تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

مسعود اظہر نہیں تو کیا پاکستان عالمی دہشت گرد ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی

پاکستان نے بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی ہے۔ بھارت کی بھرپور کوشش اور خواہش کے باوجود سلامتی کونسل کی کمیٹی میں جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل نہیں جا سکا۔ چین نے بھارت و امریکہ کے دباؤ اور اس اعلان کے باوجود کہ وہ پاکستان اور بھارت کے تنازعہ میں فریق نہیں ہے، مسعود اظہر کے معاملہ میں بھارت کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ سلامتی کونسل کمیٹی کو اپنے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے چین نے واضح کیا ہے کہ ایک تو اسے اس معاملہ پر شواہد کا جائزہ لینے کے لئے وقت درکار ہے اور وہ عجلت میں ایسا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ چین نے تاہم یہ دلیل بھی دی ہے کہ اس معاملہ میں متعلقہ فریقین کو باہمی مذاکرات کے ذریعے کسی نتیجہ پر پہنچنا چاہئے۔ اس طرح بھارت کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اس کی پاکستان سے مذاکرات نہ کرنے کی پالیسی قابل قبول نہیں ہے۔ اس حوالے سے البتہ چینی بیان کا وہ حصہ اہم ترین ہے جس میں اس نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے سے پہلے کشمیر کے تنازعہ پر بھی غور کریں تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان تصادم کی کیفیت ختم ہو۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کانگ نے سلامتی کونسل کمیٹی کے اجلاس سے پہلے ہی اپنے اصولی مؤقف کا اعلان کردیا تھا کہ اس معاملہ میں ذمہ دارانہ مواصلت و بات چیت ضروری ہے۔ اس طرح چین نے اصولی مؤقف اختیار کیا ہے اور ان عوامل کو ختم کرنے کی بات کی ہے جو پاکستان کے ساتھ بھارت کے اختلافات کی بنیاد ہیں تاکہ الزام تراشی کا ماحول ختم ہو سکے۔ اس کے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں ابھرنے والی تحریک کو کشمیریوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ جو کشمیری عسکری اور فدائی حملوں کو مسترد بھی کرتے ہیں ، اب وہ بھی مایوس ہوکر ہتھیار اٹھانے والے نوجوانوں سے ہمدردی کا اظہار کرنے لگے ہیں۔ کیوں کہ بھارتی فوج نےظلم و جبر کے ذریعے نفرت اور دوری کا ماحول پیدا کیا ہے۔ متعدد نوجوان اسی ظلم سے تنگ آکر رد عمل کے طور پر عسکری گروہوں کا آلہ کار بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برہان وانی ہو یا عادل ڈار، ان کے غلط اقدام کے باوجود کشمیری عوام انہیں اب ہیرو کا درجہ دینے لگے ہیں۔ اور ان کی نماز جنازہ میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شریک ہو کر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ بھارتی فوج کے ہتھکنڈوں اور حکومت کی سیاسی بے عملی سے عاجز آچکے ہیں۔ اس کا اظہار اب محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ جیسے بھارت نواز لیڈر بھی کرنے لگے ہیں۔
بھارتی حکومت مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل تلاش کرنے سے انکار کرتے ہوئے مقبوضہ وادی میں رونما ہونے والے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کا الزام پاکستان سے متحرک عسکری گروہوں پر عائد کرکے عالمی سطح پر ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ تسلسل سے کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دے کر زمینی حقائق سے روگردانی بھی کررہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں مسلسل مضبوط ہوتی اس رائے کے باوجود کہ کشمیری عوام اور ان کے لیڈروں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی جائے، مقبوضہ کشمیر میں سیاسی مفاہمت کے لئے کوئی پیش قدمی دیکھنے میں نہیں آتی۔



خاص طور سے وزیر اعظم نریندر مودی نے کشمیر کو پاکستان کے خلاف اپنی سیاست چمکانے کے لئے استعمال کیا ہے۔ عسکری گروہوں کی سرپرستی کے علاوہ یہ لغو پروپیگنڈا بھی کیا جاتا ہے کہ پاکستانی آئی ایس آئی حکومت مخالف مظاہرین کو رقوم تقسیم کرتی ہے۔ اسی طرح بھارتی حکام اپنے ملک میں ایسے انتہا پسند گروہوں کو مضبوط کرنے کا سبب بھی بن رہے ہیں جو 80 کی دہائی میں جہادی گروہوں کی صورت میں پاکستان سے ابھرے تھے اور جن کی حرکتوں کی وجہ سے پاکستان اب تک دفاعی پوزیشن میں ہے۔ بھارت میں گؤ رکھشا اور آیودھیہ رام مندر بنوانے کے لئے چلنے والی تحریکیں اسی قسم کی مذہبی شدت پسندی کو فروغ دے رہی ہیں۔ یہ گروہ اب بھی بہت طاقت ور ہیں اور مذہبی منافرت پھیلانے کے علاوہ تشدد کے سنگین واقعات میں ملوث ہوتے ہیں۔ لیکن پاکستان مخالفت اور کشمیر کے مسئلہ سے روگردانی کے لئے ہندووتا نظریہ پر استوار ان انتہا پسند گروہوں کی بڑھتی ہوئی طاقت، بھارت کے سیکولر مزاج اور ریاست کے اختیار کے لئے بڑا چیلنج بن کر سامنے آئے گی۔
اقوام متحدہ کمیٹی میں چین نے جو مؤقف اختیار کیا ہے وہ اگرچہ پاکستان کی سفارتی اور ٹیکٹیکل حمایت کہی جا سکتی ہے لیکن اس میں بھارت کو درست راستہ دکھانے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ اس چینی فیصلہ کو نہ تو پاکستان کو اپنی کامیابی سمجھنا چاہئے اور نہ ہی بھارت کو اسے ناکامی یا چین کی بھارت دشمنی قرار دینا چاہئے۔ جیسا کہ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کانگ نے گزشتہ روز کہا تھا اور سرکاری چینی اخبار نے واضح کیا تھا کہ چین تو بھارت میں بھی سرمایہ کاری کررہا ہے اور اس علاقے میں تصادم اور کشیدگی کی بجائے امن اور معاشی احیا کی پالیسی پر گامزن ہے۔
پاکستان کو اس تناظر میں انتہا پسندی کے بارے میں اپنی پوزیشن واضح کرنا چاہئے۔ اگر حکومت کی طرف سے قومی ایکشن پلان پر عمل در آمد اور انتہاپسند گروہوں اور افراد کے خلاف اقدامات نیک نیتی پر مبنی ہیں تو اقوام متحدہ میں مسعود اظہر کا معاملہ سامنے آنے پر اسے دوٹوک مؤقف اختیار کرنا چاہئے تھا۔ اور چین کو درپردہ سفارتی اعانت پر آمادہ کرنے کی بجائے یہ کہنا چاہئے تھا کہ ملک کا نظام و ریاست اور حکومت، مسعود اظہر کی سرپرست نہیں ہے بلکہ اسے قومی مفادات کا مجرم سمجھتی ہے۔ کیوں کہ جیش محمد کی سرگرمیوں کی وجہ سے پاکستان کو نہ صرف بھارت کے ساتھ کشیدگی اور تصادم کا سامنا کرنا پڑا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اسے سفارتی تنہائی درپیش ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے گزشتہ اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے سے گریز کیا ہے۔ اگرچہ بھارت کی خواہش ہے کہ پاکستان کو اس فہرست سے نکالنے کی بجائے ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں ڈالا جائے جبکہ حکومت پاکستان گرے فہرست سے نکلنے کے لئے حتی الامکان کوشش کررہی ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے منی لانڈرنگ اور انتہا پسند گروہوں کے خلاف پاکستان کے اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں ناقص قرار دیا تھا۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اس بیان میں خاص طور سے جیش محمد اور جماعت الدعوۃ کا ذکر موجود تھا۔
پاکستان ایک طرف ایف اے ٹی ایف کی رہنمائی اور ہدایات کی روشنی میں انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کا اعلان کررہا ہے اور سینکڑوں مدارس اور اداروں کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ انتہا پسند مذہبی گروہوں سے تعلق کی بنیاد پر ایک سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ لیکن دوسری طرف مسعود اظہر اور حافظ سعید کے بارے میں حکومت نے خاموشی اختیار کرنا ضروری سمجھا ہے۔ بھارت نے پلوامہ سانحہ کے بعد جب یہ دعویٰ کیا تھا کہ جیش محمد نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے اور اس حوالے سے خود کش حملہ آور عادل ڈار کی ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے تو وزیر اعظم نے تو تحقیقات کے لئے ’قابل عمل‘ شواہد فراہم کرنے کی بات کی لیکن وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس بھارتی دعویٰ کو مسترد کرنا ضروری سمجھا کہ پلوامہ خود کش حملہ میں جیش محمد ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت ایسے ثبوت فراہم کرے جنہیں پاکستانی عدالتوں میں قبول کیا جاسکے تو حکومت مناب اقدام کرے گی۔ تاہم اگر عام آدمی اور عالمی رائے یہ سمجھتی ہے کہ ملک کے سیاسی انتظام کی طرح عدالتی نظام بھی انصاف کی فراہمی کے حوالے سے قابل اعتبار نہیں ہے تو یقیناً شاہ محمود قریشی بھی اس ’سچائی‘ سے آگاہ ہوں گے۔ یہ بات بدستور نا قابل فہم ہے کہ وزیر خارجہ نے جیش محمد کے ملوث ہونے یا نہ ہونے کی بحث میں پڑنے کی ضرورت کیوں محسوس کی۔ کیا یہ کہنا کافی نہیں تھا کہ پاکستان کا اس سانحہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور پاکستان، بھارت میں کسی بھی قسم کی تخریب کاری کو بطور پالیسی مسترد کرتا ہے۔
وزیر خارجہ کی طرف سے جیش محمد کے پلوامہ حملہ اور مقبوضہ کشمیر کے فدائی حملوں میں جس طرح جیش محمد کا ’وکیل‘ بننے کی کوشش کی ہے، وہ کسی اعلیٰ پائے کے سفارت کار کے شایان شان نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح امریکہ ، فرانس، برطانیہ کے علاوہ جرمنی نے اگر سلامتی کونسل کمیٹی میں ایک بار پھر مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کی تجویز پیش کی تھی تو پاکستان کو بھی اس پر واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے مسعود اظہر کی پشت پناہی سے کنارہ کشی اختیار کرنا چاہئے تھی۔ اس کے بعد اگر چین اپنی خارجہ پالیسی کے اصول کے طور پر بدستور اس تجویز کو مسترد کرتا تو اسے واقعی ایک اصولی مؤقف کے طور پر تسلیم کرنا تمام فریقین کی مجبوری ہوتی۔ تاہم جب پاکستان مسعود اظہر کا سرپرست بننے میں حرج محسوس نہیں کرتا تو چین کے فیصلہ کو بھی پاکستانی حکومت کی حکمت عملی کے تناظر میں دیکھا جائے گا اور یہ سمجھا جائے گا کہ چین ، پاکستان سے وابستہ معاشی اور اسٹریجک مفادات کی وجہ سے ایک دہشت گرد کے بارے میں کھل کر بات کرنے سے گریز کرنے پر مجبور ہے۔
اسی طرح پاکستان جب انتہا پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کرتا ہے لیکن ایک کالعدم گروہ کے مسلمہ دہشت گرد شخص کو عالمی پابندی سے محفوظ رکھنے میں بھی دلچسپی لیتا ہے تو یہ سوال تو ذہن میں آئے گا کہ انتہاپسندوں کے خلاف کارروائی میں پاکستان کس حد تک سنجیدہ ہے۔ اگر پاکستانی حکومت کے نزدیک مسعود اظہر دہشت گرد نہیں ہے تو اس کا الزام کس کو دیا جائے۔ ایسے میں اگر دشمن پاکستانی ریاست کو دہشت گردی کا سرپرست قرار دیتے ہیں تو سفارتی لحاظ سے اس کا جواب دینا کیسے ممکن ہے؟

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker