کالملکھاریوسعت اللہ خان

اب پاکستانی کیا کریں؟۔۔ وسعت اللہ خان

بلوچستان کے وزیرِ داخلہ اور سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں کی اس بات میں دم ہے کہ جو لوگ دہشت گردی کا شکار ہوتے ہیں انھیں شیعہ، سنی، ہزارہ، بلوچ، پشتون کے بجائے پاکستانی کہا جائے۔ مگر پھر انھیں کیا کہا جائے جو دہشت گرد ہیں؟
چلیے مان لیا کہ کوئٹہ میں 20 پاکستانی شہید اور 48 زخمی ہوئے اور اب تک جو پچاس، ساٹھ، ستر ہزار پاکستانی دہشت گردی کا نشانہ بنے ان کی بھلے کوئی بھی قومیت، نسل، عقیدہ، رنگ یا علاقہ ہو مگر وہ سب پاکستانی ہیں۔
پر یہ کیسے ثابت ہو گا کہ وہ کچھ اور نہیں صرف پاکستانی تھے؟
ان کے جنازوں، دھرنوں، احتجاجی ریلیوں میں کتنے اراکینِ پارلیمان و صوبائی اسمبلی، کتنے وفاقی و صوبائی عہدیدار، کتنی قومی جماعتوں کی قیادت، سول سوسائٹی کے کون کون سے نمائندے اب یا اب سے پہلے شریک ہوئے۔
کتنوں نے ان کی عبادت گاہوں، رہائشی علاقوں اور کاروبار اور آمد و رفت کے تحفظ کے لئے اپنی پاکستانیت ثابت کرنے کی خاطر کوئی علامتی انسانی زنجیر بنائی، پہرہ دیا، بڑے بڑے شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالیں اور پلے کارڈز اٹھائے کہ ’قاتلو جواب دو خون کا حساب دو۔‘
کتنی بار پورے پاکستان میں نہ سہی پارلیمنٹ میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی یا اجتماعی دعا کروائی گئی۔ کتنوں نے گھر جا کر تعزیت کی، کتنوں نے قاتلوں کا نام لے کر مذمت کی اور قاتلوں سے علل اعلان لاتعلقی کا اظہار کیا؟ تاکہ یہ ثابت ہو کہ مرنے والے بھی پاکستانی ہیں اور ان کے شانہ بشانہ پوری پاکستانی قوم کھڑی ہے۔
آپ یہی کہتے ہیں نا کہ جتنی دہشت گردی ہم نے بھگتی یا بھگت رہے ہیں ہم سے زیادہ کسی نے نہیں بھگتی۔ اگر یہ درست ہے تو پھر آپ نے تدارک کے لئے سوائے عسکری آپریشنز کے اور کیا کیا کیا؟ کمر توڑنے پر ہی زور رہا یا ذہن کھولنے کے لئے بھی کچھ کیا؟
دہشت گرد بننے یا نہ بننے کا فیصلہ پہلے دماغ کرتا ہے یا ہاتھ؟
اسلحہ اٹھانے والوں کے خلاف تو بہت کچھ ہوا مگر دماغ ہائی جیک کرنے والوں کا کیا کیا؟ کچے ذہنوں کو زہریلے ببول بنانے والی نرسریوں کا کیا ہوا؟
ٹھیک ہے ہم سب پاکستانی ہیں اور ہمیں پاکستانیوں کی طرح ہی سوچنا چاہئے۔ مگر پاکستان کوئی نارمل ریاست ہے یا روبوٹ تیار کرنے والی فیکٹری؟
خودکش حملے کے خلاف ہزارہ قبیلے کا کوئٹہ میں دھرنا گذشتہ تین روز سے جاری ہے
اگر یہ انسانوں کی ریاست ہے تو پھر ہر ریاست کی طرح یہاں بھی پاکستانیت کے بڑے دائرے میں خاندان، ذات، عقیدے، علاقے، رنگ، نسل کے چھوٹے دائرے تو ہوں گے۔ انھیں تسلیم کرنے اور ان کا احترام کرنے اور احترام سکھانے میں کیا مسئلہ ہے؟ کسے خطرہ ہے؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ بطور حکومت، ادارہ اور رہنما اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری کرنے میں کسی بھی مجبوری یا نااہلی کے سبب ناکام ہیں اور اس ناکامی سے ہماری توجہ بٹانے کے لئے طے شدہ موضوعات کے غبارے تہتر برس سے بار بار فضا میں چھوڑ رہے ہیں؟
ہاں ہم سب پاکستانی ہیں۔ مگر بنگالی بھی تو پاکستانی تھے؟ غائب ہونے والے شہری بھی تو پاکستانی ہیں؟ آپ سے مختلف سوچنے والے بھی تو پاکستانی ہیں؟ آپ کے اچھے کاموں کی تعریف اور خراب کاموں پر انگلی اٹھانے والے بھی تو پاکستانی ہیں؟ اور مسائل بھی تو پاکستانی ہیں۔ یہ بتائیں کہ اب کرنا کیا ہے؟
(بشکریہ:بی بی سی)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker