خارش کا نیا بیانیہ ۔۔ شاہد مجید جعفری


shahid majeed jafery articles at girdopesh.com
  • 27
    Shares

پیارے پڑھنے والو! کسی مردِ دانا نے واٹس اپ پر کیا خوب کہا ہے کہ ایک شادی شدہ مرد کا اپنی بیوی سے آئی لو یو کہنا ایسا ہی ہے کہ جیسے آپ اپنے جسم کے اس حصے پر خارش کر رہے ہوں جہاں پر نہ ہو رہی ہو ۔ اور دوستو واٹس اپ پر ہی اس سے ملتا جلتا ایک اور قول کچھ یوں وارد ہوا ہے کہ بیوی کے آئی لو یو کہنے کے بعد شوہرِ نامدار کا آئی لو یو ٹو کہنا اتنا ہی ضروری ہوتا ہے کہ جتنا اونچی آواز میں پاکستان ۔۔۔ کہنے کے بعد زندہ باد کہنا۔ تو دوستو جہاں تک اس خارش کا تعلق ہے اس بارے میں ہمارے ایک بڑے صاحب اکثر کہا کرتے تھے کہ بیٹا ساون میں بارش اور خارش کسی بھی وقت شروع ہو سکتی ہیں ۔ اسی خارش کے بارے میں اسلام آباد سے ایک لڑکی نے نیا بیانیہ دے کر سب کو چونکا دیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق ہائی کورٹ میں تبدیلیء جنس کی اجازت کے سلسلہ میں دائر کی گئی ایک درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جناب جج صاحب نے جب لڑکی سے یہ استفسار کیا کہ آپ جنس کیوں تبدیل کرنا چاہتی ہیں؟ تو اس پر لڑکی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھے خارش ہوتی ہے جس پر فاضل جج صاحب نے کہا کہ آدھے پاکستان کو خارش ہے جس پر کمرہء عدالت قہقہوں سے گونج اٹھا اور عدالت نے لڑکی سے مزید دلائل طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت مؤخر کر دی۔
تو گویا کہ بمطابق بیان متذ کرہ بالا بقول لڑکی اگر آپ کو زیادہ خارش ہو رہی ہو تو اس کا ایک مطلب تبدیلیء جنس بھی ہو سکتا ہے چنانچہ فرض کریں کہ اس عزیزہ کا یہ بیان درست مان لیا گیا تو اس کے بعد جو لوگ بھی اپنی جنس تبدیل کروانا چاہتے ہوں گے وہ سرِ راہ کھڑے ہو کر خواہ مخواہ ہی خارش کرنا شروع ہو جائیں گے جس سے یہ مراد لی جائے گی کہ مذکورہ بندہ یا بندی میں تبدیلیء جنس کے آثار پیدا ہو رہے ہیں اور اگر یہ بات زیادہ مقبول ہو گئی تو کچھ عرصہ بعد خارش لگانے کے لیئے مختلف قسم کی دوائیاں بھی مارکیٹ میں آ جائیں گی جن کے اشتہارات کچھ یوں ہوں گے خارش لگایئے جنس تبدیل کروایئے ہماری دوائی کے استعمال سے گارنٹی کے ساتھ خارش لگتی ہے جس کی وجہ سے آپ کا جنس تبدیل کروانا نہایت آسان ہو جائے گا جلدی کیجیئے اسٹاک محدود ہے۔ کہیں اشتہار لگا ہو گا سیل سیل سیل۔دیسی جڑی بوٹیوں کے خالص عرقیات سے تیار کردہ خارش لگانے کی خالص دوا۔ جس کے کوئی سائیڈ افیکٹ نہیں ۔ہمارے ہاں گارنٹی کے ساتھ خارش لگائی جاتی ہے- (نوٹ ملتے جلتے ناموں سے ہوشیار رہیں ) چنانچہ اس بیانیہ کے بعد خارش کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ بندہ مسٹر سے مس بننا چاہتا ہے مثلاً اس کے بعد کسی لڑکی کو خارش کرتے دیکھ کر مائیں اپنے خاوند سے یہ کہتی ہوئی پائی جائیں گی کہ تم اس کے ہاتھ پیلے کرنے کی بات کر رہے ہو جبکہ لڑکی کو تو خارش بھی شروع ہو گئی ہے اس لیئے جلدی سے اس کے لڑکا بننے کا بندوبست کرو ۔ اور اگر یہی خارش اس خاتون کے بیٹے کو شروع ہو گئی تو وہ دانت پیستے ہوئے اپنے خاوند سے کہے گی میں پہلے ہی اتنی لڑکیوں سے پریشان تھی اوپر سے گُڈو کو بھی خارش شروع ہو گئی ہے۔
اسی طرح اگر کوئی خاتون کسی سے یہ پوچھے گی کہ اے بہن آپ کے کتنے بچے ہیں ؟ تو آگے سے وہ جواب دیتے ہوئے کہے گی کہ اللہ رکھے میری چار بچیاں اور ایک بچہ تھا لیکن پھر خارش ہونے کے بعد اب میری ایک بچی اور تین بچے ہیں اور یہ ایک بچی بھی بڑی مشکل سے بچی ہے کیونکہ اسے خارش شروع ہی ہوئی تھی کہ اس نامراد نے دوائی کھا لی۔ اور مزہ تو اس وقت آئے گا کہ جب ( میرے منہ میں خاک ) نماز پڑھاتے ہوئے اپنے اعلیٰ حضرت مولانا فضلِ مولا صاحب مسلسل خارش کرتے ہوئے پائے جائیں گے تو ایسے میں محلے کے بزرگ سر جوڑ کر اس شرعی مسلے کے حل کو تلاش کریں گے کہ بمابق شرع فقہء فلاں خارش والے مولوی صاحب کے پیچھے جو نمازیں پڑھی گئیں آیا وہ ساقط ہو گئیں ہیں یا ان کی قضا پڑھنی فرضِ عین ہے ؟ اور اس بیانیہ کے بعد گاؤں کی اکثر لڑکیاں جو کہ بوجہ جوئیں سر میں خارش کرتی ہیں تو اربابِ حل و عقد اس مسئلے کو کس نظر سے دیکھیں گے؟ میرے خیال میں تو جب تک لڑکی خارش کرتی پائی جائے تو اس وقت تک اس کو زنانہ سے مردانہ کیٹگری میں لکھا اور پڑھا جائے گا اور جیسے ہی اس نے جوئیں مار دوائی سے اپنی جوؤں کا خاتمہ کر لیا وہ دوبارہ سے ریل کے مردانہ سے زنانہ ڈبے میں سفر کر نے کی اہل ہو سکے گی۔
جبکہ دوسری طرف میں یہ سوچ سوچ کر بھی ہلکان ہو رہا ہوں کہ اگلی سماعت پر مذ کورہ لڑکی تبدیلی ء جنس پر خارش کے علاوہ اور کیا نیا بیانیہ دے گی۔ کیا وہ عدالت میں لڑکی سے لڑکا بننے کے لیئے یہ دلیل بھی دے گی کہ مائی لارڈ وہ مسما ۃ سے مسمی اس لیئے بننا چاہتی ہے کہ اس کا بھی دل کرتا ہے کہ وہ گرمیوں میں ٹنڈ کروا ئے اور کچھا بنیان پہن کر انجوائے کرے ۔ اور اس کا یہ بھی دل کرتا ہے کہ وہ بھی کڑاھی گوشت کے ساتھ آٹھ نو روٹیاں کھانے کے بعد لسی کا کنگ سائز گلاس پیئے اور ایک لمبا سا ڈکار مارتے ہوئے اپنی بڑی سی توند پر ہاتھ پھیرے اورادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہے کہ پتہ نہیں کیا بات ہے کہ آج کل بھوک بالکل نہیں لگتی۔

Views All Time
Views All Time
398
Views Today
Views Today
1
فیس بک کمینٹ




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*