ادبشاکر حسین شاکرکالملکھاری

اکادمی ادبیات ملتان کا دفتر اور لوگوں کو ہائی بلڈ پریشر۔۔کہتاہوں سچ / شاکر حسین شاکر

آخرکار مارچ 2017ءمیں اکادمی ادبیات پاکستان کا ملتان دفتر قائم کر دیا گیا۔ بظاہر یہ بات آپ نے ایک جملے میں پڑھ لی لیکن اس جملے کے پس منظر میں پوری داستان پنہاں ہے۔ اس داستان کا آغاز 2004ءمیں اُس وقت ہوا جب ملتان کے ضلع ناظم پیر ریاض حسین قریشی تھے۔ انہیں شعر و شاعری سے بہت شغف تھا۔ احمد فراز سے لے کر مستنصر حسین تارڑ ان کے ذاتی تعلقات تھے۔ جس وجہ سے وہ گاہے گاہے انہیں ملتان آنے کی دعوت دیتے رہتے تھے۔ ایک دن وہ میرے ساتھ نوائے وقت ملتان کے دفتر میں جبار مفتی کے ساتھ گپ شپ کرتے ہوئے کہنے لگے شاکر بھائی مَیں ضلعی حکومت کے زیرِ اہتمام جنوبی پنجاب اہلِ قلم کانفرنس کرانا چاہتا ہوں۔ مَیں نے اور جبار مفتی نے سنتے ہی ان کی تائید کی۔ مَیں نے کہا آج کل اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین افتخار عارف ہیں ان کو اس کانفرنس میں بطور مہمانِ خصوصی لانا میری ذمہ داری ہے۔ پیر صاحب نے کہا گورنر پنجاب خالد مقبول اس کی صدارت کریں گے۔ وہ میری ذمہ داری ہوئی۔ جبار مفتی نے کہا جنوبی پنجاب کے نامور اہلِ قلم بشریٰ رحمن، ارشاد احمد عارف، اصغر ندیم سیّد، سجاد میر اور احباب کو جمع کرنا میرا کام ہو گیا۔ مَیں نے پیر صاحب کے اس منصوبے پر کام کا آغاز کیا۔ انتظامی کمیٹی میں ڈاکٹر کریم ملک، عارف الاسلام صدیقی، قاسم سیال، راحت وفا، اظہر سلیم مجوکہ، سلیم ناز، رضی الدین رضی سمیت بے شمار ادیب و شاعر شامل تھے۔ جن کے نام اس وقت ذہن سے محو ہو گوے ہیں۔ بہرحال ملتان آرٹس کونسل کے وسیع و عریض آڈیٹوریم میں مندرجہ بالا تمام نامور لکھنے والے شریک ہوئے۔ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اہلِ قلم کی کتب کی نمائش کا انتظام عمر کمال خان مرحوم نے کیا۔ اس موقع پر مَیں نے بطور سٹیج سیکرٹری ملتان میں اکادمی ادبیات پاکستان کے دفتر کو قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ افتخار عارف اور گورنر پنجاب خالد مقبول نے تالیوں کی گونج میں دفتر بنانے کا اعلان کیا اور پھر کانفرنس کے بعد دفتر کے قیام کے لیے گورنر ہا¶س سے اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین سے خط و کتابت کا آغاز ہوا۔
سرکاری فائلوں کی رفتار جتنی سست روی سے ایک سے دوسرے دفتر میں سفر کرتی ہے اس کا اندازہ ہر پاکستانی کو ہے۔ سو اکادمی ادبیات پاکستان ملتان کے دفتر کی فائل مشرف حکومت کے خاتمے تک بھی کوئی فیصلہ نہ کرا سکی۔ اور یوں مشرف حکومت اکادمی ادبیات پاکستان کا ملتان دفتر شرمندہ¿ تعبیر نہ ہو سکا۔ 2008ءمیں سیّد یوسف رضا گیلانی وزیرِاعظم بنے تو ملتان کے ادیبوں کا یہی مطالبہ پورا نہ ہوا۔ انہی کے دور میں صدر مملکت آصف علی زرداری سے دو مرتبہ ملتان کے کالم نگاروں اور اہلِ قلم نے ملاقاتیں کیں۔ اکادمی کو ملتان لانے کی فرمائش کی گئی لیکن جواب ندارد۔ البتہ آصف علی زردگی نے ایوانِ صدر سے ایک مرتبہ پھر ملتان کے اکادمی ادبیات کے دفتر کے قیام کے لیے اس وقت کے چیئرمین فخرزمان کو خط لکھا۔ ابھی سرکاری فائل چیونٹی کی رفتار سے اپنا سفر طے کر رہی تھی کہ حکومت ختم ہوتے ہی جنوبی پنجاب کے اہلِ قلم کی یہ اُمید بھی ختم ہو گئی کیونکہ جب ایوانِ صدر کے حکم کو پذیرائی نہ ملی تو پھر کسی اور کے کہے کو کیسے پذیرائی مل سکتی تھی۔
2013ءمیں انتخابات کے بعد ن لیگ کی حکومت آئی تو جنوبی پنجاب کے عوام کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ ایک سیلف میڈ اور شفاف سیاستدان ملک محمد رفیق رجوانہ بھی گورنر پنجاب بن سکتا ہے۔ گورنر پنجاب بننے کے بعد رجوانہ صاحب نے لاہور اور ملتان میں مختلف ملاقاتوں میں ہر شخص سے کہا کہ مجھے حکم کریں مَیں جنوبی پنجاب کے لیے کیا کر سکتا ہوں؟ ایسے میں ملتان کے ادیبوں اور کالم نگاروں کے ہمراہ پہلی ملاقات سرکٹ ہا¶س اور دوسری ہائی کورٹ بار میں ہوئی۔ جہاں پر مَیں نے ان سے مطالبہ کیا کہ ملتان میں اکادمی ادبیات پاکستان کے دفتر کی اس فائل کو نکالا جائے جو گورنر خالد مقبول کے زمانے سے ریکارڈ میں دبی ہوئی ہے۔ رجوانہ صاحب نے اپنی یادداشت کے خزانے میں جنوبی پنجاب کے ایک اور مطالبے کو لے کر گورنر ہا¶س لاہور پہنچے تو انہوں نے عرفان صدیقی (مشیر وزیراعظم برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ) سے رابطہ کر کے ملتان کے لکھنے والوں کی فرمائش ان کے سامنے رکھ دی۔ عرفان صدیقی نے سنتے ہی کہا رجوانہ صاحب یہ بڑا مشکل کام ہے۔ ا س سے پہلے اکادمی ادبیات پاکستان کے دفاتر صوبائی ہیڈکوارٹرز میں قائم ہیں۔ ہم ملتان میں کیسے قائم کر سکتے ہیں؟ رجوانہ صاحب نے کہا صدیقی صاحب جہاں تک اس دفتر کے قیام میں کوئی قانونی ہیچ کا مسئلہ ہے تو قانون کی تمام رکاوٹیں مَیں دور کر دوں گا۔ عرفان صدیقی نے کہا فی الحال اکادمی ادبیات پاکستان کے پاس دفتر قائم کرنے کے لیے وسائل نہیں ہیں۔ رجوانہ صاحب نے کہا وسائل ہم دیں گے آپ دفتر بنانے کے لیے ”ہاں“ تو کریں۔ عرفان صدیقی نے ”دفتری آمادگی“ کے لیے ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو (چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان) کو ملتان بھجوایا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے دفتر قائم کے کرنے کے لیے پانچ افراد پر مشتمل ایک انتظامی کمیٹی بھی تشکیل دے دی۔ جس نے مختلف اجلاسوں کے ذریعے مجوزہ دفتر کی جگہ کے انتخاب اور دیگر معاملات کو بغور دیکھا اور آخرکار دفتر قائم کرنے میں گورنر پنجاب رفیق رجوانہ، عرفان صدیقی مشیر وزیر اعظم، ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان سرخرو ہوئے۔ یوں جنوبی پنجاب کے اہلِ قلم کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو گیا۔
افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے گورنر پنجاب، عرفان صدیقی اور چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان جب ریڈیو ملتان کے سبزہ زار پہنچے تو جنوبی پنجاب کے چھ سو سے زائد اہلِ قلم نے بھرپور استقبال کیا۔ سٹیج پر ان مہمانوں کے علاوہ ڈاکٹر اسلم انصاری، حفیظ خان، خالد مسعود خان، اظہر سلیم مجوکہ اور ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کے علاوہ نامور سماجی کارکن چوہدری ذوالفقار علی انجم بھی موجود تھے۔ چوہدری ذوالفقار علی انجم خطے کی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے اکادمی ادبیات پاکستان ملتان دفتر کا مکمل جہیز مہیا کیا۔ حکومت نے اس دفتر کے قیام کے لیے اپنے وعدے کے مطابق کوئی وسائل نہ دیئے۔ لیکن اس کے باوجود ملتان اکادمی کے دفتر کی افتتاحی تقریب کے موقع پر گورنر پنجاب، عرفان صدیقی کی گفتگو نے جی موہ لیے۔ چیئرمین اکادمی کے خاندان میں ایک دفتر کا اضافہ ہوا۔ ان کی خوشی بھی قابلِ دید تھی۔ ڈاکٹر اسلم انصاری اور حفیظ خان کی خطابت پر پنڈال بار بار تالیوں سے گونجتا رہا لیکن اصل میلہ تو میرے بڑے بھائی اور جنوبی پنجاب کی پہچان خالد مسعود خان نے لوٹا جن کے ہر جملے پر تقریب کے شرکاءیوں داد دیتے رہے جیسے وہ تقریر نہیں کوئی شاعری سنا رہے ہیں۔ ملتان میں ایک عرصے بعد اتنی بھرپور تقریب ہوئی جس کے بعد بہت سے لوگوں کے بلڈ پریشر ہائی ہو گئے کہ ایک ہائی پروفائل تقریب کے بعد ایسی کیفیت کا ہونا تو ضروری تھا۔
(بشکریہ روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker