وادی کالاش ، چلم جوشی میلہ اور دھو؛ اڑاتا نیا پاکستان ۔۔ محمد زابر سعید بدر


artcles of zabir saeed badar at girdopesh.com
  • 7
    Shares

کہتے ہیں شہنشاہ شاہ جہاں نے جب مغل عظمت و سطوت کی نشانی لال قلعہ دہلی کو تعمیر کروایا تو اسے دیکھتے ہی بے اختیار کہہ اٹھا کہ
اگر فردوس بر روئے زمیں است
ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است
کہ اگر اس زمین پر کہیں جنت موجود ہے تو وہ یہیں ہے، یہیں ہے، یہیں ہےبچپن میں طلسم ہوش ربا کو پڑھتے پڑھتے جادوگروں اور پریوں کے دیس میں پہنچ جاتے تھے، تخیل نے پرستان کا ایک طلسماتی سا منظر نامہ تیار کر رکھا تھا وہ لمحہ جب ان آنکھوں نے کالاش کے حسن کو دیکھا تو شاہ جہان کی طرح دل بے اختیار پکار اٹھا کہ وہ پرستان یہی ہے جس کا تخیل بچپن سے ہمیں بے چین کیے ہوئے تھا، آسمان کو چھوتے دیو ہیکل پہاڑ گویا دیو تھے جو ان خوبصورت وادیوں میں اچھلتی لہکتی اور مہکتی پریوں اور فرشتوں ایسے معصوم نیلی اور سبز آنکھوں والے بچوں کی دلفریب اور روح کو تازہ کر دینے والے مسکراہٹ کی حفاظت پر مامور تھے۔بل کھاتے دریائے چترال کا شفاف میٹھا اور ٹھنڈا پانی، سنگلاخ چٹانوں میں گھری ایسی وادیاں جن میں گویا کھلتے سبز رنگ کی خوشبو دار فصل اگی ہو جو ٹھنڈی اور معطر ہواؤں سے ہمیں ایک ان جانی سی طلسماتی دنیا میں لے جاتی تھی دل چاہتا تھا کہ وقت یہیں تھم جائے اور ہم بھی کئی صدیوں سے ٹھہری اس آہٹ کو سننے لگ جائیں جو ہزاروں سال پہلے دنیا کے عظیم فاتح سکندر اعظم کی آمد سے ان علاقوں میں پیدا ہوئی، وہی مسحور کر دینے والا یونانی حسن، وینس ڈی میلو کے چلتے پھرتے، ہنستے مسکراتے، کھلکھلاتے، لہراتے اور بل کھاتے مرمریں مجسمے، معصوم فرشتے جن کی آنکھوں میں کئی صدیاں جیسے ٹھہر سی گئی ہوں، حیرت اور معصومیت سے ہمیں جب دیکھ رہے تھے تو انکی غربت ایک حسرت بن کر مقدونیہ کے سکندر کے زمانے سے گویا ہم سے سوال کر رہی تھی کہ ہمارا کیا قصور ہے یہ غربت، یہ افلاس یہ بے بسی ہمارا ہی مقدر کیوں ہے۔وادی کالاش بلاشبہ پاکستان ہی نہیں بلکہ روئے زمین کے چند حسین ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔
ہمارے دوست اور پاکستان فیڈیشن آف کالمسٹ کے صدر ملک سلمان کی طرف سے کالاش کے تاریخی و ثقافتی چلم جوشی میلےمیں شرکت کی دعوت موصول ہوئی، بے حد مصروفیت کی وجہ سے فوری جواب نہ دے سکا لیکن سلمان میاں نے بھی اپنے خلوص اور محبت سے دعوت قبول کروا کر ہی دم لیا۔جب معلوم ہوا کہ روزنامہ جنگ کے ہمارے ساتھی اور مشہور کالم نگار افضال ریحان,سمعیہ اعجاز، اشتیاق گوندل، شہباز آسی، فرخ وڑائیچ اور نوید ستی بھی ہمراہ ہیں تو خوشی دوبالا ہو گئی۔ہمارے ساتھ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والے 60 اینکرز، پروڈیوسرز، کالم نگار اور صحافی خواتین و حضرات کالاش کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔یہ اپنی نوعیت کا پہلا وفد تھا جو ملک بھر کے سینئر صحافیوں پر مشتمل تھا اور پہلی مرتبہ چلم جوشی میلے کی کوریج کرنے جا رہا تھا جس کی آئی ایس پی آر سے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ اجازت لی گئی۔یہاں کالاش کا مختصر تعارف کراتا چلوں کہ کالاشیوں کا اپنا ایک الگ جہاں ہے جس کے رسوم و رواج بے حد دلچسپ اور نرالے ہیں یہ خواتین کی بے حد عزت کرتے ہیں اور ان کو وہی مقام دیتے ہیں جو ہمارے ہاں مرد کا ہوتا ہے یہ غالبا تاریخ کے اس دور سے تعلق رکھتے ہیں جب ایک زرعی معاشرہ وجود میں آیا اور دھرتی ماتا کا تصور عام ہوا۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ ان کی تعداد چار ہزار کے قریب رہ گئی ہے اور وہ وقت دور نہیں کہ جب کالاشی ثقافت تاریخ کا ایک باب بن کر رہ جائے گی۔اس حوالے سے بھی ماہرین کو توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ تقریبا تین ہزار سال سے آباد کالاش قبیلے کا سالانہ تہوار چلم جوشی بھی پاکستان کی ثقافت کا ایک خوبصورت حصہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس تہوار کو دیکھنے ہر سال غیر ملکیوں سمیت ہزاروں سیاح وادی کالاش کا رخ کرتے ہیں۔ چترال کے قریب واقع کالاش کا علاقہ تین وادیوں ، ”رمبور“، ”بریر“ اور” بمبوریت“ پر مشتمل ہے۔موسم بہار کے آتے ہی تینوں وادیوں میں چلم جوشی کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں لیکن تہوار کے خاص تین دن تمام مرد و خواتین وادی بمبوریت میں جمع ہوجاتے ہیں۔ مقامی لوگ اسے ”چلم جوشٹ“ بھی کہتے ہیں یہ ہر سال 14 سے 16مئی تک منایا جاتا ہے۔وادی کالاش میں شادی کرنے پر کوئی خرچ نہیں ہوتا لیکن یہاں مرنا بے حد مہنگا ہے۔ کسی کالاشی کے مرنےکی صورت میں یہاں سُر اور ساز گونجتے ہیں کہ وفات پانے والا اس گنہگار دنیا سے رخصت ہورہا ہے، اس لئے وہ اس کی وفات پر جشن مناتے ہیں اور فوتگی کے موقع پر بکرے کے گوشت ، دیسی گھی اور پنیر سے تواضع کی جاتی ہے ۔قدیم کالاشی قوم اپنے مردوں کو دفناتی نہیں تھی بلکہ مردے کو اس کے سازوسامان سمیت قبرستان میں لکڑی کے صندوقوں کے اوپر چھوڑ آتے تھے۔اب ایسا نہیں کیا جاتا ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ کیلاشی خواتین اپنے گھر کی چھت اورعبادت گاہ جسے منوش کہتے ہیں پر نہیں جا سکتیں لیکن دوسری طرف گھر کے تمام اہم فیصلے صرف خواتین کرتی ہیں۔ گھر بار، مویشیوں کی دیکھ بھال ،کاشتکاری، ہر قسم کا حساب کتاب، سب خواتین کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ۔ ہم سب نے دھول اڑا تا نیا پاکستان بھی دیکھا اور چترال سے کالاش تک نیا پاکستان گویا پکار پکار کر تحریک انصاف کی پانچ سالہ کارکردگی کی دہائیاں دے رہا تھا۔مٹی کیچڑ اور گارے سے لتھڑا ایک راستہ جس پر کسی سڑک کا کوئی وجود نہ تھا گاڑی کا ایک ٹائیر کیچر سے بھرے راستےکے کنارے پر گویا ایسے تھا اب گرے کہ اب گرے ہر لمحہ خطرہ تھا کہ ہم سب سیکڑوں فٹ نیچے بہتے دریائے چترال میں گرنے کے بعد تاریخ کا حصہ نہ جائیں۔اپر دیر میں بینظیر شہید یونیورسٹی کے ایم ایس سی باٹنی کے چند طالب علموں سے اس نئے پاکستان پر بات ہوئی تو وہ بھی سخت مایوس نظر آئے اور نواز شریف کی تعریف کرتے رہے۔چترال اور وادی کالاش کے لوگ گذشتہ برس نواز شریف کے لواری ٹنل کے افتتاح کے حوالے سے بے حد مشکور نظر آئے سنگلاخ پہاڑوں کو کاٹ کر نو کلومیٹر طویل راستہ بنانا بھی ایک بہت بڑا کارنامہ ہے جس سے شدید سردی کے موسم میں بھی اب مقامی لوگوں کو آمدو رفت کی سہولت حاصل ہو گئی ہے۔چترال سے کالاش تک کا سفر گویا ایسا تھا کہ ہم صدیوں کے ساتھ ساتھ سفر کر رہے ہوں، دریائے چترال کی ببھری لہروں کا شور، سنہری اور چمکتی سنگلاخ پتھریلی چٹانیں جو کہیں سرمئی ہو جاتیں کہیں سیاہ اور کہیں سفید۔میں نے محسوس کیا کہ ان پانچ چھ گھنٹوں میں کروڑوں سالوں سے موجود ان پتھریلے پتھروں نے مجھ سے بہت سی باتیں کی ہیں بظاہر یہ خاموش، بےحس و حرکت پہاڑ لاکھوں کروڑوں سال کی کہانیاں بیان کر رہے تھے اور میں ان راستوں پر گزرنے والے نامور فاتح شہنشاہوں،جرنیلوں کے گھوڑوں کی ٹاپیں سن رہا تھا، میں تاریخ میں سفر کر رہا تھا آج وہ باجبروت شہنشاہ،جرنیل اور فاتح تاریخ کےخاموش صفحات کا حصہ ہیں
بات بھی ہم نے بڑی شدت سے محسوس کی کہ کالاشی لوگ پی ٹی آئی سے سخت نالاں تھے یہ وہ منظر نامہ ہے جسے ہم چند روز پہلے خود دیکھ کر آئے۔مسلم لیگ ن کا کام بول رہا ہے یہی وجہ ہے خیبر تا کراچی لوگ شہباز شریف کے وژن کی تعریف کر رہے ہیں۔سچ پوچھئے ہمیں تو نئے پاکستان نے خاصا مایوس کیا۔اگر یہ راستے بن جائیں تو پاکستان کو ہر سال اربوں روپے کا فائدہ ہو سکتا ہے جو اس علاقے کے لوگوں پر خرچ کیا جا سکتا ہے اس سے دنیا بھر میں پاکستان کا دھشت گردی والا تشخص ختم کرنے میں بھی مدد ملے گی اور یہاں کے لوگوں کا رہن سہن بہتر ہو گا۔میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اس کے بعد پاکستانیوں کو سوئیٹزر لینڈ جانے کی ضرورت نہ پڑے گی بلکہ سوئیٹزر لینڈ اور دنیا بھر سے سیاح پاکستان آئیں گے اور ان مٹ یادیں لے کر واپس لوٹیں گے۔چھ دن بعد ہم واپس لاہور پلٹ تو آئے لیکن انہی حسین وادیوں جہاں کہیں آبشاریں بہتی ہیں، کہیں پہاڑوں کی اوٹ سے پریاں اترتی ہیں، کہیں نیلی جھیل سی آنکھوں والے فرشتے بھاگتے پھرتے ہیں وہیں کسی جھرنے کے پاس اپنا دل چھوڑ آئے ہیں۔

Views All Time
Views All Time
76
Views Today
Views Today
1
فیس بک کمینٹ




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*