آنگ سان سو چی سے نوبل امن انعام واپس لیا جائے:سید مجاہد علی


aang san sochi
  • 9
    Shares

میانمار اور پاکستان میں صحافیوں کی آزادی اور خبر کی بلا روک ٹوک ترسیل کے حوالے سے صورت حال عالمی سطح پر توجہ کا باعث بنی ہوئی ہے۔ گو کہ ان دونوں ملکوں کی صورت حال اور سیاسی حالات قطعی مختلف ہیں لیکن دونوں ملکوں میں جمہوری نظام رائج کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے ۔ پاکستان میں فوج کے سربراہ جمہوریت کے پروان چڑھنے کی بات کرتے ہیں تو برما کی جمہوری لیڈر آنگ سان سو چی اپنے ملک میں دو صحافیوں کو دی جانے والی قید کی سزا کو قانون کی بالادستی قرار دے کر سرخرو ہونا چاہتی ہیں۔
گزشتہ برس اگست سے میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مظالم اور نسل کشی کے شروع ہونے والے نئے سلسلہ کے باوجود اور اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی طرف سے ٹھوس شواہد سامنے لانے کے باوجود میانمار کی لیڈر اور جمہوری جد و جہد کے لئے امن کا نوبل انعام پانے والی آنگ سان سو چی نے نہ صرف روہنگیا کے خلاف فوج کے مظالم کا دفاع کیا ہے اور راکھین صوبہ میں تباہ کاری کے الزامات کو مسترد کیا ہے بلکہ اس ماہ کے شروع میں رائیٹرز نیوز ایجنسی کے دو مقامی صحافیوں کو سات برس قید کرنے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان دونوں کو ان کی صحافتی ذمہ داری پوری کرنے پر سزا نہیں ہوئی بلکہ انہیں ملک کا قانون توڑنے پر سزا دی گئی ہے۔
ویت نام میں عالمی اقتصادی کانفرنس کے دوران طویل خاموشی کے بعد اس معاملہ پر گفتگو کرتے ہوئے آنگ سان سو چی نے بار بار قانون کی حکمرانی کا ذکر کیا اور سب کے لئے قانون کو یکساں طور سے لاگو کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت یہی کام کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ لیکن مختلف عالمی اداروں ، ایجنسیوں اور تنظیموں کی طرف سے سامنے آنے والے حقائق نوبل انعام پانے اور عالمی سطح پر احترام رکھنے والی اس لیڈر کے اصولوں اور انسان و جمہور دوستی کی قلعی کھلتے ہیں۔ ان حالات میں ناروے کی نوبل امن کمیٹی کو اپنے قواعد پر نظر ثانی کرتے ہوئے آنگ سان سو چی کو دیا گیا امن انعام واپس لینا چاہئے کیوں کہ یہ واحد اقدام ہے جو الفریڈ نوبل کی عالمی امن کی خواہش کا پرتو ہو سکتا ہے۔ جن حالات میں اور جن بنیادوں پر آنگ سان سو چی کو 1991 میں امن انعام کا مستحق قرار دیاگیاتھا وہ یکسر تبدیل ہو چکے ہیں۔ میانمار کی فوجی حکومت کے خلاف عوامی حق انتخاب کی بات کرنے پر دس برس تک نظر بندی کاٹنے والی سو چی اب اسی فوج کے مظالم کی وکالت کررہی ہے اور 73 برس کی عمر میں زندگی بھر میں کمائی ہوئی نیک نامی کو بٹہ لگانے کا سبب بنی ہوئی ہے۔
آنگ سان سو چی نے آج اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ میانمار میں حالات کی صرف ایک رخی تصویر پیش کی جاتی ہے لیکن حالات کا متوازن طریقے سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی حکومت کی ناکامیوں پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے اعتراف کیاکہ روہنگیا کے ساتھ ہونے والے سلوک کو مختلف اور بہتر طریقے سے نمٹنے کی ضرورت تھی۔ لیکن وہ جس ڈھٹائی سے حقیقت سے فرار حاصل کرتی ہیں اور ظلم، انسانیت کے خلاف جرائم اور قانون شکنی کو قانون کی بالادستی کا نام دینے کی کوشش کرتی ہیں، اس سے یہی واضح ہوتا ہے کہ وہ اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے اور ملک کی بدھ اکثریت کی حمایت حاصل کرنے کے لئے انسانی اصولوں ، عالمی ضابطوں اور احتجاج کو خاطر میں نہ لانے کا قصد کئے ہوئے ہیں۔ رائٹرز کے دو صحافیوں وا لون اور کیا سو او کو 2 ستمبر کو سرکاری راز افشا کرنے کے جرم میں سات سات برس قید کی سزا دی گئی ہے۔ عالمی ادارے اسے صحافت پر حملہ اور معلومات کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے کا سبب قرار دے رہے ہیں لیکن سوچی کا کہنا ہے کہ اس سزا سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ میانمار میں قانون سب کے لئے برابر ہے۔ کوئی اس کی دسترس سے بالا نہیں ہے۔ لیکن ملک کے وہ سارے جرنیل جن کے نام گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی ایک خصوصی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں انسان دشمنوں کے طور پر شامل کئے گئے تھے، اب بھی برما کی لیڈر کے نزدیک قوم پرست اور قانون کے رکھوالے ہیں۔
اس مقدمہ میں سزا پانے والے رائیٹرز کے دونوں صحافیوں کو ایک ریستوران میں پولیس نے کچھ دستاویزات فراہم کی تھیں ، اس کے ساتھ ہی انہیں سیکورٹی فورسز نے سیکورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کرلیا اور اب انہیں مجرم قرار دیا گیا ہے ۔ یہ دونوں صحافی روہنگیا مسلمانوں کو قتل کرنے والے ایک واقعہ کی تحقیقات کررہے تھے اور ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے انہیں معلومات فراہم کرنے کے نام پر کچھ دستاویزات دے کر گرفتاری کا بہانہ فراہم کیا تھا۔ پولیس کے ایک گواہ نے عدالت میں اس مؤقف کی تائد بھی کردی تھی۔ اس کے علاوہ اس واقعہ پر جب سیکورٹی فورسز نے خود تحقیقات کیں تو انہیں تسلیم کرنا پڑا کہ اس وقعہ میں 10 روہنگیا مسلمان قتل کئے گئے تھے اور اس میں سات فوجی ملوث تھے۔ لیکن عدالت نے ان شواہد کو خاطر میں لانے اور حقائق جاننے کی کوشش کئے بغیر عالمی نیوز ایجنسی سے وابستہ ددونوں صحافیوں کو طویل قید کی سزا سنا دی۔ اب آنگ سان سو چی اسے قانون کی بالادستی اور سب کے لئے یکساں سلوک جیسے خوبصورت نام دے کر خود اپنے مکروہ چہرے سے پردہ اٹھا رہی ہیں۔ صوبہ راکھین میں قتل و غارت گری اور انسانیت کے خلاف جرائم کے دستاویزی شواہد سامنے آنے کے باوجود برما کی حکومت عالمی ایجنسیوں اور صحافیوں کو ان علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دیتی۔ شدید عالمی دباؤ کے بعد صحافیوں کے بعض گروہوں کو فوج کی نگرانی میں متاثرہ علاقوں کا دورہ کروایا گیا لیکن نہ تو انہیں اپنی مرضی سے تباہ کئے گئے دیہات کا دورہ کرنے کی اجازت دی گئی اور نہ ہی ہراساں کئے جانے والے اور مظالم کا شکار ہونے والے روہنگیا مسلمانوں سے ملاقات کا موقع دیا گیا۔ اس کے باوجود ان دوروں میں شامل اکثرصحافیوں نے تباہی اور سیکورٹی فورسز کے انسانیت سوز طرز عمل کو محسوس کیا اور اس کا ذکر بھی کیا ہے۔ ان علاقوں سے فرار ہو کر بنگلہ دیش میں پناہ لینے والے سات لاکھ کے لگ بھگ روہنگیا پناہ گزین ظلم و استبداد کی اندوہناک کہانیاں سناتے ہیں۔
ہیومن رائیٹس واچ ایشیا کے ڈپٹی ڈائریکٹر فل رابرٹسن نے آنگ سان سو چی حکومتی پالیسی کا دفاع کرنے اور قانون کی بالادستی کے دعویٰ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میانمار کی لیڈر قانون اور انصاف کا مفہوم سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتی ہیں۔ قانون و انصاف کا تقاضہ ہے کہ عدالتیں خود مختار ہوں۔ جج شواہد پر غیر جانبداری سے غور کرنے کا اختیار رکھتا ہو اور ملزموں کو واضح قوانین کے تحت سزا کا مستحق قرار دیا جائے۔ رائیٹرز کے دو صحافیوں کے خلاف فیصلہ میں ان میں سے کسی بات کا خیال نہیں رکھا گیا۔ اس صورت حال میں آنگ سان سو چی کا اس فیصلہ کو قانون کی بالا دستی قرار دینا عالمی رائے کو گمراہ کرنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔
برما میں روہنگیا کے خلاف نفرت اور تعصب عام ہے۔ صدیوں سے اس ملک میں آباد ایک ملین کے لگ بھگ اس معمولی اقلیت کو بنگالی قرار دے کر برما کی شہریت اور بنیادی انسانی حقوق دینے سے انکار کرنے کے علاوہ ان کی نسل کشی کی باقاعدہ مہم چلائی جارہی ہے، جس کا ثبوت اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ میں فراہم کردیا گیا ہے۔ برما کی حکومت اس عالمی مذمت کے باوجود اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں ہے کیوں کہ مسلمان ملک ہوں یا عالمی طاقتیں وہ اپنے علاقائی اور اقتصادی مفادات کے لئے ینگون کے ساتھ تعلقات خراب کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ اس طرح جیسے زبانی طور سے میانمار کے مظالم کی مذمت کی جاتی ہے اسی طرح آنگ سان سوچی نے تقریر کے ذریعے انہیں مسترد کرکے سرخرو ہونے کی کوشش کی ہے۔ لیکن دس لاکھ کے لگ بھگ روہنگیا مسلمان بے وطن ہونے کے علاوہ لاچاری، مایوسی اور استحصال کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔
صحافت اور خبر کی ترسیل میں رکاوٹ کا معاملہ صرف میانمار تک محدود نہیں ہے جو بظاہر 2015 میں آنگ سان سوچی کو اقتدار میں حصہ دار بنا کر جمہوریت کے سفر پر روانہ ہو چکا ہے۔ پاکستان میں بھی اسی طرح 2008 سے جمہوریت کے ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔ دو جمہوری حکومتیں اپنی مدت پوری کرچکی ہیں اور اب تیسری حکومت برسر اقتدار ہے لیکن جمہوریت کی دہائی پوری ہونے کے باوجود پاکستان میں بھی صحافی و صحافت اور خبر و غیر جانبدار رائے نشانے پر ہے۔ مدیروں اور مالکان کو ڈرا دھمکا کر یا تحریص و ترغیب کے ذریعے خبروں کو روکنے، من پسند خبریں عام کرنے اور جمہوریت پر وار کرنے کے طریقہ کار پر زبان کھولنے کو جرم کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ اس صورت حال کی دستایزی شہادت اب صحافیوں کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس ( سی پی جے ) فراہم کی ہے۔ اس تنظیم نے اس سال فروری میں اپنے نمائیندوں کے ذریعے پاکستان کے پانچ شہروں میں ورکنگ صحافیوں سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد تیار ہونے والی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اگرچہ 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گرد حملہ کے بعد صحافیوں کے خلاف تشدد میں قدرے کمی واقع ہوئی ہے لیکن خبر فراہم کرنے کی آزادی محدود ہو چکی ہے۔ صحافی یہ شکوہ کرتے ہیں کہ وہ آزادی سے کام نہیں کرسکتے۔ اس خصوصی رپورٹ کے مطابق پاکستانی فوج کی جانب سے خاموشی سے لیکن مؤثر انداز میں رپورٹنگ کرنے پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ کبھی مختلف علاقوں تک رسائی حاصل کرنے سے منع کیا جاتا ہے تو کہیں پر سیلف سنسرشپ کرنے کے لیے براہ راست یا بالواسطہ طریقے سے کہا جاتا ہے۔ اس کے لیے کبھی مدیروں کو فون کر کے شکایت کی جاتی ہے اور کبھی مبینہ طور پر ان کے خلاف تشدد کرنے کے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی یہ رپورٹ ملک میں نو منتخب حکومت کے لئے بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔ عوام کی براہ راست تائد کی بنا پر برسر اقتدار آنے والی تحریک انصاف کی حکومت ابھی تک صحافیوں اور صحافت کے خلاف چند مخصوص سرکاری اداروں کی طرف سے ہراساں کرنے کی شکایات کے خلاف نہ تو کوئی بیان جاری کرسکی ہے اور نہ ہی صورت حال کو تبدیل کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ صحافیوں کی عالمی تنظیم کے الزامات پر مبنی رپورٹ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور ملک کے چیف جسٹس ثاقب نثار کے دعوؤں کو بھی مسترد کرتی ہے جنہوں نے بالترتیب ملک میں جمہوریت کے پروان چڑھنے اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنانے کی یقین دہانی کروائی ہوئی ہے۔ یہ واضح ہونا چاہئے کہ خبر کی بلاخوف ترسیل اور رائے کی مکمل آزادی کے بغیر جمہوریت اور قانون کی بالادستی کی کہانیاں محض لفظوں کا گورکھ دھندہ بن کر رہ جاتی ہیں۔
(بشکریہ: ہم سب)

Views All Time
Views All Time
70
Views Today
Views Today
3
فیس بک کمینٹ




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*