ہمارے خاندانی نظام میں تبدیلی کی ضرورت۔۔وجاہت مسعود


columns wajahat masood
  • 7
    Shares

پسماندہ معاشروں کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اہم مسائل پر گھسے پٹے انداز میں ایک ہی طرح کی باتیں اتنی بار دہرائی جاتی ہیں کہ پورا مسئلہ چند رٹے رٹائے مفروضوں کی نذر ہوجاتا ہے۔ عورتوں کے حقوق اور خاندانی نظام میں درکار تبدیلیوں ہی کو لے لیجئے۔ گذشتہ صدی میں مولوی ممتاز علی کی تحریروں سے لیکر آج تک ہمارے نام نہاد ثقہ حلقوں نے اس بنیادی مسئلے کو ٹھٹھے بازی کا نشانہ بنا رکھا ہے۔ کبھی اس پر فحاشی کی تہمت لگائی جاتی ہے تو کبھی مغرب کے اس خاندانی نظام کو لتاڑا جاتا ہے جو ہمارے دانشوروں کی رائے میں عرصہ ہوا زوال پذیر ہو چکا۔کبھی سوال کیا جاتا ہے کہ آخر مردوں کے حقوق کی بات کیوں نہیں کی جاتی۔حالانکہ بات سیدھی سی ہے۔ تاریخی طور پر جو طبقات یا گروہ مختلف وجوہات کی بنا پر ترقی اور حقوق کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں ان کے حقوق کے تعین اور فراہمی پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ اقلیتوں، عورتوں اور بچوں کے حقوق پر توجہ مرکوز کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ قوانین اور اداروں کی سطح پر ایسے ڈھانچوں میں اصلاح کی جائے جو پچھڑے ہوئے طبقات کے ساتھ امتیازی سلوک کا باعث بنتے ہیں۔
اسی طرح عورتوں کے سیاست میں حصہ لینے کا سوال ہے۔ اس ضمن میں خالص مذہبی بنیادوں پر بحث کو تو چھوڑیں کہ عورتوں کو سیاست سے باہر کرنے کے خواہشمند احباب ہماری مختصر تاریخ کے کسی نہ کسی موڑ پر خود خواتین کی سیاسی قیادت تسلیم کر چکے ہیں۔ اصل مسئلہ محض ان چند خواتین کی سیاست میں شمولیت کا نہیں جو اپنے خاندانی اثر و نفوذ اور مراعات یافتہ طبقات سے تعلق کے باعث سیاست میں موجودہیں۔ سوال ان وسائل سے محروم کروڑوں عورتوں کو سیاسی عمل میں شریک کرنے کا ہے جنہیں نہ تو تعلیم تک رسائی ہے اور نہ علاج معالجے کی سہولتیں میسر ہیں۔ انہیں نہ تو روزگار کے مواقع حاصل ہوتے ہیں اور نہ گھر کی چار دیواری میں موثر آواز ملتی ہے۔ تاریخ میں جہاں کہیں استحصال کا شکار ہونے والے گروہوں کو اپنے حقوق منوانے کا موقع ملتا ہے معاشرے کی پیداواری اور اخلاقی حالت میں بہتری پیدا ہوتی ہے۔
گزشتہ سو سال سے گویا ہمارا واحد مسئلہ مروجہ خاندانی ڈھانچوں کا تحفظ ہے۔ سماجی تبدیلی کی کوئی کروٹ ہو، انسانی فکر کسی نئی علمی جہت کا سراغ لگائے یا میدان سیاست میں کوئی نیا مرحلہ درپیش ہو، ہمارا ردعمل ہر صورت میں ایک سا رہتا ہے، آنکھیں بند کر کے شور مچانا کہ ہمارا خاندانی نظام، معاشرتی ڈھانچہ اور اخلاقی اقدار خطرے سے دوچار ہیں۔ آئے روز بالغ اور تعلیم یافتہ نوجوان اپنی مرضی سے ازدواجی بندھن استوار کرنے کے جرم میں عدالتوں کے چکر کاٹتے نظر آتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں ایسے متعدد واقعات پیش آئے ہیں جن کے ردِ عمل میں مختلف مذہبی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں نے گوناگوں مفادات کے پیش نظر باقاعدہ مہم چلائی کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے ذریعے خاندانی نظام تباہ کیا جا رہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی مساعی کا گویا واحد مقصد قوم کو مغرب کے منتشر خاندانی نظام کے نقصانات سے آگاہ کرنا ہے۔ دیکھنا چاہیے کہ اس خوفزدہ ذہنی کیفیت کے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہیں؟ کیا واقعی کچھ قوتیں ہمارا خاندانی نظام تباہ کرنے کے درپے ہیں؟ کیا ہمارے خاندانی نظام اور سماجی اقدار میں تبدیلی کی کوئی ضرورت نہیں؟
اگر ہمارا خاندانی نظام واقعی بہترین ہے اور انسانوں کو تحفظ، ترقی کے مواقع اور خوشیوں کی ضمانت فراہم کرتا ہے تو پھر کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ معاشرے کی اکثریت اتنی کم عقل اور اپنے فائدے سے بے نیاز نہیں ہو سکتی کہ آنکھیں بند کر کے اپنے پاﺅں پر کلہاڑی مار لے۔ غالباً ہمارے ہی خاندانی نظام اور معاشرتی اقدار میں کوئی بنیادی خرابی ہے یا ہم ان سماجی ڈھانچوں کی بناوٹ اور ارتقا کو صحیح طریقے سے سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہر نسل میں ایک بڑی تعداد ایک خاص عمر تک خاندانی نظام اور نام نہاد معاشرتی اقدار سے ٹکرانے کی سر توڑ کوشش کرتی ہے اور پچھلی نسل اِس رویے پر بوڑھی عورتوں کی طرح بازو پھیلا پھیلا کر بین کرتی نظر آتی ہے۔ کچھ سر پھرے قدیم رسم و رواج سے ہٹنے کی ہمت تو کر لیتے ہیں مگر وسیع سماجی حمایت، معاون قوانین، رسم و رواج، اداروں اور متبادل روایات کی عدم موجودگی میں معاشرتی بے گانگی کا شکار ہو جاتے ہیں اور انفرادی اُلجھنوں سے بھرپور غیر ہموار زندگی گزارتے نظر آتے ہیں۔ ایک بڑی تعداد معاشرتی دباؤکا سامنا کرنے کی جرات سے محروم ہوتی ہے یا روایت سے وابستہ مفادات کا لالچ آڑے آتا ہے۔ یوں بھی روایت کی گھسی پٹی شاہراہ پر اک بے فکرے ہجوم کے ساتھ چہل قدمی کرتے زندگی کرنا آسان ہے۔ بزرگوں کی تابعداری پر شاباش کے ڈونگرے الگ رہے اور مستقبل میں روایت کے ڈنڈے پر اجارہ داری بھی ہاتھ سے نہیں گئی۔
دوسری طرف اپنے شعور کی پگڈنڈی پر تن تنہا سفر کرتے ہوئے ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑتا ہے۔ اب اگلا منظر دیکھیے، ماضی کی اسی باغی نسل کے بیشتر افراد ایک خاص عمر کوپہنچ کر ناجائز مفادات کے لالچ میں اور ذمہ داریوں کے بوجھ سے گھبرا کر اسی نظام کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں جو کل تک اُنھیں قبول نہیں تھا۔ روایت سے انحراف کیا جائے یا روایت کی پابندی، جو معاشرہ ارتقا اور تبدیلی کو ایک اُصول کے طور پر قبول نہیں کرتا، ہر دو صورتوں میں بے چینی کا شکار رہتا ہے۔ حقیقی خوشی کسی کے ہاتھ نہیں آتی، بغاوت کرنے والے جان لیوا معاشرتی دباﺅ میں ٹیڑھی میڑھی انفرادی نفسیات اور انتہا پسند اخلاقیات کی چکی میں پس جاتے ہیں۔ دوسری طرف سر تسلیم خم کرنے والے ایک خاص طرح کے جذبہ انتقام میں ڈوب کر اذیت پسند اور رجعت پسند رجحانات کے اسیر نظر آتے ہیں۔ ہر دو صورتوں میں معاشرے کے ہموار اخلاقی اور سماجی ارتقا میں خلل پڑتا ہے۔ غیر صحت مند اخلاقی اقدار فروغ پاتی ہیں۔ انفرادی منافقت رفتہ رفتہ اجتماعی بددیانتی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ایک اور نسل نوجوانوں کی اخلاقی بربادی، شاندار خاندانی ڈھانچوں کی ناقدری اور مغربی ثقافت کی نام نہاد یلغار کا رونا روتی نظر آتی ہے۔ یہ معاشرتی پسماندگی اُن مہربان حلقوں کو بے حد پسند ہےجنہوںنے معاشرے پر معاشی، سیاسی اور مذہبی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے۔ جب اِنسان کے دل میں خوشی کی کرن ہی نہیں، نہ گزرے ہوئے کل کی یاد خوشگوار ہے نہ حال پہ اطمینان ہے اور نہ آنے والے کل سے بہتری کی اُمید تو پھر کون سیاست کے بکھیڑوں میں پڑے، علم کے میدان میں تحقیق کا دروازہ کھولے، نئی سوچ کا آوازہ بلند کرے اور انفرادی مفاد کو اجتماعی مفاد پر قربان کرے۔
سچ تو یہ ہے کہ ہمارا خاندانی نظام فرد کو تحفظ دینے اور خوشیوں کی ضمانت فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ دوسری طرف موجودہ خاندانی ڈھانچے کی وجہ سے معاشرتی اور سیاسی ترقی میں بھی شدید مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ ہمارے مروجہ خاندانی نظام کی افادیت کا اندازہ لگانا ہو تو اپنے محلے یا گاؤں پر ایک سرسری نظر ڈال کر گھریلو لڑائی جھگڑوں کی بلند شرح ملاحظہ کیجئے۔ اپنے اردگرد بسنے والوں میں سے منہ بسورتے میاں بیوی اور خوش و خرم جوڑوں کا تناسب نکال لیجئے۔ ایک اور پیمانہ یہ ہے کہ ان باپ بیٹوں کی تعداد معلوم کر لیں جنہیں ایک دوسرے کے رویوں سے شکوہ نہ ہو۔ یہ آئے دن چولھا پھٹنے کی وارداتیں دوزخ میں نہیں، ہمارے معزز گھروں میں وقوع پذیر ہو رہی ہیں۔ پورے معاشرے میں بدعنوانی، رشوت، منشیات اور غنڈہ گردی کا طوفان اُٹھانے والے آسمانوں سے نہیں اُترے ہمارے مقدس خاندانی نظام کی پیداوار ہیں۔ غریبوں کی بیٹیوں کو جہیز کے ترازو میں تولنے والے اور اپنی ہونے والی بہو میں ہوس پرور درندگی سے دراز قامتی تلاش کرنے والے شرفا مغرب سے نہیں آئے ہمارے ہی ملک میں پلے بڑھے ہیں۔ جس معاشرتی نظام میں نام نہاد غیرت کے نام پر اپنی بہن، بیٹی اور بیوی کا خون کرنے والا تھانے اور کچہری میں سینہ پھُلائے پھرتا ہے، وہاں کی شرافت کا اندازہ کرنا ہو تو دوپہر کی دھوپ میں بچیوں کے کسی سکول یا کالج کے قریب غیرت مند نوجوانوں کے غول ملاحظہ کریں۔ مذہبی تہواروں پر خریدوفروخت کے بارونق مراکز میں بطور خاص پولیس تعینات کی جاتی ہے تاکہ عورتوں کو مقدس خاندانی نظام کے پروردہ نمونوں کی درازدستی سے محفوظ رکھا جا سکے۔ یاد رہے کہ یہ سب حقائق ایسے معمولات زندگی کا حصہ ہیں جن کا عام حالات میں ذکر نہیں کیا جاتا۔ اگر معمول کی حدود سے آگے نکلنے والے واقعات کا جائزہ مقصود ہو تو کوئی اخبار اٹھا کر دیکھ لیں۔ کھیتوں سے لے کر پولیس تھانوں تک آبروریزی کی وارداتیں گن جائیے۔ اغوا اور اخلاق باختگی کے قصے پڑھیں۔ سسرال اور قریبی رشتہ داروں کی کارگزاری ملاحظہ کریں۔ سوتیلے والدین اور شوہروں کی بدسلوکی سے تنگ آ کر دارالامان پہنچنے والی بدنصیب عورتوں کی داستانیں معلوم کیجئے۔ ایک ہی نظر میں اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہمارا معاشرتی نظام شدید تناؤ اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور یہ اس معاشرے کی تصویر ہے جہاں ظلم کی بے شمار کہانیاں خاندانی عزت کے نام پر دبا دی جاتی ہیں۔ چادر اور چار دیواری کے بلند بانگ نعرے کی حقیقت یہ ہے کہ ہم نے جبر، تشدد اور بددیانتی کی غلاظت پر منافقت کی چادر ڈال کر اسے روایت پرستی کی چاردیواری میں قید کر رکھا ہے۔
دراصل خاندان کے کسی ایک نمونے کو واحد فطری اور ناقابل تبدیلی نظام قرار دینا تاریخی حقائق سے انکار ہے۔ مختلف زمانوں اور مختلف خطوں میں خاندانی نظام کے مختلف نمونے اور ڈھانچے رائج رہے ہیں۔ کہیں عورت کو مرد پر بالادستی حاصل تھی تو کہیں مرد کو عورت پر۔ کہیں مشترکہ خاندانی نظام رائج تھا تو کہیں میاں بیوی اور بچوں پرمشتمل مختصر گھرانہ۔ کہیں قبیلے کو معاشرتی اکائی کی حیثیت تھی تو کہیں ایک ہی پیشے سے تعلق رکھنے والے تمام افراد کو مشترکہ برادری کا درجہ دیا جاتا تھا۔ دوسرے معاشرتی اداروں کی طرح خاندان بھی کوئی جامد مظہر نہیں ہے بلکہ معاشی، سیاسی اور علمی تبدیلیوں سے متاثر ہوتا ہے۔ ہزاروں برسوں پر محیط انسانی تاریخ میں خاندانی نظام بے شمار تبدیلیوں سے گزرا ہے۔ گزشتہ چند عشروں میں سائنسی ایجادات، سیاسی تبدیلیوں اور نئے معاشی ڈھانچوں کی نشوونما کی رفتار تیز رہی ہے چنانچہ خاندانی نظام بھی اسی رفتار سے تبدیل ہو رہا ہے۔ آج کی دُنیا میں کوئی معاشرہ ان تبدیلیوں سے اثر قبول کیے بغیر سیاسی اور معاشی سطح پر زندہ رہنے کی امید نہیں رکھ سکتا۔ خاندانی نظام پر سیاسی اور معاشرتی تبدیلیوں کے اثرات کو ذیل کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔
گزشتہ صدی میں اِنسانیت کو دو عالمی جنگوں کا سامنا کرنا پڑا۔ عالمی سطح پر خاندان کا ادارہ بھی اِن جنگوں سے متاثر ہوا ہے۔ ان عالمی جنگوں میں صنعتی ممالک کے محنت کشوں کی بڑی تعداد محاذ جنگ پر مصروف تھی۔ لہٰذا کھیتوں اور کارخانوں میں افرادی قوت کا بحران پیدا ہو گیا۔ چنانچہ جنگ میں شریک بیشتر ممالک میں عورتوں نے مردوں کی جگہ سنبھال لی۔ جنگ کی ہنگامی صورت حال ختم ہونے کے بعد ان عورتوں کو زبردستی ملازمتوں سے فارغ کرنا ممکن نہیں تھا، جنہوںنے بحران میں اپنی پیداواری اور انتظامی صلاحیتوں کا بھرپور ثبوت دیا تھا۔ علاوہ ازیں جنگ کے بعد سماجی خدمات کے شعبوں میں بے پناہ اضافے کے ساتھ ساتھ نت نئی صنعتوں میں بھی افرادی قوت کی ضرورت تھی۔ چنانچہ خواتین کارکنوں کی شکل میں صنعتی معاشروں کوایک مضبوط سہارا مل گیا۔
روایتی عورت کا مثالی کردار یہ تھا کہ وہ گھریلو کام کاج میں زندگی بسر کرے۔ لیکن نئی صورت حال میں معاشرے کو یہ اُصول تسلیم کرنا پڑا کہ روزی کمانے کے بنیادی حق میں مردوں اور عورتوں میں کوئی امتیاز روا نہیں رکھا جا سکتا۔ جب عورت روزی کمانے کے لیے گھر سے نکلتی ہے تو گھریلو فیصلوں میں اس کی رائے کا وزن بڑھ جاتا ہے، اِس کی مالی محتاجی ختم ہوتی ہے۔ چنانچہ جس گھرانے میں مرد اور عورت دونوں برسرروزگار ہوں وہاں مرد کی روایتی بالادستی کو لازمی طور پر دھچکا پہنچتا ہے۔ معاشی سطح پر خودکفیل عورت محض دو وقت کی روٹی کے لیے نہ تو شوہر سے پٹائی کرانے پر آمادہ ہوتی ہے اور نہ بچوں سے لے کر پیشہ وارانہ امور تک ہر معاملے میں شوہر کے اشارہ ابرو کی محتاج ہوتی ہے۔
جب معاشی سرگرمی میں عورتوں کی بھرپور شرکت کو بطور ایک اُصول تسلیم کر لیا گیا تو عورتوں پر گھریلو کام کاج کا بوجھ کم کرنے کی ضرورت محسوس ہونے لگی۔ گھریلو کام کاج میں مدد دینے والے بیشتر آلات مثلاً واشنگ مشین، ویکیوم کلینر، بجلی کا چولھا اور ریفریجریٹر وغیرہ بیسویں صدی کی تیسری اور چوتھائی دہائی میں متعارف ہوئے۔
(بشکریہ: ہم سب)

فیس بک کمینٹ
image_print




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*