انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا مشغلہ۔۔ شاکر حسین شاکر


  • 19
    Shares
سپریم کورٹ آف پاکستان کو کیا خبر تھی کہ وہ جب آسیہ مسیح کیس کا فیصلہ سنائے گی تو اس کے بعد یار لوگ اتنا احتجاج کریں گے کہ چند دنوں میں 170 ارب کا نقصان ہو جائے گا۔ کیسے کیسے باشعور لوگوں کے پردے چاک ہو گئے۔ پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور اس فیصلے کے نتیجے میں پھیلنے والی آگ کو خاص جگہوں پر روکے رکھا ورنہ ماضی میں الیکٹرانک میڈیا تو اس طرح کے دھرنے اور احتجاج کی براہ راست کوریج کر کے معاملات کو مزید خراب کرنے میں معاون بنا کرتا تھا۔ ہر دھرنے کا اختتام کچھ وعدوں اور معاہدوں پر ہوتا ہے۔ ایسے معاہدوں کا اور وعدوں کا احترام پاکستان میں اتنا ہی ہے جتنا مغرب میں عصمت و عفت کا کیا جاتا ہے۔ معاہدے کرانے اور کرنے والوں کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس پر عمل درآمد مشکل سے ہو گا لیکن اس کے باوجود سب ایک میز پر آتے ہیں اور یقین، اعتماد اور اعتبار کیسے گھسے پٹے لفظوں پر ایمان لاتے ہیں۔
ایمان کا ذکر ہوا ہے تو ہر مسلمان اس بات پر ایمانِ کامل رکھتا ہے کہ وہ اﷲ تعالیٰ اور نبی رحمت کی حرمت کو اپنے ایمان کا حصہ مانتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود دیگر مذاہب کے لوگوں کو اﷲ تعالیٰ جینے کا حق دیتا ہے۔ اسی طرح جب بھی غیر مسلموں کو موقع ملتا ہے وہ مسلمانوں کی مدد کے لیے آتے ہیں۔ مقالاتِ سرسید حصہ 13 کے صفحہ نمبر371 پر درج ہے ”ہمیں نہ چاہتے ہوئے بھی مدرستہ العلوم کے بانیوں کو دوسری قوم کے آگے ہاتھ پھیلانا پڑا۔“ اسی طرح ”سفرنامہ پنجاب“ میں تحریر ہے ”مَیں خاص طور پر اپنے ہندو بھائیوں کا احسان نہیں بھولتا جنہوں نے قوم اور اپنے بھائیوں کو تباہ حالت میں دیکھ کر ان کی بہتری کے لیے ہزاروں روپیہ چندہ میں دیا۔“ اسی کتاب کے صفحہ 46 میں رقم ہے ”اس مدد مَیں مسلمانوں کا اس قدر مشکور نہیں ہوں جس قدر ہندوؤں کا ہوں۔ جنہوں نے بطور خیرات کے اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کی۔ مدرسے کی عمارت کی دیواروں اور محرابوں پر بہت سے ہندوؤں کے نام کندہ ہیں جس سے ہمیشہ کو یہ یادگار قائم رہے گی کہ ہندوؤں نے اپنے درماندہ بھائیوں کی کس فیاضی سے مدد کی۔“
اسی طرح علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ مطبوعہ نومبر 1875ءکے صفحہ نمبر3 پر درج ہے ”مسلمانانِ ہندوستان نہایت احسان مندی سے حضور عالی جناب ہزایکسیلینسی لارڈ نارتھ بروک وائسرائے و گورنر جنرل ہندوستان کو ہمیشہ نسل در نسل یاد رکھیں گھے جنہوں نے نہایت فیاضی سے دس ہزار روپیہ اپنی جیبِ خاص سے اس مدرسہ کے دنیوی علوم کے کاروبار کو مرحمت فرمایا۔“ قارئین کرام! یہ بے ترتیب سا کالم ہم اس لیے تحریر کر رہے ہیں کہ جب بھی ملک میں مذہب کے نام پر زندگی کا پہیہ جام کیا جاتا ہے تو ایسے موقعوں پر جس طرح کے لفظ اور جملے بولے جاتے وہ ہم اپنے بچوں اور عورتوں کو سنوا بھی نہیں سکتے کہ یہ وہ الفاظ اور جملے تو ہم تصور کرتے ہوئے بھی شرماتے ہیں۔ معلوم نہیں کہ آج کے مقررین کے منہ سے یہ الفاظ کس طرح ہزاروں لوگوں کے سامنے ادا ہوتے ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ یہ 1990ءکا زمانہ تھا کہ جب پورے ملک میں انتخابی مہم چل رہی تھی انہی دنوں میرا ناک کا آپریشن ہوا تھا اور مَیں نشتر ہسپتال میں داخل تھا۔ مجھے اطلاع ہوئی کہ چوک دولت گیٹ ملتان میں پیر ریاض حسی قریشی کے آخری انتخابی جلسہ سے خطاب کرنے مولانا کوثر نیازی آ رہے ہیں۔ ان کی خطابت کا شہرہ تو پوری دنیا میں تھا۔ مَیں ہسپتال سے ڈاکٹر سے چھٹی لیے بغیر دولت گیٹ پہنچ گیا اور رات گئے مولانا کوثر نیازی کی تقریر سن کر واپس آ گیا اور کانوں کان کسی کو خبر نہ ہوئی کہ مولانا کوثر نیازی کی خطابت کے جوہر اپنی جگہ رہے۔ مَیں ان کی تقریر اس لیے بھی سننے گیا تھا کہ ان کے بارے میں مَیں پڑھا تھا کہ وہ ایک زمانے میں قراقلی ٹوپی بڑے شوق سے پہنتے تھے۔ مگر جب انہیں معلوم ہوا کہ نوزائیدہ بھیڑ کے بچے کا پیٹ چیر کر اس کی کھال سے یہ ٹوپی بنائی جاتی ہے تب سے انہوں نے یہ ٹوپی پہننی ترک کر دی۔ ایک طرف ماضی قریب کے وہ علماءکرام جو بھیڑ کے نوزائدہ بچے کی کھال کی بنی ٹوپی نہ پہنیں تو دوسری جانب آج کے وہ علماءکرام جو ملک کی ڈوبی معیشت کو مزید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ وہ یہ بھی کر سکتے تھے کہ حکومتی اور قانونی حلقوں کو ساتھ لے کر مسجد اور منبر کے ذریعے اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے۔ مہذب معاشروں میں جس طرح احتجاج کیا جاتا ہے اُسی طرح احتجاج کرتے تو کتنا اچھا ہوتا۔
ہم نے احتجاج کے دنوں میں کیلے کی رہڑی کو لوٹتے دیکھا۔ سب نے شور مچا دیا۔ اصل میں وہ ویڈیو تو ہمارے معاشرے کی اصل تصویر کی عکاسی کر رہی ہے۔ اس ریڑھی سے کیلے لوٹنے والوں میں کوئی عالم دین تو نہیں تھا البتہ اس میں بچے، عورتیں اور جوان کیلے اٹھاتے ہوئے دکھائی دیئے۔ وہ ویڈیو ہمارے معاشرے کی ہی حقیقی تصویر ہے جس کو ہم نے خود بنایا۔ البتہ قیمتی بسوں اور گاڑیوں کو جلانے والے وہی ہیں، لوگوں کو سڑکوں پر آنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ موٹر سائیکلوں کو آگ لگا کر کون سا احتجاج اور ٹائروں کو نذرِ آتش کر کے کس دین کی خدمت کی جاتی ہے؟ سڑکوں پر ایمبولینس اور فیملی کی گاڑیوں کو روک کر کیا پیغام دیا جاتا ہے؟ ایسے میں ہمیں گیان چند کا لکھا یاد آتا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں:
”اخلاق ایک سماجی تصور ہے۔ سماج کے باہر تپسیا اور ریاضت ہو سکتی ہے لیکن اخلاق کا مظاہرہ یا فقدان نہیں ہو سکتا۔ ایک جزیرے میں تنہا رہنے والا رابنسن کروسو نہ جھوٹ بول سکتا ہے نہ چار سو بیسی کر سکتا ہے نہ کسی کو دغا دے سکتا ہے۔ کسی کا بھلا کر سکتا ہے نہ برا جب کوئی اس کے پاس دوسرا انسان ہی نہیں تو اخلاق کس کے ساتھ برتا جائے۔“
اسی طرح خواجہ احمد عباس نے ایک جگہ لکھا ”فرقہ ورانہ فسادات کے دوران سردار جی کے گھر میں ایک مسلمان چھپا ہے۔ باہر ہندو بلوائیوں کی بھیڑ ہے۔ اس موقع پر اگر سردار یہ جھوٹ بولتا ہے کہ اس نے گھر میں کسی مسلمان کو پناہ نہیں دے رکھی تو اس کے اس جھوٹ پر ہزاروں سچ قربان کیے جا سکتے ہیں۔“
باتیں اور بھی کرنے کی ہیں لیکن ہم نے گزشتہ ستر برسوں میں باتیں کرنے کی فصلیں بوئی ہیں یوں محسوس ہوتا ہے ان باتوں کی آبیاری کڑوے خیالات سے کی ہے۔ اسی لیے یہاں ہر شخص اب صرف کڑوی کسیلی باتیں کرتا ہے اب یہاں کے پرندے بھی نہیں چہچہاتے کہ کہیں ان کو کافر کہہ کر انہی کے درخت نہ کاٹ دیئے جائیں۔ اسی لیے ہم انسانوں کو تو اپنے ہاتھوں سے موت کے گھاٹ اتارے جا رہے ہیں کہ ہمیں اب یہ مشغلہ اچھا لگتا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)
فیس بک کمینٹ
image_print




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*