سید مجاہد علیکالملکھاری

انتہاپسندی کے نام پر آزادی رائے کا گلا نہ گھونٹا جائے۔۔ سید مجاہد علی

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے مین اسٹریم میڈیا کو کنٹرول کر لینے کے بعد سوشل میڈیا کی نگرانی کرنے اور اس میڈیم پر ’انتہا پسندانہ‘ خیالات کا اظہار کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ حکومت کے ترجمان کی طرف سے یہ بات ایک ایسے وقت کہی جارہی ہے جبکہ ملک میں آزادی رائے کے حوالے سے شدید شبہات موجود ہیں اور میڈیا پر پابندیوں کے سبب خبروں کی ترسیل اور آزادانہ رائے کے اظہار پر قدغن عائد ہے۔ تحریک انصاف جمہوری طریقہ کار کے ذریعے حکومت میں آئی ہے لیکن اس کی طرف سے آزاد معاشرہ کی بنیادی علامت اور ریاست کا چوتھا ستون سمجھے جانے والے شعبہ یعنی میڈیا کو مسلسل عتاب کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
یہ پارٹی سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے بھی شہرت رکھتی ہے۔ اس نے بڑی حد تک سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے عام لوگوں تک اپنا پیغام پہنچانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ لیکن برسر اقتدار آنے کے بعد سے اس نے ایسے مباحث کا آغاز کیا ہے جس سے آزادانہ اظہار اور بنیادی جمہوری اقدار کو اندیشے لاحق ہوئے ہیں۔
سب سے پہلے تو حکومتی نمائیندوں کی طرف سے میڈیا کو دیے جانے والے اشتہارات اور وسائل کے بارے میں دھمکی آمیز بیانات سے اس تاثر کو تقویت ملی ہے کہ پاکستانی میڈیا کو جو آزادی اور خود مختاری حاصل ہے، حکومت اس سے خوش نہیں ہے اور ایسے اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جن کے تحت میڈیا صرف وہی کہہ، لکھ اور دکھا سکے جو ارباب بست و کشاد کو منظور ہے۔ ملک کے ٹیلی ویژن اسٹیشن اور اخبارات کے ادارتی صفحات اس بات کا جیتا جاتا ثبوت پیش کررہے ہیں کہ اب صرف وہ خبر فراہم کی جاسکتی ہے جو مزاج نازک پر گراں نہ گزرے اور صرف وہی موضوع زیر بحث آسکتا ہے جس سے حکمران طبقے کی سیاسی ضرورتیں پوری ہوں۔ عوام میں اہم قومی مسائل کے بارے میں آگہی اس حکمت عملی کا مقصد نہیں ہے۔
اگرچہ میڈیا کو کنٹرول کرنے کا یہ سلسلہ گزشتہ حکومت کے آخری سال کے دوران شروع ہو چکا تھا اور بعض نامعلوم ادارے اخبارات کی ترسیل اور ٹیلی ویژن پروگراموں کی براڈ کاسٹنگ کو کنٹرول کرنے لگے تھے۔ جولائی 2018 کے انتخابات کے لئے جو عبوری حکوتیں قائم کی گئی تھیں، ان کے ادوار میں بھی یہ سلسلہ پورے زور شور سے جاری رہا۔ تاہم ان میں سے کسی بھی حکومت نے میڈیا پر پابندی کی اس پالیسی کی اونر شپ لینے کا حوصلہ نہیں کیا تھا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے برسر اقتدار آتے ہی یہ اعلان کیا کہ وہ میڈیا کو پوری طرح کنٹرول کرنا قومی مفاد کے عین مطابق سمجھتی ہے۔
اس طرح جو پالیسی ڈھکے چھپے انداز میں نافذ کی گئی تھی اور جسے عام طور سے ’سیلف سنسر شپ‘ کا نام دیا گیا تھا، وہ اب حکومت کی طے شدہ پالیسی بن چکی ہے۔ میڈیا پر اپنی مرضی نافذ کرنے کے لئے کبھی سرکاری اشتہارات کو بند کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ حکومت کے وسائل اب اشتہارات دینے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ اور یہ کہ میڈیا کو اب خود مختار ہونے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی متعدد نئے میڈیا گروپ میدان میں لا کر پہلے سے موجود اخبارات اور ٹیلی ویژن نشریات پر دباؤ بڑھانے اور انہیں حکومت کی مرضی کے مطابق آزادی رائے کی ترمیم شدہ شکل قبول کرنے پر مجبور اور آمادہ کیا جارہا ہے۔
’سیلف سنسر شپ‘ دراصل سرکاری خواہشوں کی تکمیل کے لئے خبر کی آزادانہ ترسیل پر قدغن اور خودمختارانہ رائے کو روکنے کے طریقہ کا مہذب اور جدید نام ہے۔ اس طرح میڈیا مالکان کے ذریعے نیوز ایڈیٹروں اور ادارتی صفحات کے نگرانوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ کوئی ایسی خبر یا مضمون اشاعت پذیر نہ ہونے دیں جو حکومت کی طے شدہ پالیسی کے مطابق نہ ہو۔
موجودہ جمہوری حکومت کی طرف سے اس غیر جمہوری طریقہ کو جائز اور سرکاری قرار دینے سے پہلے عام طور سے یہ سمجھا جاتا تھا کہ ایجنسیاں اور مختلف ریاستی ادارے میڈیا دشمن ہتھکنڈوں کے ذریعے صحافیوں اور تبصرہ نگاروں کی آزادی اور کام کرنے کے حق کو محدود کرتے ہیں۔ اس طریقہ کار کا ذکر حال ہی میں فیض آباد دھرنے کے بارے سپریم کورٹ کے جامع فیصلہ میں بھی کیا گیا ہے کہ کس طرح نامعلوم قوتوں نے بعض میڈیا کو عاجز کرنے کے لئے اقداماتکیے تھے اور میڈیا کو کنٹرول کرنے یا ان کی آزادی کو یقینی بنانے کے ذمہ دار ادارے مثلاً پیمرا اس حوالے سے بے بس تماشائی کا کردار ادا کرنے پر مجبور ہوچکا تھا۔
اب حکومت میڈیا کو کنٹرول کرنے اور اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے کا پابند کرنے کو سرکاری پالیسی بتاتی ہے اور آج وزیر اطلاعات نے اپنی تقریر میں بڑے فخر سے یہ اعلان کیا ہے کہ حکومت باقاعدہ میڈیا کو بڑی حد تک ’اپنی حدود‘ میں رکھنے میں کامیاب ہو گئی ہے تاہم اب سوشل میڈیا پر سرگرم عناصر کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔
فواد چوہدری نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر انتہاپسندانہ خیالات کا اظہار کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی شروع بھی کردی گئی ہے۔ تاہم اس کام کو منظم کرنے کے لئے اب حکومت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے اور دیگر سیکورٹی اداروں پر مشتمل ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا ہے جو اس کام کو آگے بڑھائے گا۔ وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ ’ہم نے سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مفاد کی ترسیل کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک جامع طریقہ کار وضع کرلیا ہے جو ہر قسم کے پلیٹ فارم کی نگرانی کرے گا۔ ہم کسی بھی قسم کی نفرت انگیز تقریر کی اجازت نہیں دیں گے۔ اور انتہا پسندانہ نظریات کا اظہار کرنے والے تمام عناصر کے خلاف یکساں طور سے سخت اقدام کیا جائے گا‘ ۔
نفرت اور انتہا پسندی کے خلاف ہر قسم کی سرکاری حکمت عملی کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی واضح ہونی چاہیے کہ ان اصطلاحات کو استعمال کرتے ہوئے اگر ایک جمہوری معاشرہ میں رائے کے اظہار پر پابندیاں عائد کی جائیں گی تو اس سے شدت پسندی اور نفرت میں ہی اضافہ ہوگا۔ وزیر اطلاعات نے تسلیم کیا ہے کہ فتویٰ بازی اور دوسروں کو اپنی رائے کے اظہار سے روکنے کا کوئی قدم، جمہوریت یا آزادی رائے نہیں ہو سکتا۔
یہ اصول حکومت پر بھی اسی طرح منطبق ہوتا ہے جیسے عام شہریوں، سوشل میڈیا پر رائے کا اظہار کرنے والوں یا میڈیا ہاؤسز کو اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ معاشرہ میں صحت مند مباحث کی حوصلہ افزائی ہو اور اختلاف رائے کو برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا ہو۔ حکومت اگر معاشرتی مکالمہ کو کنٹرول کرنے کی بات کرے گی اور من پسند رائے سے اختلاف کرنے والوں کو انتہا پسند قرار دے کر ان کا گلا گھونٹنے کا اقدام کرے گی تو اسے نہ تو جمہوری رویہ کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کا حکومت یا ملک کو ئی فائدہ ہوگا۔ البتہ اس اقدام سے پاکستان میں اختلاف کرنے کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ یہ طریقہ جمہوری نظام کے استحکام اور متوازن رائے کے اظہار کے لئے تشویش ناک ثابت ہوگا۔
معاشرہ میں صحت مند ڈائیلاگ کے لئے عوام میں شعور اور تعلیم عام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لئے پابندیوں کا کلہاڑا چلانے کی بجائے، ان لوگوں کو بھی مکالمہ کا حصہ بننے کا موقع دینے کی ضرورت ہوتی ہے جو کسی نہ کسی وجہ سے اپنی بات کہنے سے گریز کرتے ہیں یا ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ وزیر اطلاعات اس مقصد کے لئے جو اقدامات تجویز کررہے ہیں، ان سے سنسر شپ کا گمان ہوتا ہے اور لگتا ہے کہ حکومت دراصل مکالمہ اور اختلاف رائے کو قبول کرنے سے انکار کررہی ہے۔
میڈیا کو ذمہ دار بنانے یا لوگوں کو بات کا کہنے کا سلیقہ سکھانے کے لئے انہیں ابلاغ کے زیادہ ذرائع فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جدید عہد میں سوشل میڈیا نے یہ ضرورت کسی حد تک پوری کی ہے۔ دنیا کے اکثر جمہوری ممالک میں ان مباحث کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور ناپسندیدہ عناصر کو دلیل اور حجت کے ذریعے مسترد کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
فواد چوہدری کی طرف سے میڈیا کنٹرول کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر متحرک لوگوں کے خلاف سخت اقدام کرنے کے اعلان پر دو وجہ سے خاص طور سے تشویش پیدا ہورہی ہے۔ ایک تو یہ کہ حکومت بدستور ’پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی‘ بنانے پر اصرار کررہی ہے۔ ملک کے صحافیوں اور میڈیا مالکان کی طرف سے اس تجویز کی مخالفت سامنے آچکی ہے۔ ہمہ قسم میڈیا کو ایک ادارے کے ذریعے کنٹرول کرنے سے باہمی افہام و تفہیم کی بنیاد پر اصول وضع کرنے کا طریقہ نظر انداز کیا جائے گا۔ حکومت اپنے رویہ سے یہ واضح کررہی ہے کہ وہ میڈیا پر دھونس اور طاقت کے ذریعے اپنی مرضی تھوپنا چاہتی ہے۔ وہ حدود کے تعین اور اخلاقی ذمہ داری قبول کرنے کے لئے مل جل کر کوئی حکمت عملی بنانے پر یقین نہیں رکھتی۔
میڈیا اور آزادی رائے کے بارے میں حکومت کی نیت پر شبہ کی دوسری وجہ فواد چوہدری نے میڈیا کنٹرول کی باتیں کرتے ہوئے یہ کہہ کر خود ہی فراہم کردی ہے کہ ’ہم قومی اور عالمی سطح پر انتہا پسندی کے خلاف بیانیہ استوار کرنا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا ویژن 2030 اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ جو اب پاکستان کے دورہ پر بھی تشریف لارہے ہیں‘ ۔
سعودی عرب کو مکالمہ کے فروغ کی مثال کے طور پر پیش کرنے اور شہزادہ محمد بن سلمان کے بیانیہ کو انتہا پسندی کے خلاف علامت قرار دینے سے یا تو حکومت کی انتہائی سادہ لوحی عیاں ہوتی ہے یا وہ پاکستانی عوام کو بتا رہے ہیں کہ عمران خان کی حکومت اظہار خیال کے خلاف کس قسم کا آمرانہ طرز عمل اختیار کرنا ضروری سمجھتی ہے۔
جمہوریت، بنیادی آزادی اور انسانی حقوق کے احترام کا تقاضا ہے کہ وزیر اطلاعات کے اس مؤقف کو مسترد کیا جائے۔ کسی حکومت کو آزاد رائے کا گلا گھونٹنے کے لئے انتہا پسندی کو نعرہ بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker