سٹینڈ اپ کامیڈی : ایک تعارف ۔۔ شاہد مجید جعفری


shahid majeed jafery articles at girdopesh.com

کامیڈی ایسی پرفارمنس کو کہتے ہیں کہ جس میں کوئی پیشہ ور اداکار کسی لطیفے یا واقعے سے یا کوئی ایسا طریقہ اختیار کرے کہ جسے دیکھ کر اس کے سامنے بیٹھے حاضرین مسکرانے یا قہقہہ لگانے پر مجبور ہوجائیں۔ کامیڈی ایک وسیع و عریض مضمون ہے اس شعبہ میں بہت سے لوگوں نے نام کمایا ہے ویسے تو د نیا کے ہر ملک میں کامیڈین پائے جاتے ہیں لیکن اس خطےمیں پاکستان کا نام کامیڈی کے حوالے سے بہت اونچا ہے ۔ دوستو کوئی زمانہ تھا کہ کامیڈی کے میدان میں ون مین شو کا رواج ہوا کرتا تھا جس میں ایک شخص سٹیج پر کھڑا ہو کر لوگوں کو ہنسایا کرتا تھا ویسے تو اس ون مین شو میں بہت سے لوگ نامور ہوئے لیکن ان میں سب سے نمایاں نام امان اللہ اور مرحوم معین اختر کا ہے ان میں خاص کر معین اختر تو اپنے شستہ مزاح کی وجہ سے آج بھی یاد کیئے جاتے ہیں۔ پھر زمانہ بدلا اور ون مین شو کی جگہ آج کل سٹینڈ اپ کامیڈی کا دور دورہ ہے اس کے بارے میں جب میں نے ایک کامیڈین سے پوچھا کہ اسٹینڈ اپ کامیڈی کہاں سے آئی ہے؟ تو وہ کہنے لگا مجھے کیا پتہ۔۔ جبکہ ایک اور نے پوچھنے پر بتایا کہ یہ والی کامیڈی یو ٹیوب سے آئی ہے لیکن واقعہ کچھ یوں ہے کہ ہمارے ہاں وبا یو ٹیوب سے نہیں بلکہ انڈیا سے در آئی ہے جبکہ انڈیا والوں سے پوچھو تو وہ کہتے ہیں کہ ان کے ہاں یہ وبا ویسٹ سے آئی تھی۔ آپ اسے پرانی بوتل میں نئی شراب کہہ سکتے ہیں۔ پرانی کامیڈی اور سٹینڈ اپ کامیڈی میں فرق یہ ہے کہ پرانی کامیڈی (کسی حد تک ) مہذب ہوا کرتی تھی جبکہ سٹینڈ اپ کامیڈی میں کامیڈین جو چاہے بول دے اس پر کوئی قدغن نہیں ہے مثلا ً کچھ دن پہلے میں نے ایک سٹینڈ اپ کامیڈی کا اشتہار دیکھا جس کا نام تھا گندی بات۔ اور اس کے نیچے فٹ نوٹ میں لکھا تھا یہاں ایسی ایسی گندی باتیں ہوں گی کہ جسے آپ سننا چاہتے ہیں ۔ایسے اشتہار پڑھ کے اچھے خاصے بندے کا دل چاہتا ہے کہ جا کر دیکھے تو سہی کہ وہ کہتے کیا ہیں۔ ایک اور اشتہار دیکھا جس میں لکھا تھا کہ ہم ایسی ایسی باتیں کریں گے کہ جس کی خواہش ہر جوان دل میں ہوتی ہے ،اب ہر جوان دل کی خواہش کا پڑھ کر خواہ مخواہ ہی دل للچا جاتا ہے۔۔ہمارے ہاں چونکہ یہ نئی نئی وارد ہوئی ہے اس لیئے اس میں مارجن دیکھ کر بہت سے لوگ قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ اس لیئے جس کو دیکھو سٹینڈ اپ کامیڈی کرتا ہوا نظر آ رہا ہے ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ایک شخص جو کہ شکل سے ہی نامعقول نظر آ رہا تھا ایک جگہ کھڑے ہو کر الٹی سیدھی حرکتیں کرتے ہوئے اونچی آواز میں گالیاں بک رہا تھا اور اس کے آس پاس اس سے بھی زیادہ نا معقول لوگ کھڑے ہنسے جا رہے تھےجب میں نے اس سے پوچھا کہ بھائی صاحب یہ کیا ہو رہا ہے تو وہ مجھ سے کہنے لگا چُپ کر میں (سٹینڈ اپ) کامیڈی کر رہا ہوں تو میں نے اس سے پوچھا کہ وہ تو ٹھیک ہے لیکن اس میں تمہیں گالیاں دینے کی کی ضرورت کیوں پیش آ گئی ہے؟ تو وہ بڑے اطمینان سے بولا ایسا کرنے سے بندہ جلدی مشہور ہو جاتا ہے اس پر میں اس سے بولا کہ اگر مشہور ہی ہونا ہے تو محلے کی کسی مائی کو چھیڑ لو۔ خود بخود مشہور ہو جاؤ گے یا مائی تمہیں ایسا مشہور کرے گی کہ رہے نام اللہ کا۔ لیکن اس میں ایک بات کا دھیان رکھنا کہ مائی بیوہ نہ ہو ورنہ معاملہ اُلٹ بھی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص کو دیکھا جو گٹر کنارے بیٹھا پکا سگریٹ پی رہا تھا میں نے پوچھا کہ کیا کر رہے ہو تو وہ مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولا۔۔ کہ وہ سٹینڈ اپ کامیڈی کر رہا ہے یہ صورت حال دیکھ کر میں نے حساب لگایا ہے کہ اتنے تو برسات میں مینڈ ک بھی نہیں نکلتے جتنے کہ یہ اسٹینڈ اپ کامیڈی والے نظر آ رہے ہیں جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو والی مثال نظر آ رہی ہے میرے خیال میں اتنے زیادہ کامیڈین اور دہشت گرد دیکھ کر ہی چیف صاحب نے اپریشن رد الفساد شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
اس اللہ ماری سٹینڈ اپ کامیڈی میں اس گناہگار نے ایسے ایسے نامور چغد بھی دیکھے ہیں کہ جن کی پرفارمنس کو دیکھ کر دل سے دعا تو کیا بدعا بھی نہیں نکلتی البتہ ان کی پرفارمس دیکھتے ہوئے۔۔ منہ پر ایک دم سے وہی بات آتی ہے جو ۔۔ لائٹ جانے کے بعد۔ ۔۔۔ میرے اور آپ کے لبوں پر ۔۔۔بے اختیار ہی۔۔۔آ جاتی ہے ۔۔او تیری۔۔۔۔ ایسی ہی پرفارمنس کے حامل ایک شخص نے مجھے بتایا ( اور یہ شخص آج کل لوکل سٹیج پر کافی مقبول ہے) کہ جب وہ پہلی دفعہ پرفارم کرنے آیا تو سٹیج پر پہنچتے ہی حاضرین کو دیکھ کر اس کی سٹی گم ہو گئی۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی پہلے اس کی دائیں ٹانگ کانپی۔۔ پھر بائیں۔ پھر اوپر والا دھڑ۔۔پھر نیچے والا۔۔۔ اور پھر اس کا سارا وجود کانپنا شروع ہو گیا یہ صورت حال دیکھ کر ۔۔۔ حاضرین تالیاں بجاتے ہوئے بولے واہ واہ۔۔۔یہ بندہ تو بہت اچھا ڈانس بھی کر لیتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ ادھر میری جان پر بنی ہوئی تھی اور لوگ مزے لے رہے تھے یہ دیکھ مجھے سخت غصہ آیا اور میں نے حاضرین کو دو تین گالیاں جڑ دیں وہ کہتے ہیں کہ یہ دیکھ کر میں ہکا بکا رہ گیا کہ حاضرین میری گالیاں کھا کر ذرا بھی بے مزہ نہ ہوئے بلکہ انہیں انجوائے کرتے ہوئے بدستور قہقہے لگاتے رہے۔ وہ کہتا ہے یہ دیکھ کر میں نے جان پکڑی اور حاضرین و ناظرین کو ایسی ایسی گالیوں اور گندی باتوں سے نوازا کہ وہ مائینڈ کرنے کی بجائے ہنستے رہے۔اور یوں میں اسٹینڈ اپ کامیڈی کا پاپولر کامیڈین بن گیا۔۔۔تو پیارے قارئین یہ تھا اسٹینڈ اپ کامیڈی کا مختصر سا تعارف اور ہلکی سی جھلک۔تھوڑی کو بوہتا جانیں اور فی الحال اسی پر گزارا کریں۔

فیس بک کمینٹ
image_print




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*