جیل ہوٹل،ظالم بیگم اور بے چارہ طرم خان ۔۔ شاہد مجید جعفری


angry wife
  • 23
    Shares

کہتے ہیں کہ شمالی یورپ میں ایک ایسا ہوٹل بھی پایا جاتا ہے کہ جہاں انسان کی نظروں میں آزادی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیئے جیل کی تھیم کو اپنایا گیا ہے اور یہاں آنے والوں کو ہوٹل میں ایک قیدی کی طرح زندگی گزارنی پڑتی ہے اور بات میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیئے قیدیوں پر تشدد بھی کیا جاتا ہے میرے خیال میں شمالی یورپ میں ایسا کرنے کی ضرورت اس لیئے پیش آ گئی کہ وہاں پر باقاعدہ شادی کرنے کا رواج نہیں ہے اور اگر کہیں ہے بھی تو بقدرِ اشکِ بلبل ۔ اسی لیئے انہوں نے آزادی کی قدر و قیمت جاننے کے لیئے جیل ہوٹل بنا دیا۔ جبکہ اس کے برعکس ہمارے ہاں چونکہ ابھی تک شادی کرنے کا باقاعدہ رواج موجود ہے اس لیئے ہمیں آزادی کی قدر و قیمت بتانے کے لیئے کسی جیل ہوٹل کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ ہمارے ہاں اس قسم کے تجربے کی بجائے سیدھے سبھاؤ شادی کر دی جاتی ہے کہ جا بچہ راوی نہ کوئی آوی تے نہ کوئی جاوی۔ ابھی میں نے اتنا ہی لکھا تھا کہ اچانک مجھے ایک مجھ سے بھی پرانی بات یاد آ گئی ) اتنی پرانی کہ اس بات کو ریٹائر ہوئے بھی تقریباً 25 سال ہو گئے ہیں ) جس کے مطابق شوہر نامدار رونی صورت بنا کر گھر میں داخل ہوئے تو بیوی نے اس کی وجہ پوچھی تو شوہر صاحب نے رقت آمیز لہجے میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیا بتاؤں بیگم آج تو میرا ہر کام ہی الٹ ہو گیا۔ پہلی غلطی یہ ہوئی کہ باس اپنی سیکرٹری کے ساتھ راز و نیاز میں مصروف تھا کہ عین اس وقت میں کمرے میں داخل ہو گیا جبکہ دوسری خطا مجھ سے یہ ہوئی کہ میں غلطی سے متعلقہ فائل کی بجائے کوئی اور فائل اُٹھا کر لے گیا تھا اور تیسری اور سنگین غلطی مجھ سے یہ ہوئی کہ باس کی ٹیبل پر فائل رکھتے ہوئے غلطی سے میرا ہاتھ ان کے ہاتھ سے ٹکرا گیا جس کی وجہ سے پتہ نہیں کیسے میز پر رکھا ہوا چائے کا کپ ان پر جا گرا۔ یہ دیکھ کر باس غصے سے آگ بگولہ ہو گیا اور اس نے فائل اُٹھا کر میرے منہ پر دے ماری اور چلا تے ہوئے بولا ” جہنم میں جاؤ“ ۔اس پر بیوی نے افسوس بھرے لہجے میں اس سے پوچھا کہ تو پھر آپ نے کیا کیا ؟ تو شوہر بولا ۔اسی لیئے تو گھر آیا ہوں۔
ہاں جیل سے مجھے یاد آیا ہمارے ایک دوست ہوا کرتے تھے جو کہ خود کو بہت بڑا تیس مار خان سمجھتے تھے بہت کرو فر والے اور ہمیشہ لیئے دیئے رہتے تھے اور کبھی ناک پہ مکھی نہیں بیٹھنے دی لیکن پھر ایک دن مکھی بیٹھ گئی میرا مطلب ہے کہ ان کی شادی ہو گئی اور دوستو آپ کو تو معلوم ہی ہے کہ بقول شاعر شادی کے جو افسانے ہیں رنگین بہت ہیں۔۔۔لیکن جو حقیقتیں ہیں سنگین بہت ہیں۔ شادی کے رنگین افسانے کب شروع ہو کر ختم ہوئے ۔۔۔ انہیں پتہ ہی نہیں چلا ۔ چنانچہ ہنی مون پیریڈ کے ختم ہونے کے بعد آہستہ آہستہ بیوی کے نادیدہ ہاتھوں نے ان کے ساتھ ہاتھ کرنا شروع کر دیا سب سے پہلے بھابھی نے دوست کی تیس مار خانی کے ساتھ وہ حال کیا جو کہ ایک سائیکل چور کا تھانے میں کیا جاتا ہے چنانچہ ایک دن کی بات ہے کہ موصوف دروازہ بند کیے بڑے خشوع و خصوع کے ساتھ اپنی بیوی کے پاؤں داب رہے تھے کہ اتنے میں ان کی منجھلی بہن پھرتی پھراتی وہاں پر آ نکلی بھائی کو اس حالت میں دیکھ کر اس نے اپنی انگلی دانتوں میں دابی اور چمت ہو گئی اور اس کے ساتھ ہی اس ناہنجار نے یہ بریکنگ نیوز کچھ نمک مرچ کے ساتھ باقی گھر والوں کے گوش گزار دی۔ چنانچہ منجھلی کا آنکھوں دیکھا حال سن کراس کے بہن بھائیوں خاص کر بہنوں نے آس پڑوس میں واویلا شروع کر دیا کہ ہمارا بھائی تو بیوی کے تھلے لگ گیا ہے ہوتے ہوتے یہ بات دوست کے باریک کانوں تک بھی پہنچ گئی چنانچہ اس نے جو اُڑٹی اُڑتی زبانِ طیور کی جو یہ منفی پراپیگنڈہ سنا تو وہ غیرتِ ذاتی سے زمین میں گڑتے گڑتے رہ گیا اور پھر اس مدعا پر پہلے اس نے غور کیا پھر غوض کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ فوری طور گھر والوں کی ایک ہنگامی کانفرنس طلب کی جائے۔ اور وہاں پر ان سے خطاب کرتے ہوئے بظاہر اپنے گھر والوں کو مخاطب کر کے لیکن در پردہ اپنی بیگم کو سناتے ہوئے کہنے لگا کہ کان کھول کر سن لو میں لوہے کا چنا ہوں آسانی کے ساتھ نہ چبایا جاؤں گا کہتے ہیں کہ اپنے خاوند کا جذباتی خطاب سن کر پہلے تو بیگم چپ رہی پھر ہنس دی کہ منظور تھا پردہ اس کا۔ لیکن اس خطاب کے فوراً بعد اس نے اپنے پروگرام کے فیز ٹو پر کام شروع کر دیا جس پر عمل درآمد کے بعد ہمارا دوست جو کہ پہلے بڑا طرم خان بنا پھرتا تھا اب اس کا طرم تربیلہ ڈیم میں غرق ہو گیا جبکہ خان کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں کہ کدھر گیا۔ اور کروفر کے بارے میں کیا بتاؤں کہ وہ بچارا ” کر“ تو پہلے فیز میں ہی کچھ نہ کر سکتا تھا باقی بچہ ” فر“ تو لے دے کے اس کے پاس ایک ”فر “ والا کوٹ رہ گیا تھا جسے بھابھی نے اپنے بھائی کو دان کر دیا۔اور جہاں تک دوست کے لیئے دیئے ہونے کا تعلق ہے تو پیارے پڑھنے والو ! دیئے کا تو مجھے پتہ نہیں البتہ آج کل وہ اکثر اپنی بغل میں بیگم کا دوپٹہ لیے پھرتا ہے جسے یا تو اس نے پیکو کروانا ہوتا ہے یا پھر قمیض کا میچنگ رنگ کروانا ہوتا ہے ۔اس قسم کے لوگوں کی حالت دیکھ کر ایک دانشور نے کیا خوب کہا ہے کہ کسی کو اس کی ٹوٹی ہوئی چپل، بوسیدہ لباس اور بکھرے بالوں کی وجہ سے غریب نہ سمجھو۔ ہو سکتا ہے کہ وہ شادی شدہ ہو!۔۔

Views All Time
Views All Time
234
Views Today
Views Today
1
فیس بک کمینٹ




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*