ملتان میں استاد شاگرد کے تاریخی تعزیے ۔۔ خصوصی رپورٹ


taazia ustad and shagird
  • 24
    Shares

ملتان میں تعزیے کے جلوسوں کی روایت صدیوں پرانی ہے، دس محرم کے روز 30 سے زائد تعزیہ جلوس برآمد کئے جاتے ہیں، انہی میں استاد اور شاگرد کے تعزیہ کے جلوس بھی شامل ہیں۔ملتان کے قدیمی استاد اور شاگرد کے تعزیے عالمی شہرت رکھتے ہیں، استاد کا تعزیہ جو حضرت امام حسین کے روضے کی شبیہ ہے 1835ء میں استاد پیر بخش نے ساگوان کی لکڑی سے تیار کیا تھا جو 8مربع فٹ چوڑا اور 25فٹ اونچا ہے، اس تعزیے کو 80سے زائد افراد اٹھاتے ہیں۔استاد کے تعزیے کے بننے کے کچھ سالوں بعد علی احمد چنیوٹی نے شاگرد کا تعزیہ بنایا جو 150 من وزنی ہے۔یہ دونوں تعزیے 4 محرم کی شام اپنے آستانوں سے نکال کر جوڑے جاتے، ان کی تزئین و آرائش کی جاتی ہے اور 9محرم کی صبح یہ تعزیے زیارت کے لیے رکھ دیئے جاتے ہیں۔دس محرم کے روز استاد اور شاگرد کے تعزیے النگ پاک گیٹ سے نکالے جاتے ہیں جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتے ہوئے بی بی پاک دامن قبرستان پہنچ کر اختتام پذیر ہوتے ہیں۔
( بشکریہ : جنگ ویب سائٹ )

فیس بک کمینٹ
image_print




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*