طبیعت کی پھرتیاں ۔۔ شفقت اللہ لغاری


shafqat ullah laghari
  • 20
    Shares

حضرت انسان بھی کیا عجوبہ ہے….. اٹھتے بیٹھے ، چلتے پھرتے ،سوتے جاگتے،سواری پر بیٹھتے،چلاتے، اونگھتے ،جمائی لیتے ، چھینک مارتے ،نیند میں بڑبڑاتے ،دروازے پر دستک دیتے ،اجنبی لوگوں سے محو گفتگو ہوتے،ٹیلی فون پر گھن گرج کرتے ،ہمہ وقت میسیجز پر مصروف رہتے ،جز وقتی انڑ نیٹ کا استعمال کرتے ہوئے مختلف حرکات وسکنات سے کام لیتے،عجیب رنگ کی شکلیں بنانا اور آوازیں نکالنا ،خود کلامی میں مسکرانا، ہاتھوں سے اشارے کرنا، خوشی، غم اور حیرت میں گردن کو پر اسرار انداز میں ہلانا،کنکھیوں سے محبت اور نفرت کا اظہار کرنا ،بالوں کو سنوارنا، عینک کا بار بار بے جا شیشہ دیکھتے اور صاف کرتے رہنا ، خواہ مخواہ کپڑوں کا جھاڑنا بہارنا،باربار اپنے جوتوں کو دیکھنا اوران کی دائمی چمک کا متمنی ہونا،اپنے آپ کو اور اپنی سواری کو معیاری خیال کرنا اور پر سکون لوگوں کے منہ میں دھول ڈالنے کے نت نئے انداز ڈھونڈنا ،پبلک پارکس میں باربار آنا جانا ،راستوں پر نظروں کے ناکے لگانا ،بےپرکیاں اڑانا ، اپنی شخصیت اور کامیابی کے مختلف پہلو بتا کر اپنی تعریف سننے کی عادت کو دھرانا ،بے جا تھوکنا اور خواہ مخواہ گلہ صاف کرنا ،عجیب انداز میں کھجلی کرنا ،نا معلوم شد، یہ حرکتیں ہیں یا اوصاف مگر دریدہ دل یہ بسا اوقات محسوس کرتا ہے. کچھ لوگ تو اپنے آباؤاجداد کی بہادری کے من گھڑت قصے،عجیب وغریب داستانیں جو غربت اور امیری سے متعلق ہوتی ہیں ایسے شستہ انداز میں بیان کرتےہیں کہ سننے والے انگشت بدنداں ہو جاتےہیں کہ ہائے ہم نے اور ہمارے پرکھوں نے زندگی فضول گزاری. کچھ لوگ ناکام ہو کر بھی تعریفوں کے پل باندھتے ہیں تاکہ دیگر مرعوب رہیں….
کئی گروہ تو ایسے ہیں کہ بغیر مقصد کے شہر آتے جاتے ہیں ،ہر گاڑی اور موٹر سائیکل سوار کے آگے ہاتھ کھڑا کر کے رکنےکا اشارہ کرتے ہیں اور اگر کوئی ان جان رک بھی جائے تو ایسے سوار ہوتے ہیں جیسے گاڑی ہی ان کی اپنی ہو. بہرحال ہر شخص کے من کی اپنی کہانی ہے کسی کا ذوق وشوق اسےکسی محکمے میں ملازمت کرنے پرمجبور کرتا ہے تو کوئی اسی محکمے سےجان چھڑانا چاہتا ہے. کچھ ایسے ہیں جو گھر کا منہ نہیں دیکھتے کچھ گھر سے باہر نہیں نکلتے.کچھ تو ایسے ہیں جو مسجد کے اندر بھی اپنی مخصوص جگہوں پر قابض ہو کر نماز پڑھتے ہیں اگر کوئی شخص نیا آجائے اور ان کو تکلف کی عادت نہ ہو تو خدائی خدمت گار دیر تک گھورتےہیں.کئی حضرات ڈرائیونگ کے بے حد شائق ہیں اور کچھ اسی شوق کو پورا کرنے کی غرض سے عمر بھر کنڈکٹر ہی رہتے ہیں اور کوئی کسان بننے کے لئے بے قرار ہے تو کوئی عدلیہ ،کچہری اور تھانے میں آناجانا باعث افتخار سمجھتا ہے ایک شخص کی روداد یہ ہے کہ وہ بڑھئ والی آری ہمیشہ ساتھ رکھتا ہے حالانکہ وہ اس کسب معاش میں ماہر بھی نہیں پھر بھی آری ناجانے کس درد کی دوا ہے میں نے ایک دن خود موصوف کو دیکھا کہ ایک ہاتھ میں سبزی اور ایک ہاتھ میں آری تھی…اسی طرح زندگی کا شجر بھی آئے روز بوڑھا ہو رہا ہے کسی کی یادوں کے نیل کنٹھ مسلسل اس کے تنے میں اپنی منقار سے کریدتے ہوئے کئی چھید کرچکے ہیں کوئی آری بھی اسے کاٹ رہی ہے مگر اس کا اندازہ اس وقت ہو گا جب یہ دھڑام سے زمیں بوس ہوگا. وقت کا پہیہ بڑا بے رحم ہے بغیر کسی رکاوٹ اور تھکاوٹ کے اپنے مدار پر گرداں ہے. جن گلیوں میں ہم نے بچپنہ گزارا وہاں خال خال چہرے شناسا ہیں ورنہ سب مٹی اوڑھ کے سوگئے ہیں….

فیس بک کمینٹ
image_print




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*