ناک کی کیل کو انگریزی میں کیا کہتے ہیں؟۔۔ کہتا ہوں سچ / شاکر حسین شاکرؔ

columns of shakir hussain shakir

20 اکتوبر 2017ء کو حارث خلیق 51 برس کے ہو گئے۔ کتنی عجیب بات ہے انہوں نے اپنی زندگی کے دو عشرے شاعری کی نذر کر دیئے اور دو عشرے ہوش سنبھالنے میں لگا دیئے۔ وہ اپنی شاعری کے آغاز کا سن 1985ء بتاتے ہیں۔ تب سے لے کر آج تک حارث خلیق کے چھ سے زیادہ شعری مجموعے آ چکے ہیں۔ وہ شکل و صورت، چال ڈھال سے شاعر کی بجائے کوئی افسر لگتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے حارث خلیق سماجی ترقی اور انسانی حقوق کے لیے بھی ہر وقت کمربستہ رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا عموماً شاعری تو کیا پڑھنے لکھنے سے بھی کم تعلق ہوتا ہے۔ لیکن حارث خلیق نے نہ تو لٹریچر میں ماسٹر کیا اور نہ ہی درس و تدریس سے وابستہ ہوئے۔ ان کے پاس سماجی ترقی کے شعبے میں ماسٹرز ڈگری کے علاوہ مکینیکل انجینئر ہونے کا اعزاز بھی ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود حارث خلیق اپنے تمام ہم عصروں سے الگ تھلگ کھڑا ہے۔ وہ نظم کا ایک ایسا شاعر ہے جسے پڑھنے کے بعد جی چاہتا ہے کہ اسے بار بار پڑھا جائے۔
حارث خلیق کی نظمیں ’’عشق کی تقویم‘‘ میں کتاب کی صورت میں جب سامنے آئی تو میرے آگے جنتری یعنی تقویم کی تختی آ گئی۔ جنتری جس کے ہر صفحہ پر ستاروں کی چال انسان کو چلنے کا چلن بتاتی ہے۔ تقویم جو دنوں کے آغاز و انجام کی تصویر بناتی ہے۔ جنتری جو ہر دن کو سعد و نجس کے خانوں میں تقسیم کرتی ہے۔ تقویم جو ہمیں صحیح راستے پر ڈالتی ہے۔ ایسے میں حارث خلیق عشق کی تقویم لے کر آئے تو معلوم ہوا کہ ہر جنتری میں دنوں کے مختلف اثرات ہوتے ہیں۔ جنتری عشق کی اگر ہو تو وہ سعد و نجس گھڑیاں نہیں گنتی۔جنتری میں اگر عشق شامل ہو جائے تو دن رات نہیں دیکھے جاتے۔ جنتری کے عشق کے حصے میں صرف عشق ہی ہوتا ہے اور کچھ نہیں ہوتا۔ ایسے میں حارث خلیق کی عشقیہ تقویم کو دیکھا تو معلوم ہوتا ہے اس کی شاعری کا ستارہ پورے عروج پر ہے۔ یہی وجہ ہے حارث خلیق اپنی نظموں میں غزل کی طرح بولتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کی نظم غزل کی۸ طرح آسانی سے سمجھ آ جاتی ہے۔ وہ اپنی بات کو اردگرد کے ماحول میں رکھ کر کہنے کا ہنر جانتا ہے۔ کراچی اس کی محبتوں کا امین ہے۔ وہاں کی رنگارنگی اور مصروفیت کے باوجود وہ ایسی شاعری کر رہا ہے کہ یوں لگتا ہے جیسے وہ کراچی کی آلودگی سے دور ایک شفاف ماحول میں بیٹھا ہوا ہے۔ جہاں پر صرف حارث خلیق ہے اور اس کا محبوب ہے۔ یہ دونوں کسی شبھ گھڑی کا انتظار کیے بغیر گفتگو کر رہے ہیں۔ یہ گفتگو صرف وہی کر سکتے ہیں جو عشق کی وادی کے مسافر ہوتے ہیں۔
چائے کی میز سے لگ کر مَیں کھڑا تھا خاموش
وہ سموسوں سے بھری پلیٹ لیے پاس آئی
اور پوچھا آہستہ آہستہ سے
’’ناک کی کیل کو انگریزی میں کیا کہتے ہیں؟‘‘
عمر ہو گئی کوئی چوبیس برس
ڈیڑھ دو سال کا بیٹھا تھا بہت پیارا سا
جو کبھی گود میں ہوتا تو کبھی بھاگ کے
آنگن میں چلا جاتا تھا
ناک میں بائیں طرف کیل تھی آنکھوں میں چمک
اور چمک وہ جو گناہوں کو چھپا لیتی ہے
کالے بالوں میں گندھی شام کی رعنائی تھی
ایسی رعنائی جو آداب بھلا دیتی ہے
ضبط اور فہم کو ناوقت سُلا دیتی ہے
خون میں سوئی ہوئی آگ جگا دیتی ہے
داد دینا تو بہت دور کی بات
ایک بھی نظم توجہ سے نہیں اُس نے سنی
ہم کہیں اور ہے اور وہ کہیں اور رہی
’’ناک کی کیل کو انگریزی میں کیا کہتے ہیں؟‘‘
حارث خلیق کی بیاض ایسی نظموں سے بھری پڑی ہے۔ وہ جب بات کرتا ہے تو لگتا ہے جیسے وہ نہیں کوئی اور بول رہا ہے۔ اب یہ حارث خلیق سے پوچھنا پڑے گا وہ کون ہے جو تم سے زیادہ تمہاری شاعری میں بول رہا ہے۔ اسی لیے تو حارث خلیق جناب مشیر انور سے سوال کرتا ہے:
مشیر انکل! زمانہ عشق سے بڑھ کر نہیں ہے
جو کہے، جو کچھ کرے
جو بھی دکھائے
عشق سے بڑھ کر نہیں ہے
عشق تو خود اک زمانہ ہے
یہ پورا عہد ہے
آگے جا کر حارث خلیق اُسی عشق کی تفسیر یوں بیان کرتے نظر آتے ہیں:
مشیر انکل! کبھی محبوب کا جب نام آ جائے
تو میری سانس کی ڈوری میں
گرھیں پڑنے لگتی ہے
یہ مَیں اور آپ دونوں جانتے ہیں
جس طرح جادو برحق ہے
عشق برحق ہے۔۔۔۔۔۔
حارث خلیق کی شاعری ایسی نہیں جس کو سرسری پڑھ کر آگے جایا جائے۔ اس کی شاعری تو جگہ جگہ راستہ روک لیتی ہے۔ اس کی ہر نظم کہتی ہے کہ اس سے بہتر کوئی اور نظم نہیں، آگے نہیں جانا لیکن جب ہم ورق تبدیل کرتے ہیں صرف نظم تبدیل ہو جاتی ہے، لفظ تبدیل ہو جاتے ہیں، خیال تبدیل ہو جاتا ہے لیکن کیفیت وہی رہتی ہے یعنی نظم کہتی ہے اس سے بہتر کوئی اور نظم نہیں آگے نہیں جانا۔ حارث کی شاعری میں کبھی گلزار دکھائی دیتا ہے تو کبھی ناصر کاظمی کا انگ نظر آتا ہے۔ ان کی نظموں میں احمد مشتاق گفتگو کرتا ہوا پایا جاتا ہے تو ابنِ انشاء بھی اس کی شاعری کا حصہ لگتا ہے۔ حارث خلیق سماجی شعور کا حصہ ہونے کے باوجود شاعری میں تلخی اور غصہ نہیں کرتا۔ وہ بڑی ملائمت سے بات کرنے کا ہنر رکھتا ہے۔ وہ اپنا تعلق اپنے شہر اور شہر کے لوگوں سے ختم نہیں کرتا۔ بلکہ وہ مسلسل ان کے ساتھ رہنا چاہتا ہے۔ بقول ڈاکٹر سیّد نعمان الحق کے ’’حارث خلیق کی شاعری میں عشق و محبت کی باتیں ہیں۔ حسینوں کے تذکرے ہیں۔ وہ جن کے ہونٹوں پر شفق کی سرخی سمٹ آتی ہے۔ جن کی پیشانی پر دمکتا ہوا چاند رقص کرتا ہے۔‘‘
حارث خلیق ہم سے، آپ سے اور اپنے آپ سے جڑا ہوا شاعر ہے۔ وہ اگر آسمان پر پھیلے ہوئے تاروں کی بات کرتا ہے تو اسے شہر میں پولیس کی فائرنگ بھی افسردہ کرتی ہے اور پھر وہ فیض کی زبان میں بات کرتا ہے:
کون کہے کس سمت ہے تیری روشنیوں کی راہ
عشق کی تقویم میں ۔۔۔۔۔۔ ہمیں وہ کچھ پڑھنے کو ملتا ہے جو ہم پڑھنا چاہتے ہیں۔ جیسا کہ مَیں نے مضمون کے آغاز میں کہا ہے کہ جب میرے سامنے عشق کی تقویم رکھی گئی تو مجھے معلوم ہوا عشق کی تقویم میں سعد و نحس کے ستارے ملتے ہیں۔ عشق جسے ہم سعد ستارہ کہ سکتے ہیں اور عشق میں جدائی نحس ستارہ ہے۔ لیکن مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ حارث خلیق کی تقویم میں جو نظمیں موجود ہیں وہ ہمیں سعد راستہ دکھاتی ہیں۔ اس لیے حارث خلیق کبھی کبھار خود بھی نحس ستارے سے ڈرتا ہے اور
ایک دھڑکا سا لگا رہتا ہے
گرچہ ہر بات چھپائی ہے بڑی خوبی سے
ساتھ اِک عمر بِتائی ہے بڑی خوبی سے
پھر بھی دھڑکاح سا لگا رہتا ہے
عین ممکن ہے کہ شک اب بھی کوئی تازہ ہو
اپنے بارے میں جو مجھ کو بھی نہیں ہے معلوم
کیا خبر اُسی کو اسی بات کا اندازہ ہو
ایک دھڑکا سا لگا رہتا ہے

Views All Time
Views All Time
226
Views Today
Views Today
3
فیس بک کمینٹ

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*