جمیل استاد اور پرانی شیشہ گڈی ۔۔ شاہد مجید جعفری




shahid majeed jafery articles at girdopesh.com

میں بڑی مشکلوں سے خراب بائیک کو گھسیٹ کر جمیل استاد کی دکان پر پہنچا وہ اس وقت اپنی دکان کے بینچ پر نیم دراز تھے ابھی میں نے بائیک کو اسٹینڈ پر لگایا ہی تھا کہ جمیل استاد کسی غیبی فرشتے کی طرح میرے سر پر آن کھڑے ہوئے۔ غضب ناک آواز میں بولے ۔۔یہ کیا جی میں گاڑی کو شیشہ بنا کر دیتا ہوں اور آپ اسے خراب کر لاتے ہو۔ اس کے بعد انہوں نے بائیک پر ایک قہر بھری نظر ڈالی۔ اور کہنےلگے اس کو کیا ہوا ؟۔۔ میں استاد کے موڈ کو دیکھتے ہوئے مسکین سی آواز میں بولا۔۔ چلتے چلتے رک گئی تھی۔ ککیں مار مار کے تھک گیا ہوں لیکن یہ سٹارٹ ہونے کا نام نہیں لے رہی ۔ میری بات سن کر جمیل استاد نے ایک لمبی سی “ہوں ” کی اور جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک پڑیا نکالی ۔ پھر اس پڑیا میں سے ایک چٹکی نسوار سلیکٹ کی اور اسے بڑی مہارت کے ساتھ اپنے اوپری ہونٹ کے نیچے رکھا۔اس کے بعد انہوں نے اسی قہر بھری نظروں سے دیکھنے کا سلسلہ وہیں سے جوڑا کہ جہاں سے ٹوٹا تھا۔ یعنی غضب ناک نظروں سے پہلے بائیک اور پھر میری طرف دیکھتے ہوئے اونچی آواز میں بولے اوئے مارکونی ذرا ہتھوڑی تو لانا۔ جمیل استاد کے منہ سے ہتھوڑی کا نام سن کر میرا تو رنگ ہی اُڑ گیا اس لئے میں نے اپنی مسکین شکل پر مزید مسکینی طاری کی اور نحیف سی آواز میں بولا میں نے کیا کیا ہے بھائی؟۔۔۔ تو وہ میری بات کا مطلب سمجھتے ہوئے بولے۔۔ فکر نہ کریں جناب ! ہتھوڑی میں نے آپ کے لیئے نہیں بلکہ بائیک کے لیئے منگوائی ہے۔
جمیل استاد ہتھوڑی پکڑے جس شیشہ گڈی کی طرف بڑھ رہے تھے اس کے بارے میں راوی کچھ یوں بیان کرتا ہے کہ یہ پرانے زمانے سے دوچار منٹ پہلے کی بات ہے کہ اللہ بخشے ہمارے پاس ایک پھٹیچر سی بائیک ہوا کرتی تھی جو خاصی تاریخی نوعیت کی حامل تھی اس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ جنگِ عظیم سے دو دن بعد عالمِ باطن سے منصہ شہود میں آئی تھی ۔جائے پیدائش اس کی جاپان بتائی جاتی ہے لیکن عادتیں اس نے پاکستانیوں والی پائیں تھیں۔ بقول اقبال یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا والی بات تھی مطلب جب اس کا کام چلنے کا ہوتا تو یہ رک جاتی اور جب اسے روکنے کی کوشش کرتے تو یہ فراٹے بھرتے ہوئے چلی جاتی تھی (ویسے یہ فراٹے بھرنے والی بات میں نے بطور محاورہ استعمال کی ہے ورنہ آپ کو تو معلوم ہی ہے کہ ایں خیال است محال است و جنوں)۔ بائیک کی وجہء ایجاد یہ بتائی گئی تھی کہ اس سے سواری کا کام لیا جائے گا لیکن جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے ہاں سواری کے علاوہ بھی اس سے بہت سے کام لیئے جاتے ہیں مثلاً ایک رمضان کی بات ہے کہ لوڈ شیڈنگ اپنے عروج پر تھی چنانچہ اس زمانے میں ہمارے محلے کے مولوی صاحب روزہ کھولنے کے لیئے اسی بائیک سے سائرن کا کام بھی لیا کرتے تھے غرور کی بات نہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ اللہ بخشے بائیک کی سپیڈ ایسی تھی کہ عموماً سائیکل والے مجھ سے ریس لگاتے اور جیت جایا کرتے تھے۔اکثر لوگ اسے چلتا دیکھ کر اللہ کی وحدانیت پر ایمان لے آتے تھے اور جب یہ بائیک اپنی موج میں چلا کرتی تھی تو اس کا ایک ایک کل پرزہ ایسی ایسی ہیبت ناک آوازیں نکالتا تھا کہ جسے سن کر بڑے بڑوں کا پتہ پانی اور کلیجہ منہ کو آ جاتا تھا محلے کی عورتیں اس کی آواز سے بچوں کو ڈراتی تھیں۔ اور بعض نا ہنجار تو اسے صورِ اسرافیل کا منی ٹریلر بھی کہنے سے باز نہ آتے تھے ۔
پرانی بائیک کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اسے چوری کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا آپ اسے بغیر لاک کیئے کہیں بھی جا سکتے ہیں اسے چور چوری نہیں کرتا ہاں اگر محکمہ آثارِ قدیمہ والے لے جائیں تو کچھ کہہ نہیں سکتے۔دوسری بات یہ کہ اسے کوئی مانگ کر بھی نہیں لے جاتا جو بھی اسے لے کر جاتا تھا بعد میں ضرور پچھتاتا تھا شروع میں کچھ دوستوں نے یہ حماقت کی تھی کہ مجھ سے موٹر سائئکل ادھار مانگ کر لے گئے لیکن جب واپس آئے تو سخت پریشان تھے ایک کہنے لگا کہ یار اس کا تو پلگ خراب تھا میں نے نیا ڈلوا دیا ہے ایک اور صاحب لے کر گئے تو بائیک واپس دیتے ہوئے بولے اگر تیرے پاس ٹھیک کرانے کے پیسے نہیں تو کسی سے مانگ لیا کر میں پوچھا کہ کیا ہوا ؟ تو وہ کہنے لگے ہونا کیا تھا نہ تو اس کا کلیچ کام کر رہا تھا نہ بیٹری میں پانی تھا اور تو اور اس کی بریکیں بھی خراب تھیں یہ سب ٹھیک کرانے کے باوجود بھی میں اس کے ساتھ پیدل آیا ہوں ۔ تو میں اسے جواب دیتے ہوئے بولا کہ بھائی میں نے پہلے ہی آپ کو بتا دیا تھا کہ میرے بائیک کو چلانا ہر کس ناکس کا کام نہیں ہے ۔
روز روزکی کل کل سے تنگ آ کر آخر میں نے پرانی شیشہ گاڑی بیچ کرایک نئی بائیک لے لی۔۔۔ شیشہ گڈی بیچنے کا یہ نقصان ہوا کہ میں پرانے دوستوں سے بچھڑ گیا پھر ایک دن بائیک چلاتے ہوئے میں نے سوچا بڑا عرصہ ہوا استاد جی سے ملاقات نہیں ہوئی ۔چلو آج جمیل استاد سے ملتے جاتے ہیں یہ سوچ کر میں نے بائیک کو جمیل آٹوز پر روکا دیکھا تو استاد جمیل جو کسی بایئک کا کام کر رہے تھے مجھے دیکھتے ہی اُٹھ کھڑے ہوئے پھر انہوں نے بڑی گہری نظروں سے میری طرف دیکھا اور نظروں ہی نظروں میں تولتے ہوئے بولے۔ شاہ جی کافی موٹے ہو گئے ہو تو میں ان سے کہنا لگا یہ سب نئے بائیک کا کمال ہے ۔میری بات سن کرجمیل استاد نے حسب معمول جیب سے نسوار کی پڑی نکالی ۔ پھر اس سے ایک چونڈی نسوار کو سلیکٹ کیا پھر اسے بڑی مہارت کے ساتھ اوپری ہونٹوں میں انجیکٹ کیا۔ اور مجھ سے مخاطب ہو کر بولے وہ کیسےجی؟ تو میں ان کو جواب دیتے ہوئے بولا وہ ایسے استاد جی کہ آپ کو معلوم ہے کہ پرانا بائیک مجھے ایک کلو میٹر اوپر بٹھاتا اور دو کلو میٹر پیدل چلاتا تھا یوں روزانہ تین چار کلو میٹر چلنے سے میری واک ہو جاتی تھی ۔اب یہ سب ختم ہو گیا ہے تو آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانہ۔

Views All Time
Views All Time
29
Views Today
Views Today
1




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*