قربانی کے بکرے کا آخری خط : کہتا ہوں سچ / شاکر حسین شاکر

columns of shakir hussain shakir

ڈارلنگ!
جب سے ذوالحج کا آغاز ہوا ہے تب سے کبھی میری دائیں آنکھ پھڑکتی ہے تو کبھی بائیں۔ رات کو سوتا ہوں تو برے خواب مجھے سونے نہیں دیتے۔ مَیں آج کل جس گھر میں رہ رہا ہوں وہاں میری خوب تواضع ہو رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دال میں ”مکمل“ کالا ہے۔ کوئی مجھے مہندی لگاتا ہے تو کوئی میرے لیے جھانجریں خرید کر لایا ہے۔ رنگ برنگے گاہنے اور معلوم نہیں کیا کچھ میرے لیے اہتمام کیا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ میرے ذبح کی تیاری ہے۔ رات کو مَیں نے یہ بھی سنا کہ میرا مالک قصائی کو فون کر کے کہہ رہا تھا مَیں سوا چھ بجے صبح نمازِ عید پڑھ کر فارغ ہو جاؤں گا تم ساڑھے چھ بجے سے لیٹ نہ ہونا۔
میری جان! یہ تمام اشارے اور تیاریاں ثابت کر رہی ہیں کہ میری زندگی کے دن پورے ہونے والے ہیں۔ اس خط کو مرتے دم تک سنبھال کر رکھنا کیونکہ یہ میرا آخری خط ہے۔ میرے بعد اکیلی گلی محلوں میں نہ جانا زمانہ بہت خراب ہے۔ تم اتنی خوبصورت ہو کہ ہر شخص کی تم پر بے ساختہ بری نظر ہی پڑ تی ہے ۔ اگر میرے بس میں ہوتا تو مَیں ہمیشہ تمہیں زمانے سے بچا کر رکھتا۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ پر اہم ہیں لیکن آج مَیں آخری خط میں یہ اقرار کر رہا ہوں کہ تم سے پہلے میری زندگی میں بے شمار بکریاں آئی تھیں وہ تمام بکریاں میرا بہت خرچہ کراتی تھیں کوئی ہر وقت لوڈ کراتی تھی تو کسی کی یہ فرمائش ہوتی تھی کہ اسے ایف ایم ریڈیو والا موبائل چاہیے۔ ایک بکری تو اتنی نخریلی تھی کہ وہ ہمیشہ منرل واٹر پیتی تھی۔ جب تک تم میری زندگی میں نہیں آئی تھیں تو مَیں بے حد فضول خرچ ہوا کرتا تھا۔ تمہارے زندگی میں آتے ہی میری کایا پلٹ گئی۔ ایک تمہاری طبیعت بالکل سادہ ہے نہ تم کو اچھا گھاس کھانے کا شوق ہے نہ صاف ستھرا پانی پینے کی لگن۔ تم حقیقی طور پر اﷲ میاں کی گائے ہو۔ اتنی سادہ بکری تو مَیں نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھی۔ یہ سادگی ہی مجھ کو تمہارے قریب لائی تم نے مجھے ایک نئی زندگی سے آشنا کرایا۔ تم یاد کرو جب ہم اکٹھے ہوتے تھے ہم کتنے گھنٹے باتیں کرتے تھے۔ خاص طور پر رات کو جب سب گھر والے سو جاتے تھے ہم دونوں آنکھیں بند کر کے پیار کی بے شمار گلاں کیا کرتے تھے۔ سادہ زمانے تھے نہ موبائل ہوتا تھا اور نہ ہی کیبل۔ لوگ بھی رات کو جلد سو جایا کرتے تھے۔ جب سے منحوس موبائل آیا ہے گھر کے افراد رات کو سوتے ہیں نہ دن کو۔ ایک دن جب حاجی صاحب نے ہمیں پیار محبت کے راگ الاپتے سنا تو انہوں نے اگلے دن ہی میرا ایسی جگہ سودا کر دیا جو ہر وقت مجھے ذبح کرنے کے ”سی پیک جیسے منصوبے“ بنا رہا ہے۔ مَیں جب سے تم سے جدا ہوا ہوں دل اچانک بیٹھ جاتا ہے۔ ہر وقت ایک بے کلی سی رہتی ہے۔ ہر چیز دھواں دھواں محسوس ہوتی ہے۔ جب ہم اکٹھے ہوتے تھے تو ہم دونوں کو ساون کی بارش کتنی اچھی لگتی تھی لیکن تم سے جدا ہونے کے بعد ساون کی تین بارشیں ہو چکی ہیں لیکن اب بارش مجھے زہر لگتی ہے۔ ہر وقت سر جھکائے تمہیں سوچتا رہتا ہوں۔ تاروں بھرے آسمان کے نیچے بیٹھ کر سوچتا ہوں کہ اس وقت کیا کر رہی ہو گی؟ تمہاری خارش کا کیا حال ہے جو ہر وقت تمہارے کان کے قریب ہوتی تھی۔ پیٹ میں اب گیس تو جمع نہیں ہوتی۔ گلے کا خوب خیال رکھا کرو۔ تمہاری آواز ہی مجھ کو تمہارے قریب لائی تھی۔ یہ نہ ہو کہ مَیں جب تم کو فون کروں تمہارا گلا ہی بیٹھا ہو۔ مَیں کوشش کر رہا ہوں کہ میرے موبائل میں کوئی بکرا لوڈ کروا دے تاکہ عید قرباں سے قبل تمہاری آواز تو سن لوں۔
جانِ من! جب سے مَیں نئے مالک کے گھر آیا ہوں میری کوشش ہے کہ مَیں بیمار ہی پڑ جاؤں تاکہ عید قربان پر میری قربانی نہ ہو سکے۔ مَیں ہر وقت یہ دُعا مانگتا رہتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ مجھے السر کر دے۔ اﷲ مجھ کو ہارٹ اٹیک کر دے، ٹی بی کر دے یا مجھے کوئی ایسی بیماری ہی لاحق ہو جائے کہ کوئی مجھ پر حق نہ جتا سکے۔ لیکن یہ میرے خواب و خیال ہیں۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ میرا مالک روزانہ اپنی بغل میں کھانے پکانے کی نئی کتاب دابے جب گھر میں داخل ہوتا ہے تو میرا جی چاہتا ہے کہ اس کو ٹکر مار کر جاں بحق کر دوں۔ لیکن کیا کروں انہوں نے جس کھونٹی سے مجھے باند رکھا ہے اس کی رسی ہی بہت چھوٹی ہے۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے مجھے یقین ہوتا جا رہا ہے کہ تمہاری میری ابدی جدائی قریب ہے۔ اب شاید ہم کبھی نہ مل پائیں۔ لیکن خوابوں کے علاوہ کبابوں میں تو لازمی ملاقات ہو جائے گی۔
میری شریکِ گوشت! اب جاتے جاتے میری وصیت بھی پڑھ لو۔ اپنا موبائل نمبر کسی کو نہ دینا ورنہ تم کو ایسے ایسے میسجز آئیں گے جس کو پڑھتے تمہیں شرم آئے گی۔ اپنے فون پر فیس بک اکاؤنٹ نہ بنانا اور نہ ہی واٹس ایپ انسٹال کرنا۔ آج کل اچھے خاصے عزت دار لوگ موبائل کی وجہ سے بے عزت ہو رہے ہیں۔ اب مَیں اپنے حالات کی طرف واپس آتا ہوں جیسے ہی رات کے دس بجتے ہیں ایک مولوی صاحب میرے مالک کے پاس آ کر عیدالاضحی کے فضائل اور قربانی کے مسائل بیان کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ سمجھ لو کہ میری قربانی کے نتیجہ میں قبر و عاقبت کی جو تصویر کشی کرتے ہیں اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مَیں اپنے انجام کی طرف جا رہا ہوں۔ مولوی صاحب میری کھال اور ران کی بات پکی کرنے آتے ہیں۔ لیکن مجھے ان کی شکل میں موت کا فرشتہ دکھائی دیتا ہے اگر میرے بس میں ہوتا کہ مَیں اس پر خودکش حملہ کراتا تاکہ نہ بین بجتی نہ بابجا۔ مَیں راتوں کو اٹھ اٹھ کر کانگو وائرس کے پھیلنے کی دعائیں کر رہا ہوں تاکہ اس عید پر قربان ہونے سے بچ جاؤں۔
پیاری جانِ من! اس خط کا ایک مقصد تمہاری دل جوئی بھی کرنا ہے کیونکہ تمہارے بغیر زندگی بالکل پھیکی ہو گئی ہے۔ دوسری جانب جس گھر میں آج کل رہ رہا ہوں وہاں مصالحوں کے سٹاک کیے جا رہے ہیں۔ ڈیپ فریزر مرمت کرایا گیا ہے یوں لگتا ہے:
بکرا کھانے کے واسطے پیدا کیا انسان کو
تم سے مزید باتیں کرنے کو جی چاہ رہا تھا لیکن مجھے نیند آ رہی ہے مَیں خوابوں میں تمہیں ملنا چاہتا ہوں۔ اگر زندگی میں مجھ سے کبھی کوئی تمہاری شان میں گستاخی ہوئی ہو تو معاف کر دینا۔ تمہاری خوبصورت آنکھوں کو بے حد مِس کر رہا ہوں۔ تمہاری دودھیا رنگت جب بھی یاد آتی ہے آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ مورنی جیسی چال، ملائم بال، خوبصورت سری، جھانجر والے پائے۔۔ سب کچھ ہی ختم ہو جائے گا لیکن تمہاری میری محبت ہمیشہ لازوال رہے گی۔ فقط تمہارا صرف تمہارا بکرا!

فیس بک کمینٹ

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*