پاکستان جہاں صحافت پابند اور عدالت آزاد ہے۔۔سید مجاہد علی


press freedom girdopesh.com
  • 13
    Shares

پاکستان کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری اس قدر معصوم اور بھولے ہیں کہ انہیں ملک بھر میں صحافیوں اور سول سوسائیٹی والوں کے آزادی اظہار کے خلاف احتجاج کا کوئی جواز ہی سمجھ میں نہیں آتا۔ ایک طرف ملک بھر کے صحافی کل ملک کے تمام بڑے شہروں میں انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں ، وکیلوں اور سول سوسائیٹی کے ساتھ مل کر سنسر شپ اور صحافیوں کی زبان بندی کے علاوہ معاشی طور پر ان کا گلا گھونٹنے کے اقدامات کے خلاف احتجاج کررہے تھے لیکن فواد چوہدری بی بی سی سے بات کرتے ہوئے واضح کررہے تھے کہ ملک میں اظہار پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے۔ ملک کی کسی صحافی تنظیم نے ان سے اس سلسلہ میں کوئی شکایت نہیں کی ہے۔ اگر کسی کو کوئی مسئلہ ہے تو وہ مجھ سے رجوع کرے۔
یہ باتیں اس حکمران پارٹی کا وفاقی وزیر اطلاعات کررہا ہے جو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فیک نیوز مہم جوئی کے طرز پر پاکستانی میڈیا میں اپنی پارٹی کی پالیسی ، حکومت کے طریقہ کار اور قیادت کی کج روی کے خلاف ہر رپورٹ اور تبصرے کو ملکی مفاد اور قومی ترقی کے مقصد کے خلاف قرار دیتی ہے۔ حکومت میں ہونے کی وجہ سے اب تحریک انصاف کا سوشل میڈیانیٹ ورک بے بنیاد پروپیگنڈا کے زور پر مخالفین کے منہ بند کرنے میں مشکلات کا سامنا کررہا ہے کیوں کہ حکومت کی کارکردگی اور فیصلے کرنے میں ہچکچاہٹ کی وجہ سے متعدد قومی مسائل سر اٹھانے لگے ہیں۔ حکومت کے بیشتر فیصلے قبل از انتخاب اعلانات سے متصادم ہیں جن میں اب سر فہرست آئی ایم ایف سے قرض لینے کا معاملہ بھی ہے ۔ یاوش بخیر عمران خان 2014 میں دھرنے کے دوران قرض لینے کو قومی غیرت کے خلاف قرار دے کر مسلم لیگ (ن) کے خلاف مہم جوئی کیا کرتے تھے اور ان کا دعویٰ تھا کہ اقتدار میں آکر انہیں بیرون ملک سے قرض لینا پڑا تو وہ خود کشی کرلیں گے۔ ملک میں مدینہ جیسی ریاست کا خواب دکھانے ولا لیڈر نہ جانے کون سی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں قرض لینے کی نوبت آنے پر خود کشی کرنے کو جائز قرار دیتا ۔ شاید اسی الجھن کی وجہ سے بالآخر عالمی مالیاتی فنڈ سے قرض مانگنے کا ہی فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
آزادی اظہار پر عائد قدغن اور رکاوٹوں کے خلاف لاہور میں ہونے والے مظاہرے میں شرکت کے لئے فواد چوہدری کی پارٹی کی صوبائی حکومت میں وزارت اطلاعات کے نگران فیاض الحسن چوہان نے بنفس نفیس صحافیوں کے احتجاج میں شرکت کی ۔ اور اعلان کیا کہ جو میڈیا ادارے دو ماہ تک کارکنوں کو تنخواہ ادا نہیں کریں گے ، ان کے اشتہارات بند کردئیے جائیں گے۔ اس طرح تحریک انصاف کے پنجاب میں وزیر اطلاعات کم از کم وفاقی وزیر اطلاعات سے زیادہ ’باخبر ‘ ہونے کا دعویٰ کرسکتے ہیں لیکن وفاق میں اپنے ہم منصب کی طرح وہ بھی آزادی اظہار کے بارے میں یہ بنیادی جمہوری اصول سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں کہ حکومتوں کے وسائل سیاسی ہتھکنڈے اور دباؤ ڈالنے کے لئے استعمال نہیں کئے جاسکتے۔ حکومتیں سرکاری اشتہارات کی صورت میں ان وسائل کو اپنی مرضی کے مطابق بانٹ کر آزادی اظہار یا جمہوریت کی کوئی خدمت سرانجام نہیں دے سکتیں۔ ایک جمہوری انتظام میں عوام کے حق حکمرانی پر یقین رکھنے والی کوئی پارٹی یا حکومت اشتہارات کو سیاسی ایجنڈے کے طور پر استعمال کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی لیکن پنجاب کے صوبائی وزیر اطلاعات اس بارے میں اپنے عزائم کا برملا اظہار کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے۔ پھر بھی انہوں نے کم از کم صحافیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کی کوشش تو کی ہے جبکہ فواد چوہدری جو کل تک خود کو صحافی اور اینکر کہلوا کر فخر کرتے تھے اب سیکریٹریٹ میں اپنے دفتر میں بیٹھ کر صحافیوں کی طرف سے اس درخواست کا انتظار کررہے ہیں کہ انہیں سنسر شپ سے نجات دلائی جائے۔
بے خبر وزیر اطلاعات کو پنجاب میں اپنے ہم منصب سے رابطہ کرکے پوچھ لینا چاہئے کہ جب انہوں نے لاہور میں صحافیوں کو یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ ملک میں کوئی سنسر شپ نہیں ہے تو صحافیوں کی طرف سے انہیں کیا جواب دیا گیا تھا۔ اس طرح شاید فواد چوہدری کی یہ حیرت دور ہوجائے کہ ان کی کوشش کے باوجود انہیں کسی طرف سے ملک کی ٹیلی ویژن نشریات اور اخبارات پر عائد پابندیوں کے بارے میں کوئی شکایت وصول نہیں ہوئی۔ اگر پھر بھی انہیں صورت حال سے پوری طرح آگاہی نہ ہو تو انہیں روزنامہ جنگ میں ممتاز صحافی مظہر عباس اور بی بی سی اردو پر شاہزیب جیلانی کے مضامین کا مطالعہ کرلینا چاہئے۔ ان مضامین میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ اب کس طرح صحافیوں اور میڈیا مالکان کو آزادی اظہار کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ یا آزادی ، خودمختاری اور خبر و تبصرہ کی حرمت سے تائب ہونےکی صورت میں کیسا انعام میسر آسکتا ہے۔
حکومت جب سرکاری اشتہاروں کو میڈیا کو دبانے اور مرضی کی خبریں شائع کرنے پر مجبور کرنے کے لئے استعمال کرے گی تو اسے ہی ملک میں آزادی صحافت پر پہلا اور سب سے مہلک حملہ تصور کیا جائے گا۔ پاکستان میں جمہوری اور غیر جمہوری حکومتوں نے یکساں تندہی سے سرکاری اشتہارات اور اختیارات کو میڈیا سے من پسند رپورٹنگ اور تبصرے کروانے کے لئے استعمال کیا ہے۔ لیکن یہ طریقہ گزشتہ دو برس سے جو قبیح صورت اختیار کرچکا ہے ، اس کی مثال ملک کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اب برملا کہا جارہا ہے کہ صحافی کو مارنے کی دھمکی دینے کی بجائے اس کا پیٹ کاٹنے اور اسے معاشی سہولت فراہم کرنے والے وسائل بند کرنے کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے حبس اور خوف کی فضا پیدا کی گئی ہے۔ بد قسمتی سے ملک کے عسکری اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اس صورت حال کو پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہیے۔
سنسر شپ یا سیلف سینسر شپ کا یہ طریقہ انتخابات سے بہت پہلے اور نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے خلاف منصوبہ بندی کرتے ہوئے ہی اختیار کرلیا گیا تھا۔ کنٹونمنٹ کے علاقوں میں ناپسندیدہ اخبارات کی ترسیل اور ٹیلی ویژن نشریات کو روکنے کا مؤثر طریقے سے اہتمام کیا گیا۔ گو کہ دوسرے علاقوں میں بھی اس قسم کی سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں ۔ خاص طور سے کیبل آپریٹرز پر دباؤ ڈال کر معتوب ٹیلی ویژن چینلز کی نشریات کو مخصوص فری کیونسی کی بجائے تبدیل کرنے کے عمل سے متعلقہ اداروں کو مالی دیوالیہ کرنے کا کام لیا گیا۔ ان ہتھکنڈوں کی وجہ سے بڑے بڑے میڈیا گروپس کے مالکان کو خاص طرح کی خبروں ، تبصروں اور رپورٹوں میں خاص ترکیبوں سے گریز کرنے یا بعض الفاظ اور اصطلاحات کے استعمال سے بچنے اور چند موضوعات کو ممنوعہ سمجھنے پر مجبور کیا گیا۔ اسی دباؤ کی وجہ سے میڈیا مالکان نے اپنے نیوز رومز اور اینکرز کو ایک خاص ڈھب سے خبریں دینے اور تبصرے کرنے کا پابند کیا اور تساہل کرنے والوں کے کالم چھاپنے یا پروگرام نشر کرنے سے انکار کیا گیا۔ ملک میں صحافیوں کی کوئی ایسی طاقتور تنظیم موجود نہیں ہے جو مالکان کے ذریعے صحافیوں کی آواز دبانے کے ان طریقوں کو مسترد کرنے کے لئے میدان میں آسکے۔ پاکستان کے صحافیوں نے بر س ہا برس سے میڈیا ہاؤسز کی اس علت کو قبول کیا ہے کہ ادارے کا مالک ہی اس کا ایڈیٹر بھی ہوتا ہے۔ ملک کے صحافی اس موضوع پر کبھی بحث کو آگے نہیں بڑھا سکے کہ میڈیا ہاؤس مالکان کے مفادات مالی ہوتے ہیں جبکہ صحافیوں کی ترجیح درست اور بلاتعصب خبر کی ترسیل ہوتی ہے۔
ملکی صحافت کو ایک خاص نظریہ اور طریقہ کا پابند کرنے میں یہ بنیادی اصول متعین کیا گیا ہے کہ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا سیاست دانوں پو کیچڑ اچھالنے اور ان کی بدعنوانی کے قصے ہر طرح کی مبالغہ آمیزی اور تحقیقاتی جستجو کے بغیر شائع یا نشر کرسکتے ہیں۔ لیکن ملک میں شہری آزادیوںو انصاف کی فراہمی اور قومی معاملات و معیشت پر دسترس رکھنے والے عسکری اداروں کی کارکردگی اور طریقہ کار پر بات کرنے کا حق نہیں رکھتے۔ متعدد صحافی اور میڈیا ہاؤسز اس آزادی کو ہی نعمت غیر مترقبہ سمجھنے لگے ہیں کہ اس طرح انہیں ٹی وی شوز پر تماشہ لگانے اور لوگوں کے جذبات کو انگیختہ کرنے کا کوئی موقع تو میسر آتا ہے۔ فواد چوہدری اور ملک کی حکومت کا بھی یہی مقصد ہے اسی لئے انہیں سنسر شپ کی حقیقت اور میڈیا کی کسمپرسی کا اندازہ نہیں ہوتا۔
پاکستان ایک ایسا عجائب نگر بن چکا ہے جہاں آزادی اظہار متعین اشاریوں اور دائروں کے اندر کام کرنے کو قرار دیا گیا ہے۔ اس مزاج کے تحت ملک میں صحافت پابند اور صحافی مجبور ہو چکا ہے۔ ملک کے نوجوان صحافیوں کی ایک پوری نسل کو فکری اور معاشی طور پر قلاش کرنے کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ اس کے باوجود ملک میں جمہوریت کا نعرہ بلند ہے۔ منتخب حکومت کام کررہی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عدالتیں آزاد ہیں۔ یہ آزادی اس قدر مطلق ہے اگر طلال چوہدری توہین عدالت کے ایک فیصلہ کے خلاف اپیل کرنے کا آئینی اور قانونی حق استعمال کرے تو اسے چیف جسٹس سے جلی کٹی سننا پڑتی ہیں اور ان سے بار بار یہ سوال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل کرنے کی جرات کیسے کی۔ کیوں نہ اس کی سزا میں اضافہ کردیا جائے۔ یہی عدالت عظمی اور اس کے بااختیار چیف جسٹس پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کا جھوٹ پکڑنے اور ان کے خلاف شق 62(1) ایف کے استعمال کی دھمکیاں اور وارننگ دینے کے بعد اچانک صرف یہ کہہ کر معاملہ نمٹا دیتے ہیں کہ ’دیکھو دوبارہ ایسی غلطی نہ ہو‘۔ اس رویہ پر کون کہے کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ توہین عدالت کی تلوار اور خشمگیں چیف جسٹس کا کون سامنا کرے۔
یہ سچ اب کسی کے پیش نظر نہیں ہے کہ اس محیر العقل ریاست مملکت خداد داد میں جس چیز کو آزادی اور قانون کی حکمرانی کہا جارہا ہے وہ محض سراب ہے۔ عدالتیں ہوں یا پارلیمنٹ، صحافی اور صحافت کو پابند اور مجروح کر کے کسی بھی آزادی کا تصور محال ہے۔
(بشکریہ: ہم سب)

فیس بک کمینٹ
image_print




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*