بعدازاں برکی قبیلہ قیامِ پاکستان کے بعد اسی علاقے میں آباد ہوگیا۔ یہ ایک انتہائی متمول اور مضبوط مشترکہ خاندانی نظام کا حامل گھرانہ تھا۔ عمران خان کا بچپن شہرِ لاہور کی مخصوص جوشیلی سرگرمیوں میں ملوث رہا۔ جس میں درختوں پر چڑھائی اور لاہور کینال میں تیراکی کی ڈبکیاں سرِفہرست۔۔۔
عمران خان کے والد اکرام اللہ نیازی کا تعلق پتھریلے صحرائی مگر قبیلہ پرست شھرِ میانوالی سے ہے۔ اور والدہ شوکت خانم وزیرِستان کی بستی پٹھاناں کے خوشحال قبیلے برکی سے تعلق رکھتی تھیں۔
عمران خان اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ انہوں نے ایچی سن جیسے اعلیٰ تعلیمی ادارے سے تعلیم حاصل کی۔ گھڑ سواری کیا سیکھتا؟ وُہ تو پیدائشی شہ سوار ہے اور پیدائشی صاحبِ دستار بھی۔۔ اعلیٰ طبقے کا آکسفورڈ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونا کوئی کمال نہیں۔ اصل کمال تو پاکستان میں غریب بچے کی نویں کلاس کی اکیڈمی کی فیس کی ادائیگی کے کمال میں ہے۔ میرا خیال ہے جو نویں کلاس کھیلا وُہ ساری عمر کھیلتا ہی رہا۔ کرکٹ میں عمران خان نے نویں کلاس پاس کھلاڑیوں کو زیرک نگاہی سے پہچان کر کھیلنا سکھایا اور وُہ کیا کیا کھیلنا سیکھ گئے۔ کم تعلیم یافتہ مگر باصلاحیت کھلاڑیوں کیلئے Net Practiceبھی ناگزیر ہے اور انگلش بھی۔۔ ۔ انگلش تو کرکٹ اکیڈمی میں خوب چلتی ہے دوستی کی مانند دشمنی کی طرح۔
پاکستان میں دو ہی تو کھیل کھیلے جاتے ہیں۔ سیاست اور کرکٹ ۔۔ یا ایک ہی کھیل کے دو نام ہیں۔ عمران خان کرکٹ کا عاشق ہے۔ عمران خان نے عاشقی جیسی ریاضت کرکٹ سے کی۔۔۔ کرکٹ اِس کا دھڑکتا دِل ہے بلکہ کرکٹ تو عمراں خاں کی جان کی امان کی زینت تھی۔ ورنہ تو فتح یابی کی ریکھا کاوقار کرکٹ کی کامیابی کی داد اور توصیف نہ حاصل کرسکتا۔۔
عمران خان نے ارض کائنات پر مادرِ وطن پاکستان کو کرکٹ کے ذریعے دنیا بھر کا دلبرّ بنا دیا۔ اِس کھیل کو پسند کرنے والے محبت بھری آنکھ سے پاکستانی کرکٹ اور اِسکی دلدارّیوں سے وارداتی، عشق کرنے لگے۔ کرکٹ کے شہزادوں کے جھرمٹ میں عمران خان شہنشاہِ کرکٹ کا تخت نشیں تھا اور رہے گا۔ کرکٹ میں ہیروازم متعارف کروایا۔ کرکٹ کا کھیل پاکستان میں گلیمر کی سحر انگیزیوں میں جلوہ گر ہوا اور پھر کمنٹری کا اُتار چڑھاﺅ کیمرے کی آنکھ کی کاٹ اور شائقین کے سانس کی تال میل سے ہم آہنگ ہوتے چوکے اور چھکے۔۔ اور کھلاڑیوں کی اداﺅں کی دلفریبی نے مارکیٹ کو عالمی سطح تک پہنچا دیا۔۔۔ 1992ورلڈ کپ کی لازوال کامیابی کی لذت آفرینی قوم کے رگ و پے میں رچ بس گئی۔ 1994میں 25ملین ڈالر کی خطیر رقم سے شوکت خانم ہسپتال کا قیام ۔۔۔۔ بعد ازاں شہر میں اور کراچی میں زیرِ تعمیر ہسپتال۔۔۔ اعلیٰ انسانی اقدار کی قابلِ ستائش اور قابلِ تقلید روشن مثال ہے! نمل یونیورسٹی کا قیام بھی ایک ایک قیمتی علمی کاوش ہے! ایک زمانہ عمران خاں کا معتقد، مقلد، پیروکار ، دیوانہ ، فرزانہ اور مستانہ ہے۔ کیونکہ ماں سے سچی محبت کرنے والے کو قدرت معاوضہ ضرور عطا کرتی ہے! عمران خاں کو لفظ ماں ہی نہیں۔ ماں کی کیفیت بھی بہت پسند ہے! اپنی ماں سے پیار کرتا تھا اور کرتا ہے۔۔۔ لیکن اپنے بچوں کی غیر ملکی ماں سے تو بعد از مرگ بھی پیار ہی کرتا رہے گا۔ ہر انسان کی زندگی کی طرح “ابہام” عمران خاں کی زندگی میں بھی شاملِ حال رہے۔۔۔ رہی بات گُل افشانیوں کی تو بارش کی پھوار کیساتھ گدلے پانی کے چھینٹے بھی کبھی کبھار ہم رکاب ہوجاتے ہیں۔ معاملہ پیر ی فقیری اور مُریدی کا ہے تو صاحبو! عمران خان تو عشقِ مجازی کے سب مزاجوں کا رمزّ آشناہے، عشقِ حقیقی تو ایک ایسی رُکاوٹوں بھری دوڑ ہے جس میں “جھول”،”جہل”اور”توہم پرستی” عبور کرنا اِتنا سہل بھی نہیں۔
عمراں خاں کے سیاسی شعور کا ماخذ کھیل ہی ہے! عمران خان نے کرکٹ کے کھیل سے ہی سیاست سیکھی۔ اُڑتی چڑیا جیسی گیند کے پر گننا۔ بلند نگاہی، برق رفتار ی سے شارٹس مارنا۔ باری کا انتظار کرنا۔ آﺅٹ ہے آﺅٹ ہے کی پکار اور یلغار جاری رکھنا۔ کیچ ہوتی گیند پر گرفت کا پیچھا کرنا۔ کیچ نہ پکڑنے کی صورت میں انگلیوں کے تذکرے۔۔۔ اور بارشوں سے بچاﺅ کے مشورے۔۔
1996میں سیاسی پارٹی تحریکِ انصاف کی بنیاد رکھی۔ تحریکِ انصاف کا منشور قومی سطح پر آئینی اور قانونی تقاضوں کے مُطابق انصاف کا شفاف اطلاق ہے!
عمران خان فطرتاً سیاح ہے! تیتر کا شکار ہو یا مغربی دُنیا کے فطری نظارے۔۔۔ اور وہاں کی “مُرغابیاں”۔۔۔ شاہراہِ ریشم کے اطراف جنت تحلیل راستے ۔۔۔۔ اور ۔۔۔ جنت نشیں کمین گاہیں یا مکین گاہیں۔۔ ہردشت کی سیاحی کا لطف اِسکا مقدر ٹھہرا۔ عمران خان کے سیاسی نظریات بُلند و بالا ہیں مگر زندگی تو زمین پر بستی ہے۔۔ تلخ بستیاں تو جھگیوں میں کچی آبادیوں میں ریل کی پٹڑیوں کے اطراف آباد ہیں۔ کیا عمران خان کے نظریات میں ان تلخیوں کی آسودگی کا علاج ہے۔ یقینا ہے۔ ۔۔مگر پاکستان میں سیاسی شعور کا ادراک اور اِسکا اطلاق ایسے ہی باہم متضاد ہے جیسے زمینی سیارے پر انسانی زندگی اور مریخ پر پانی کی تلاش۔۔۔ عمران خان نے عوام کو بہت سارے “علامتی کرداروں” سے متعارف کروایا۔۔۔ مثلاً پٹواری۔۔۔ مگر عمران خان کی اپنی زمین اور جاگیر کیا پٹواری کے “پٹوار پن” کے بنا ہی قائم ہے؟ سوچنا پڑے گا؟ مگر سوچنا تو منع ہے۔ ہم قومی سطح پر 70سال سے سوچ ہی تو رہے ہیں کہ کیا کریں اور کیا نا۔۔۔ میرٹ میرٹ کی تکرار کرتے عمران خان نے PTIکو” فردوسِ بریں “بنا ڈالا ہے۔ عمران خاں جب کرکٹ کھیلتا تھا تو ایمپائر کے علامتی اشاروں سے ہی جمع۔ ضرب۔ تقسیم کرلیتا تھا اب اعداد و شمار کی “دا غلطی گنجائش نشتہ” جیسی بیان بازی اور براہِ راست انسانوں کے سمندر کو متحیر کردینے کی جادوگری اِس کا وصفِ خاص ہے۔ اِسکی گفتگو شعوری اِدراک جاں افزا تخیل اور اپنے بیان کو روانی سے بیان کرنے کی پٹھانی یلغار پر محیط ہے۔ دورانِ تقریر خودستائی اور خود نمائی خان صاحب کے ذہنی بھونچال کے سوا نیزے پر پہنچ جاتی ہے۔ اِحساس کا زیروبم جذبات کی آنچ پر تپ کر کبھی بارش کی طرح برستا ہے کبھی گرجتا ہے تو کبھی روایتی سیاسی انداز میں “چکدے پھٹے”۔
رِدھم تو زندگی کی بنیاد ہے سانس کی روانی کی طرح۔ تحریکِ انصاف کے جلسے بھی جذبات کو اجاگر کرنے کیلئے ردھم کا سہارا لیتے ، سُرخ ، سیاہ ، سبز پرچم کے سائے تلے قومی اجتماعی ردھم کی متحرّک تصویر بن جاتی ہے۔ شکر ہے عوام کسی لمحے اجتماعی تصویر کے روپ میں جلوہ افروز تو ہوئی۔
خان صاحب کو موسیقی بے حد پسند اور پسندیدگی میں ان کا حصار بھی بے حد اعلیٰ ۔۔۔ نصرت فتح علی خان صاحب، عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی اور آلاتِ موسیقی کے ڈھول جیسا شیخ رشید۔۔۔
عمران خان نے برما اور سرِیا کے مسلمانوں کے مظالم کے خلاف بھی آواز ِ حق بلند کی اور پاکستان میں سَریے کے استعمال کے خلاف “سَریا سَریا” پُکارتے اِسکی اپنی ہی گردن میں چوٹ نہ جانے کیوں لگ گئی؟
خان صاحب! پاکستان کے خصوصاً KPKاور بلوچستان میں نباتاتی، کوئلے اور سونے کے ذخائر کی دریافت ، مافیا کی روک تھام اور اِن کے استعمال کا منشور یقینا پاکستان کے روشن تر مستقبل کا ضامن ہوسکتا ہے۔۔۔ مگر جب دھوپ کے مالا مال ذخائر پاکستان میں طلوع ہوتے ہیں۔ خان صاحب سیاسی بند گلی میں نمودار ہونے کی بجائے ٹھنڈی ٹھار گلیات میں دھرنے پر جابیٹھتے ہیں۔ حالانکہ گرم موسم کی چلچلاتی دھوپ میں بھی پرستار فوٹو سیشن سے گُریزاں نہ ہونگے۔۔ جبکہ وُہ عمران خان کی FBپر “ملتے ہیں بریک کے بعد”۔۔۔۔ جیسی تصاویر دیکھ کر اپنی عقیدت کی گرمی اور موسم کی تپش سے لبریز آنکھیں ٹھنڈی کرنے کیساتھ فتح یابی۔۔۔۔ کے نشان کا تبادلہ کرتے خوش و خرم ہوجاتے ہیں۔
عمران خان روایتی سیاست کا نقیب ، ۔۔۔۔۔رُجحائیت پسند افکار کا مالک ہے۔ ہمارا قومی مزاج مضطرب اور سیاست منتشر۔۔۔ معاشرتی زندگی کے Overمحدود نہیں بلکہ لا محدود ہوتے ہیں۔مُتلاطم بے کراں اور رواں دواں۔۔۔۔ جب تک معاشرتی زندگی میں گیند جیسا “گھماﺅ” پیدا نہیں ہوگا تب تک ربطِ ملت قائم نہ ہوگا۔ “ربطِ ملت قائم کیے بغیر قومی تشخص کا ورلڈ کپ قوم کیسے جیت سکتی ہے۔ ۔۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker