میر انیس اور مرثیہ خوانی کا فن(2) : شاکر حسین شاکر


  • 8
    Shares
اسی طرح مسعود ادیب اپنی کتاب ”انیسیات“ میں لکھتے ہیں: ”میر انیس نے عشرہ محرم میں دس مجلسیں پڑھیں جب مجلس بھر جاتی تھی تو میر انیس کو اطلاع دی جاتی تھی اور وہ اوپر سے اتر کر مجلس میں شامل ہوتے تھے اور منبر کے دوسرے زینے پر بیٹھ کر مرثیہ پڑھتے تھے۔ مرثیہ ختم کر کے منبر سے اتر کر قریب ہی بیٹھ جاتے تھے اور وہیں لوگ ان سے ملاقات کرتے تھے۔ مجلس میں وہ ململ کا کرتہ، چوگوشیہ ٹوپی اور گھیردار پاجامہ پہنتے تھے۔ پھر مرثیہ پڑھتے وقت گھٹنوں پر رومال ڈال لیتے تھے۔“
آج کل جب مرثیہ خواں اپنے گھٹنوں پر رومال یا کپڑا ڈالتا ہے تو وہ میر انیس کی تقلید میں ایسا کرتے ہیں۔ لکھنؤ اور کراچی میں منعقدہ مجالسِ عزا میں یہ کپڑا اوڑھانا بھی تہذیب کا حصہ بن گیا ہے۔ 1871ءمیں میر انیس مرثیہ خوانی کے لیے حیدرآباد دکن گئے وہاں سے ان کے ایک میزبان شریف العلما مولوی سید شریف حسین نے اپنے بھائی کو لکھا: ”میر انیس کا پڑھنا قابل وجہ ہے۔ جو لطف اہلِ لکھنؤ کو میسر نہیں وہ یہاں ہو گا۔“
یہ وہ زمانہ تھا جب میر انیس مرثیہ پڑھنا ترک کر چکے تھے لیکن اس کے باوجود قریبی عزیز و اقارب کی فرمائش پر لکھنؤ میں مرثیہ پڑھ دیتے تھے۔ جب اہلِ لکھنؤ کو یہ اطلاع ہوئی کہ میر انیس آج امام بارگاہ میں مرثیہ پڑھیں گے تو انہیں سننے کے لیے ہزاروں لوگ جمع ہو جاتے۔ اسی طرح کی ایک مجلس کا احوال انیس کے پوتے (دولہا صاحب عروج) کے سوانح نگار سیّد حسن رضا نے کچھ یوں لکھا ہے:
”جیٹھ بیساکھ کا زمانہ تھا۔ دھوپ سخت پڑ رہی تھی۔ میداں میں نمگیروں کے نیچے مجلس تھی۔ تمام شہزادگان اور رؤسا اور شرفا کا مجمع تھا۔ صراحیاں پانی کی چار جانب رکھوا دی تھیں۔ پنکھے بے شمار لوگوں کے لیے تقسیم کر دیئے تھے۔ اس پر لوگ گرمی سے بے تام تھے۔ میر صاحب نے آن کر یہ رنگ دیکھا۔ منبر پر تشریف لے جا کر فوراً رباعی پڑھی:
دھوپ آتے ہی یاں یہ زرد ہو جاتی ہے
آندھی آتی ہے گرد ہو جاتی ہے
پنکھے آہوں کے، آنسوؤں کا چھڑکاؤ
یاں گرم ہوا بھی سرد ہو جاتی ہے
اس مجلس کا انداز آپ کو اس سے ہو سکتا ہے کہ ایک مصرع جو میر انیس پڑھتے تھے اسی مصرع کو مونس صاحب درمیان مجلس میں کھڑے تھے وہ پڑھتے تھے تب تمام مجلس تک آواز جاتی تھی۔ اتنی بڑی مجلس کوئی نہیں ہوتی۔“
میر انیس کا انتقال 29 شوال 1291ھ / 10 دسمبر 1874ءکی شام کو ہوا۔ لیکن ان کی پڑھے گئے مرثیے آج بھی لوگوں کو یاد ہیں۔ اور خاص طور پر جب میر انیس کسی مجلس میں مرثیہ پڑھنے آتے تو ان کی اس مجلس کا اعلان کئی دن پہلے کر دیا جاتا۔ میرِ مجلس کو آنکھوں پہ بٹھایا جاتا۔ حقے کے دور چلنے لگتے۔ مجلس شروع ہونے سے پہلے لوگ اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے۔لیکن ان کی نظریں میر انیس کی منتظر ہوتیں۔ جیسے میر انیس مرثیہ پڑھنے پہنچتے تو بانی مجلس فوراً حقے ہٹا دینے کاحکم جاری کرتا۔ جن طشتریوں میں پان اور دیگر چیزیں موجود ہوتی تھیں ان کو ہٹا دیا جاتا۔ ساری مجلس ہمہ تن گوش ہو کر منبر کی طرف دیکھنا شروع کر دیتی۔ منبر کو ہمیشہ سیاہ پوش سے ڈھانپا جاتا تھا کہ یہی رنگ مجلس کے لیے مخصوص کیا جاتا ہے۔ منبر کے دائیں بائیں اگر دو علَم لگے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میر انیس آج حضرت عباسؑ کا مرثیہ پڑھیں گے۔ اگر منبر کے قریب جھولا دکھائی دیتا تو حاضرینِ مجلس سمجھ جاتے کہ آج حضرت علی اصغرؑ کا مرثیہ میر انیس پڑھیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ میر انیس کا مجلس میں استقبال بھی ان کے شایانِ شان ہوتا۔ منبر پر بیٹھتے ہی وہ کچھ دیر تک خاموش رہتے اس کے بعد دُعائیہ کلمات ادا کرتے پھر بستہ دار مؤدب انداز میں منبر کے قریب جا کر انہیں مرثیہ پیش کرتا۔ میر انیس مرثیہ بائیں ہاتھ میں لے کر دایاں ہاتھ زانو پہ رکھ کے دھیمی آواز میں دو تین رباعیات پڑھتے۔ پھر امامِ حسینؑ کے حضور سلام کا نذرانہ پیش کرتے۔ داد و تحسین کے شور میں وہ پھر مرثیہ پڑھتے اور اس کے بعد مجلس کی حالت کچھ یوں ہوتی کہ میر انیس مرثیہ پڑھ رہے ہوتے اور بقول شمس العلماءمولانا ذکاءاللہ کے ”میر انیس کا طرزِ بیان جوانوں کو مات کرتا تھا اور معلوم ہوتا تھا کہ منبر پر ایک کل کی بڑھیا بیٹھی لڑکوں پر جادو کر رہی ہے جس کا دل جس طرف چاہتی ہے پھیر دیتی ہے اور جب چاہتی ہے ہنساتی ہے اور جب چاہتی ہے رلاتی ہے۔“ یعنی
توقیر ترے ہی آستانے سے ملی
عزت ترے در پہ سر جھکانے سے ملی
مال و زر و آبرو دین و ایماں
کیا کیا دولت ترے خزانے سے ملی!
غرض یہ کہ میر انیس کی مرثیہ خوانی میں مجالسِ عزا میں ایسے اثرات مرتب کیے کہ مرثیہ گو شاعر اور مرثیہ خوانی کرنے والے آج بھی میر انیس کے انداز کو سامنے رکھ کر مرثیہ پڑھتے ہیں اور ان کا یہ انداز سدابہار ہے۔ کہ میر انیس کے مرثیوں کا اگر ہم مطالعہ کریں تو ہر مرثیے میں الگ مضمون، منظر نگاری اور شاعری پر عبور دکھائی دیتا ہے۔ میر انیس کے مرثیے کو پڑھنے کے لیے میر انیس کی شخصیت کے بارے میں جاننا ضروری ہے کہ اگر ان سے شناسائی ہو گی تو مرثیہ خوانی میں بھی آسانی ہو گی۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)
فیس بک کمینٹ
image_print




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*