تحفے دینے والی محبوبہ کا پتہ ، صرف پچاس روپے میں ۔۔ شاہد مجید جعفری

shahid majeed jafery articles at girdopesh.com

ایک اخباری خبر کے مطابق ویت نام کے دارالحکومت میں ایک جگہ تیزی کے ساتھ مقبول ہو رہی ہے جہاں ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ لوگ اپنے سابقہ محبوب سے وابستہ اشیاء اور تحفے فروخت کر رہے ہیں اس میں اس محبوبہ سے ملنے والے تحفے, جن میں کپڑے خطوط اور دیگر اشیاء بھی شامل ہیں برائے فروخت رکھی گئیں ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ وہ مال نہیں بیچ رہے بلکہ اپنی حسین یادیں فروخت کر رہے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ یہاں پر ایک بورڈ بھی رکھا گیا ہے جہاں پر عاشق لوگ اپنے سابقہ دوستو ں کے نام پیغام بھی لکھ کر اپنے دل کی بھڑاس نکال سکتے ہیں ۔ خبر پڑھ کر ویسے ہی میرے ذہن میں خیال آ رہا ہے کہ اس بازار کے کھلنے کے بعد , کسی لڑکی کے ساتھ عشق کرنے سے پہلے عاشق حضرات ایک چکر اس بازار کا بھی ضرور لگاتے ہوں گے کہ دیکھیں تو سہی کہ میری ہونے والی محبوبہ اپنے پہلے عاشق کو کس قسم کے تحائف سے نوازا کرتی تھی ؟ چنانچہ اسی بات کے پیشِ نظر ایک شیخ طبیعت بندے نے اس بازار کا چکر لگایا اور سب سے قیمتی تحفے دینے والی لڑکی کا نام و پتہ نوٹ کرنے کے بعد جب اس لڑکی کے گھر پہنچا تو دیکھا کہ اس کے گھر کے سامنے لڑکوں کی ایک لمبی لائین لگی ہوئی تھی پوچھنے پر پتہ چلا کہ مطلوبہ لڑکی کا نام و پتہ صرف اسی نے ہی نہیں نوٹ کیا تھا۔
اور دوستو میری چشمِ تصور دیکھ رہی ہے کہ اگر یہ بازار اسی طرح قائم رہا تو عنقریب اس بازار میں چھوٹے چھوٹے بچے اپنے ہاتھوں میں اشتہار پکڑے ہر آنے جانے والے شخص کے ہاتھ میں زبر دستی دے رہے ہوں گے اور ان اشتہاروں پر لکھا ہو گا کہ ہمارے ہاں مکمل رازداری کے ساتھ قیمتی تحائف دینے والی لڑکیوں کے پتہ جات بمعہ تصاویر دستیاب ہیں اور کچھ لڑکے یہی اشتہار پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں میں ڈال رہے ہوں گے جبکہ اس بازار کے اندر مختلف کاروباری حضرات کا قبضہ ہو جائے گا جن کی دکانوں کے آگے ہاکر حضرات کھڑے ہوں گے جو کہ بازار میں آتے جاتے حضرات کو دیکھ کر آوازیں لگا رہے ہوں کہ ادھر آئیں بھا ئی صاحب قیمتی تحفے دینے والی محبوبہ کا پتہ صرف 50 روپے 50 روپے۔ جبکہ اس کے ساتھ ایک بڑی سی دکان کے سامنے ایک اور ہاکر کھڑا ہو گا جس کے ہاتھ میں مائیکروفون پکڑا ہو گا جس کو وہ اپنے منہ کے آگے رکھے چلا چلا کر کہ رہا ہو گا کہ سیل سیل۔حضرات ہم نے صرف آ پ کے لیئے سب سے قیمتی تحفے دینے والی لڑکیوں کے پتہ جات کی سیل لگا دی ہے یہ آفر صرف محدود مدت کے لیئے ہے جلدی کریں ہمارے پاس سٹاک کم ہے پہلے آیئے پہلے پایئے۔

خواتین و حضرات یہ تو تھی ویت نام کی صورتِ حال۔ میں سوچ رہا ہوں کہ اگر یہی صورت ہمارے ہاں ہوتی تو اس بازار میں محبوبہ کی طرف سے دیئے گئے تحفے فروخت کے لیئے بہت کم دستیاب ہوں گے کہ ہمارے ہاں کی محبوبائیں دینے سے زیادہ لینے پر یقین رکھتی ہیں البتہ بعض حضرات اپنے سامنے دکانوں کے مختلف دکانوں کی طرف سے جاری کردہ بلز، ختم شدہ کریڈٹ کارڈز اور محبوبہ کی طرف سے بھیجے گئے مختلف خطوط رکھے بیٹھے ہوں گے لیکن یہاں پر رکھے گئے بورڈ کہ جس پر لوگ اپنی سابقہ محبوبہ کے نام پیغام لکھ کر اپنے دل کی بھڑاس نکال سکتے ہیں ایک کی بجائے بہت زیادہ تعداد میں پڑے ہوں گے جن میں ہر گزرتے دن کے بعد اضافہ ہی ہوتا چلا جائے گا۔ آیئے چشمِ تصور میں ان بورڈز پر لکھے گئے مختلف پیغامات کو پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں ایک بڑا سا بورڈ کہ جس پر صرف لڑکوں کے لیئے لکھا تھا ۔ اس پر ایک لڑکے نے کچھ یوں لکھا تھا کہ تم نے جو مجھے اکلوتا سوٹ تحفے میں دیا تھا وہ تیرے بھائی نے پہچان کر اسی دن مجھ سے اتروا لیا تھا جبکہ اس کے نیچے ایک اور لڑکے نے لکھا کہ تم نے جو سوٹ مجھے تحفے میں دیا تھا وہ مجھے پورا نہیں آیا تھا ۔جبکہ ایک دل جلے نے اپنے پیغام میں لکھا تھا کہ اپنے جیب خرچ اور امی کے پرس سے پیسے چُرا چُرا کر میں تجھے ایزی لوڈ کروایا کرتا تھا لیکن تم میرے بھیجے ہوئے بیلنس سے کسی اور کے ساتھ عشق لڑاتی رہی۔ ایک اور نے یوں تحریر کیا تھا کہ تیری گلیوں کے چکر لگانے پر مجھے محلے والوں نے پکڑ کر مارا ، میری ٹنڈ کر دی ، اور مجھے گدھے پر بٹھا کر سارے محلے کا چکر لگوایا۔۔۔لیکن افسوس تم نے کسی اور کے ساتھ سیٹنگ کر لی۔ایک اور لڑکے نے اپنے دل کے پھپھولے کچھ یوں پھوڑے تھے کہ میں نے ساری ساری رات جاگ کر اتنی محنت سے تیرے لیئے اسائینمٹس لکھیں اور تم نے میرے لکھے وہ سارے نوٹس رقیب کے حوالے کر دئیے۔ لڑکوں کے علاوہ وہاں پر بعض شادی شدہ اشخاص کے بھی پیغام درج تھے ایک شخص نے لکھا تھا کہ اللہ کی قسم بیگم کے بھائیوں نے بہت مارا تھا ۔ ایک شخص نے صرف اتنا لکھا تھا کہ میں ابھی تک قسطیں ادا کر رہا ہوں اور تم۔ ۔۔ایک اور نے لکھا تھا کہ ۔۔۔ تیرے لیئے میں نے بیگم کے سینڈل کھائے، مرغا بنا۔ جبکہ ایک نے اپنا دکھ بھرا شکوہ کچھ یوں درج کیا تھا کہ ۔ تمہیں کیا پتہ کہ بیگم کا ہاتھ کتنا بھاری تھا۔ ایک نے لکھا کہ کُڑ کڑ کھتے ۔۔تے آنڈے کھتے۔ اور اس بورڈ کے آخر میں ایک صاحب نے صرف اتنا ہی لکھا تھا کہ ۔۔ اے توں چنگا نیئں کیتا ۔جبکہ لڑکیوں کے لیئے رکھے گئے بورڈ پر مختلف انداز میں صرف ایک ہی پیغام تھا کہ بریک اپ کے بعد تحفے واپس لینا کوئی اچھی بات نہیں۔۔

 

فیس بک کمینٹ

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*