میڈیا ہاؤ سز یا بیگار کیمپ ؟ شہزاد عمران خان


shehzad imran
  • 21
    Shares

کہتےہیں صحافی ہر ظلم کےخلاف عوام کی آواز بن جاتے ہیں،ان کے مسائل کو اجاگر کرنےمیں میڈیا کا کردار کسی بھی صورت کم نہیں ۔۔ مگر ان میڈیا ہاؤ سز میں کام کرنے والوں سے اگر پوچھا جائے کہ کیا انہیں ان کے کام کا جو معاوضہ دیا جاتا ہے وہ اس قدر ہے کہ جس سے وہ اپنی زندگی بہتر طور پر گزار سکیں؟ تو کسی ایک بھی شخص کا جواب ہاں میں نہیں آئے گا۔۔ جس قدر استحصال اس شعبے میں کام کرنے والے افراد کا ہوتا ہے شائد ہی کسی اور کا ہوتا ہو ۔ یہ وہ مظلوم ہوتے ہیں جو اپنے حق کے لئے آواز بھی بلند نہیں کر سکتے۔ جب سے میڈیا ہاؤ سز کو کاروباری افراد نے سنبھالا ہے اس وقت سے اس شعبے میں کام کرنے والے افراد کا مستقبل غیر محفوظ ہے۔ میڈیا مالکان اپنے جائز اور ناجائز کاروبار کی ترقی کے لئے اپنے میڈیا گروپ کے ذریعے حکومتی اداروں کو بلیک میل کر کے ناجائز کام کروائے جاتے ہیں اور ہر طرح کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ میڈیا کی دھمکی اور دھونس دے کر افسران کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ ان کے ناجائز کاموں میں مدد کریں بصورت دیگر ان کے خلاف خبروں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو جائے گا اور وہ چارو ناچار ان کے ناجائز کام کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔بات صرف یہیں تک نہیں بلکہ ان اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کسی بھی صورت ان کے عتاب سے نہیں بچتے۔ انتہائی کم اجرت پر ان کو رکھا جاتا ہے بلکہ اکثر ادارے ان کی خدمات کے عوض کوئی معاوضہ ادا نہیں کرتے۔ میڈیا ہاؤ سز میں ایسے افراد کو انٹرنی کہا جاتا ہے، جن سے کام تو پورا لیا جاتا ہے مگر نہ انہیں کوئی معاوضہ دیا جاتا ہے اور نہ ہی کوئی تجربہ کا سرٹیفیکیٹ کہ فلاں شخص ہمارے ادارے میں انٹرنی کے طور پر کام کر رہا ہے تاکہ کل کو وہ کسی عدالت کا دروازہ نہ کھٹکھٹا سکے۔حکومت بھی اس ضمن میں بے بس نظر آتی ہے۔ ان میڈیا ہاوسز کے حوالے سے نہ کبھی کسی کوجرات ہوئی کہ قانون سازی کی جائے۔ کسی بھی حادثے کی صورت میں یہ ادارے مالی معاونت نہیں کرتے ۔ یہ ادارے کچھ دن شور مچا کر ہمدردی ضرور حاصل کرتے ہیں مگر چند روز بعد اسے بھول جاتےہیں، ہر شہر میں پریس کلب اور نام نہاد صحافی تنظیمیں بھی کام کرنے والے صحافیوں کے لئے کچھ نہیں کرتیں۔ ہر سال ویج بورڈ کا اعلان کیا جاتا ہے جس میں کارکن صحافیوں کے لئے مختلف مراعات کا ذ کر کیا جاتا ہے مگر آج تک ویج بورڈ کے نکات پر مکمل عملدارآمد نہیں ہو سکا۔ صحافی آج بھی اسی تنگدستی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ کوئی بھی اداراہ مستقل بنیاد پر نوکری نہیں دیتے بلکہ تمام ملازمین کو عارضی رکھا جاتا ہے اور جس وقت چاہے نوکری سے برخاست کر دیا جاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے تمام اداروں کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ اپنے ادارے میں کام کرنے والے افراد کو معاوضہ ادا کریں گے اور دیگر مراعات بھی ساتھ دیں گے۔ مجھے تو کبھی کبھی تمام میڈیا ہاؤ س کسی بیگار کیمپ کی مانند لگتے ہیں جن میں کام تو ملازمین کی طاقت سے زیادہ لیا جاتا ہے مگر معاوضہ نہیں دیا جاتا۔

Views All Time
Views All Time
94
Views Today
Views Today
1
فیس بک کمینٹ




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*