کالملکھاری

23مارچ کا ثقافتی پاکستان!۔۔صبح صادق

بحیثیت پاکستانی ہمارے لئے قائداعظم محمد علی جناح کی شخصیت اور ان کی طرز حیات ایک خاص معنی رکھتی ہے،میں جب بھی انکی سوچ اور فکر کے عملی اظہار دیکھتاہوں تو وہ مجھے اپنی الگ ثقافتی پہچان پر بہت زور دیتے نظر آتے ہیں جنہیں علمی جامہ پہنانے کے الحمراءآرٹس کونسل جیسا عالمی سطح کا ادبی و ثقافتی فورم کوشاں ہیں۔اس ادارے کی کاوشوں کے ذکر سے پہلے یوم پاکستان کی سنہری یادیں تازہ کرتے ہیں،22مارچ 1940ءکو مسلم لیگ کا لاہورکا اجلاس ہماری تاریخ کا روشن مینار اور اہم ترین سنگ میل اس لئے ہیں کہ اس اجلاس میں مسلمان اکثریتی علاقوں پر مشتمل آزاد مملکت کا مطالبہ کیا گیا تھا جو ہندوستان کے مسلمانوں کے دل کی آواز تھا ۔قرارداد لاہوریا قرارداد پاکستان کی منظوری سے قبل اس اجلاس میں قائداعظم نے دوگھنٹوں پر محیط جامع خطاب کیا جو ان کے سیاسی تجربے اور تاریخی مطالعے کانچوڑ تھا۔اپنی تقریر میں جہاں قائداعظم نے یہ انکشاف کیا کہ انہوں نے گزشتہ چھ ماہ مسلمانوں کی تاریخ اور قانون کے مطالعے میں صرف کئے ہیں وہاں یہ بھی کہا کہ انہوں نے اپنے طور پر قرآن مجید کو بھی سمجھنے کی کوشش کی ہے۔مطلب یہ تھا کہ ان کا مطالبہ پاکستان قرآن مجید، مسلمانوں کی تاریخ اور قانون کے مطالعے کا نچوڑ ہے اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی تقریر میں مسلمانوں کی الگ شناخت ،ہند ومذہب اور کلچر سے تضادات اور مسلم قومیت پر زور دیا ۔قائداعظم کی تقریر پڑھتے ہوئے ان کا ایک فقرہ میرے دل کو چھو گیا اور مجھے یوں لگا جیسے ان کے باطن سے نکلا ہوا یہ فقرا ان کے تصور پاکستان کا بنیادی ستون تھا۔فقرہ کچھ یوں تھا” ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے عوام اپنی روحانی،ثقافتی،معاشی ،معاشرتی اور سیاسی زندگی کو اپنے آئیڈیلز کوبروئے کار لا کر زندگی گزاریں۔ظاہر ہے کہ ایک ہندواکثریتی ریاست اور ہندو غلبے میں اس مقصد کا حصول ممکن نہیں تھا۔اپنے آئیڈیلز کے مطابق کا مطلب اسلامی اصول حیات ہیں جن پر قائداعظم ہمیشہ زوردیتے رہے اور انسانی برابری،معاشی ومعاشرتی عدل،مساوات اور قانون کی حکمرانی کا سبق قوم کے ذہن نشین کراتے رہے۔اسی پس منظر میں قائداعظم نے باربار ایمان ،نظم اور اتحاد پر زوردیا اورقوم میں یہ احساس بیدار کرنے کی کوشش کی کہ اتحاد اور نظم وضبط (ڈسپلن)کے بغیر وہ اپنی منزل حاصل نہیں کرسکتے لیکن ڈسپلن اور اتحاد سے پہلے ایمان کا مقام یا درجہ ہے کیونکہ ایمان ہی سے نظم و ضبط اور اتحاد کی صبح طلاع ہوتی ہیں۔ مختصر یہ کہ قائداعظم کے نزدیک حصول پاکستان کا مقصد محض ایک ریاست کا قیام ہیں تھا بلکہ وہ ایسی ریاست کا خواب دیکھ رہے تھے جس میں مسلمان اپنی روحانی ،ثقافتی ،معاشی ،معاشرتی اور سیاسی زندگی کو بلاروک ٹوک ترقی دے سکیں ۔گویا ریاست ایسا ماحول،حالات اور مواقع پیداکر نے کی پابند تھی جس میں زندگی کے ان شعبوں کو خوب سے خوب تر ترقی دی جاسکے ۔ذرا غور کیجئے تو احساس ہوگا کہ قائداعظم کازور صرف مادی زندگی کی ترقی پر نہیں تھاا نہوں نے سب سے پہلے لفظ روحانی استعمال کیا۔ظاہر ہے کہ روحانی ترقی کا براہ راست تعلق انسانی باطن اور انسانی مذہب سے ہے اور روحانی بالیدگی اللہ سبحانہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے پر ہی چلنے سے حاصل ہو سکتی ہے۔اس راستے کے موٹے موٹے اصول روزق حلال، احترام انسانیت،حسن اخلاق،خدمت ،ایمانداری،عدل وانصاف اور خوف الہیٰ ہیں۔گویاقائداعظم کے بیان کردہ اصولوں کو عملی جامہ پہنانے کےلئے پاکستان میں اسلامی اصولوں کی بنیاد پر معاشرے کا قیام ناگزیر تھا ۔
بہرحال آزاد فضاءہم سے بیداری کا مطالبہ کرتی ہے ۔الگ ملک کا قیام ہمارے اسلاف کے غیر متزلزل عزم، بلند ہمت اور تن من کی قربانیوں کا ثمرہے جو قائداعظم کے دور اندیش اورفقید المثال قیادت میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند متحد ہے ۔ہمیں اس اتحاد کو اور مضبوط بنانا ہے۔ الحمراءآرٹس کونسل نوجوان نسل کو اپنے قائدین کی جدوجہد سے روشناس کروانے کےلئے سرگرم عمل ہے ۔یوم پاکستان پر بھی اس پلیٹ فارم پر تصویری نمائش ،ملی نغموں کے پروگرامز،ڈرامے اور سمینار کے ساتھ ساتھ محفل مشاعرہ کابھی خصوصی انعقاد کیا جا رہا ہے ۔جس میں شعراءکرام نے اپنے قائدین کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ادارہ کے سربراہ اطہرعلی خان کی زیر قیادت عوام کو الحمرا کے پلیٹ فارم پراپنے ثقافتی حسن کابہترین اظہار دیکھنے کو مل رہا ہے۔
فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker