ثمینہ اشرفکالملکھاری

ہیلمٹ پابندی اور ہمارا منتشر قومی مزاج ۔۔ ثمینہ اشرف

شارٹ کٹ، عجلت پسندی، نفسا نفسی…. وہ دیکھیں سڑکوں پہ ہمارا قومی مزاج منتشر منتشر ۔۔ قطار پسندی۔ قانون کی پاسداری، مہذب قوموں کا شعار ہے۔ہم مہذب قوم ہیں…. مگر تہذیب پسندی کا شدید فقدان حادثات سے بچاﺅ کیلئے ہیلمٹ کا استعمال لازمی قرار دیا گیا اس خبر کے پہلی بار نشر ہوتے ہی مجھے ضیائی حکومت کی زیا ں کاریوں کی ایک ہیلمٹ کہانی یاد آگئی۔ جب ایک خاص ا سامی کے کاروبار کو عروج پر پہنچانے کیلئے ہیلمٹ کا استعمال لازمی قرار دیا گیا۔ لازمی کیساتھ اگر ”اسلامی“ بھی قرار دے دیا جاتا تو آج ہیلمٹ کی نافرمانیاں…. منہ زور نہ ہوتیں۔ چائنا جیسا خود انحصار ملک ہوتا تو موٹر سائیکل سوار کو جرمانے کی ادائیگی کیساتھ ہیلمٹ تحفتاً مل جاتا۔ سچائی یہ ہے چائنا میں اصول شکنی کا تناسب بہت کم ہے۔ وہاں تو سائیکل سوار بھی ہیلمٹ پہن کر نکلتا ہے جبکہ ہمارے ہاں Seat Belt تو کجا فضاﺅں میں محو پرواز پائلٹ کی ڈگری بھی ”جھولے جھولے لال“ نکل آتی ہے۔ ہیلمٹ بہت ضروری ہے۔ حادثات اور وارڈن سے بچاﺅ کیلئے لیکن ہیلمٹ پہننے کیلئے ہیلمٹ کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ رسدو طلب نے تیز رفتاری پکڑی تو قیمتیں نان سٹاپ ہوگئیں۔ ایسے میں غریب کا ہیلمٹ خریدنا بھی ایک حادثہ ہی توہے۔لاہور جیسے رواں دواں شہر میں موٹر سائیکل ایک بے تکلف سواری ہے۔ جو پاکستانیوں کے مزاج کے عین مطابق ہے۔ ایک فاتح کی طرح ہوا کے گھوڑے پر سوار ٹرک، گاڑی، بسوں، ٹرالوں، ریڑھیوں رکشوں تک کو چکمہ دے کر سگنل جمپ کرتا اگلے سے اگلے پڑاﺅ تک چھلاوہ بنا پھرتا ہے۔ موٹر سائیکل ایسی فرمانبردار سواری ہے جو اپنے سوار کی غلام بن جاتی ہے۔ سرکسی اوصاف والے جوان کے ہاتھ اکسیلیٹر پہ…. پاﺅں کک پر نگاہیں آسمان پر…. شخصی آزادی کو اُڑتی پتنگ کی طرح ”اڈی اڈی جاواں“ جیسے پر لگ جاتے ہیں۔ موٹر سائیکل سوار درمیانی عمر کا ہے تو اپنی تھکی ماندہ سواری پر متانت بھری رفتار سے یوں ظاہر ہوتا ہے۔ جیسے اسے گھر جانے کی جلدی نہیں…. جبھی تو وہ اپنے آپ کو دوسروں سے اور خود سے دوسروں کو محفوظ رکھتا…. رواں دواں رہتا ہے…. جبکہ ینگ ترنگ نوجوان کے اپنی مستانی سواری پر ہنگامی انداز سے لگتا ہے کہ اسے گھر گھر جانا ہوتا ہے۔
آبادی سے لبریز ہمارے ملک میں بچوں کا تناسب موٹر سائیکل پر سجا اور گاڑیوں میں دھنسا نظر آتا ہے۔ سکول جانے والے بچے ہوں یا ہسپتا ل جانے والی بہن کے بچے بظاہر یہ Over Loaded جہالت اور غیر ذمہ داری گردانی جاتی ہے۔ دراصل یہ ان کی مجبوری ہے۔ اب مجبوری کا نام شکریہ نہیں رہا….Adjustment ہے۔ موٹر سائیکل کی ڈگی تو ہوتی نہیں لہٰذا سوار کو اپنے ذاتی سازو سامان سے ہی گود بھرائی کی رسم کرنا پڑتی ہے…. ترقی پذیر ممالک میں آبادی بھی ہمیشہ  ترقی یافتہ ہی رہتی ہے!
سڑکوں پہ سخت موسموں…. دم پخت سواریوں کے برہم مزاج سواروں۔ چو مُکھی راستوں پہ ذمہ داری نبھانا یقیناً صبر آزما ہے۔ پھر وارڈن کے پاس آفس جیسا خیمہ بھی نہیں ہوتا سرعام ہی عوام تگنی کا ناچ نچاتی رہتی ہے۔ سٹی ٹریفک پولیس کی طرف سے لائسنس نمبر، ہیلمٹ، سیٹ بیلٹ، نیلی ،ہری ،پیلی،بتیاں دراصل ہمارے رویوں کے تہذیبی اشارے ہیں…. اور پھر ہم بحیثیت قوم یہ دعویٰ بھی نہیں کرسکتے کہ ہم اشارہ پسند قوم نہیں۔ ٹریفک قوانین کے مطابق ہیلمٹ کے استعمال کی خلاف ورزی کا جرمانہ 200 روپے ہے….مگر ہم قومی تبخیر معدہ کے علاج کیلئے جرمانہ تو بھر لیتے ہیں مگر علاج نہیں پسند فرماتے…. کبھی کبھی تو لاعلاج ہونے کا شبہ بھی ہونے لگتا ہے۔
ایک سرکاری اندازے کے مطابق لاہور میں ایک لاکھ کے قریب ٹریفک اصولوں کی اصول شکنی کا اندراج ہوتا ہے۔ مگر ایک لاکھ سوار اگر سڑکوں پر اصول شکنی میں مصروف ہیں تو ”ادارہ جاتی“ مصروفیات کا عالم کیا ہوگا…. خیر غیر رسمی وغیر سرکاری خلاف ورزیوں کا اندراج نہیں تو یہاں کیسا؟
موٹر سائیکل سوار کی قوت برداشت بھی بہت مضبوط ہوتی ہے کیونکہ گاڑی کراس کرنے کی مہارت سے ڈرائیور کو زچ کرنے سے اس کی آنکھوں اور منہ سے پنجابی اپنے پن کے تبرکات کے نزول کو ہنسی میں اُڑانا بھی تو ایک کاری گری ہے…. اور یہی موٹر سائیکل سوار کی زندگی کا مشن بھی!
لاہوریوں نے ہیلمٹ کی قوت خرید کی پرواز دیکھ کر نئے نئے ہیلمٹ ایجاد کرلئے ہیں کسی نے سلور کے پتیلے کو رنگ و روغن سے تبدیلی کو سر پہ سجالیا ہے کسی نے پلاسٹک کے برتن کو ایک پتنگ کی طرح الاسٹک کی کنی دے کر سر کی ڈھال بنالیا ہے۔ کوئی بوسیدہ ہیلمٹ کو کانٹ چھانٹ کر ٹوپی والی جیکٹ کی سپورٹ دینے میں کامیاب رہا۔ کیونکہ زندہ دلان ِلاہور Adjustment کا فن جانتے ہیں۔ معاملہ زندگی کی کسی رنگینی کا ہویا سنگینی کا…. زندہ دلی کی رنگینی اور رنگ بازیوں سے دنگ کردیتے ہیں اب تو ہیلمٹ بھی اُدھار اور قسطوں پر دستیاب ہیں۔ بعض سبزی والوں نے لہسن پیاز ٹماٹر کے برابر ہیلمٹ کو بھی باعزت جگہ دے دی ہے۔ uturn والے Roads پر تو عجب منظر دکھائی دیتا ہے۔ 10-15 موٹر سائیکل سواروں کا لشکر میں بوکھلائے اوراُلجھے وارڈن چالان کی کارروائی مکمل ہونے تک اگلے جتھے کو با آسانی فرار ہونے کا موقعہ مل جاتا ہے۔ بارہا موٹر سائیکل سوار شہر کی اندرونی گلیوں سے شارٹ کٹ راستوں سے منٹوں کا سفر لمحوں میں طے کرا سکول، کالج اور دفاتر پہنچ جاتے ہیں۔ جہاں وارڈن کے حکم امتناعی کا گمان بھی ممکن ہیں۔
نوجوان موٹر سائیکل سوار سمندر جیسے رواں پانیوں سی ٹریفک کے بہاﺅ سے واڈن کی گرفت سے یوں بچ نکلتا ہے جیسے نھنی منی لچکیلی ملائم سڈول جسم والی مچھلیاں شکاری کے جال سے ون ویلنگ ایک خطر ناک عمل ہے جو نوجوان کی قوت وتوانائی کے ڈرامائی او ر جان لیوا مظاہر حادثات کی وجہ بنتے ہیں خاص طور پر یوم آزدی اور ہیپی نیو ائیر کی شاموں میں لاہور کی سڑکو ں پر ٹریفک کا ہجوم دنیا بھر میں اجتماعی جو ش خروش کی دیدنی مثال ہے ۔ ٹریفک کی بے ترتیبوں کے تحرکات میں تجاوزات ریڑھے، ٹھیلے، تھڑے اور پارکنگ شامل ہیں۔یہ تمام امراض بھی تشخیص تفتیش اور علاج کے متقاضی ہیں ۔ ہیلمٹ کی پابندی ایک مثبت قدم ہے لیکن ہیلمٹ کی قیمت خرید کو بھی Speed Breaker کے ذریعے ذرا لگام دی جائے تاکہ عوام اور ٹریفک پولیس کو آنکھ مچولی کے کھیل کو ذرا سستانے کا موقعہ مل جائے آخر سستانا عوام کا بھی حق ہے!
فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker