کاملہ شمسی: ہوم فائر/ زاہدہ حنا


zahida hina
  • 9
    Shares

وہ اچھے دن تھے جب امن کے موضوع پر ادبی کانفرنسیں ہوتی تھیں اور اس میں پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش، سری لنکا ، نیپال اور بھوٹان کی ادیب خواتین اکٹھا ہوتی تھیں۔ اجیت کور اور ان کی سارک لٹریری فاؤنڈیشن نے اس حوالے سے بہت کام کیا ۔ اکیسویں صدی آغاز ہوچکی تھی اور ہمارا خیال تھاکہ یہ صدی پاکستان اورہندوستان کے درمیان ایسے امن تعلقات کا آغاز کرے گی جس کے بعد ہمارے دلدّر دورہو جائیںگے۔
پاکستان، بنگلہ دیش ، سری لنکا ، بھوٹان اور خود ہندوستان بھرسے آئی ہوئی مختلف زبانوں کی لکھنے والیاں موجود تھیں۔60,50 لکھنے والیوں کاایک جھرمٹ تھا جس میں سب ایک دوسرے سے مل رہی تھیں اوراپنی اپنی کہانی سنا رہی تھیں۔ ہم سب دلی سے خاصی دور’آنند گرام ‘ میںٹہ رائے گئے تھے۔ چاردیواری کے چاروں طرف پیڑوں کا پہرا ۔ اونچے اونچے ٹیرا کوٹا مجسمے‘چمپا، چنبیلی،گلاب اورگیندے کے تختے، ان پھولوں کی خوشبو سے بوجھل ہوائیں، مدھو مالتی اور شیولی کے درمیان جھنکارتے ہوئے مور ۔ آسمان پراڑان بھرتی ہوئی فاختائیں،گوریاں اور طوطے، جنت کا سماں اوراس کے درمیان ہم ، بھولے بسرے گیت گاتے ہوئے، قہقہے لگاتے ہوئے۔ اسی ماحول میں پہلی مرتبہ میں نے اسے دیکھا ۔ میدہ شہابی رنگت ، دلکش نقوش اور ذہین آنکھیں۔ یہ چہرہ میرا دیکھا ہوا تھا۔ میں ذہن پر زور ڈالتی رہی اورتب مجھے یاد آیا کہ یہ لڑکی منیثرہ شمسی سے کس قدرمشابہ ہے۔
یہ کاملہ شمسی تھی۔ اس کا تعلق ہماری اس نئی نسل سے تھا جو انگریزی میں لکھتی تھی اورانعام پرانعام لیے جارہی تھی۔ اور پھر یاد کی تمام کڑیاں ، ایک دوسرے سے ملتی گئیں ۔ مجھے بیگم جہاں آرا حبیب اللہ یاد آئیں جنہوں نے زہرہ کریم کے اردو’شی‘میگزین کے لیے یادوں کاایک مرقع لکھا تھا ۔ میں اس رسالے کی ایڈیٹر تھی اور میری خوشی کی انتہا نہیں رہی تھی جب بیگم جہاں آرا نے ریاست رام پورکے حوالے سے ’’زندگی کی یادیں‘‘ ایک مختصر تاثراتی مضمون لکھا جس میں نادرونایاب تصویر یں بھی شامل تھیں۔ کچھ دنوں بعد بیگم جہاں آرا نے ہماری فرمائش پر ان یادوں کو بہت سے صفحوں پر پھیلا دیا ۔یہ کتاب ’’زندگی کی یادیں: ریاست رام پور کا نوابی دور‘‘ کے عنوان سے 2003میں شایع ہوئی اور ہاتھوں ہاتھ لی گئی۔ اس میں غیر منقسم ہندوستان کی سیکڑوں برس پرانی روایات کوسمیٹ کرایک ایسا کولاژ بنایا گیا تھا جوہماری تہذیبی تاریخ کا روشن باب ہے۔
کاملہ شمسی کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جو برصغیر میں برٹش راج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہا۔ آکسفورڈ اورکیمبرج سے فارغ التحصیل نوجوان اور اسی کے ساتھ اردو، فارسی، عربی اور سنسکرت کی علمی اورادبی روایات سے جُڑے ہوئے، لیکن بات یہیں پر تمام نہیں ہوتی تھی ۔ یہ وہ خاندان تھا جس کی عورتیں بیسویں صدی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں اور اس کے ساتھ ہی لکھنے کا شوق رکھتی تھیں۔
منیثرہ شمسی انگریزی میں ادبی اورسماجی کالم لکھتی ہیں ۔ وہ جہاں آرا حبیب اللہ کی بیٹی ہیں اورہندوستان کی مشہور ناول نگارعطیہ حسین کی بھانجی یا شاید بھتیجی ۔ یہ وہی عطیہ حسین ہیں جنہوں نے انگریزی میں ایک معرکہ آرا ناول لکھا جسے ابھی چند برس پہلے انتظار صاحب نے ’شکستہ ستونوں پر دھوپ ‘ کے عنوان سے ترجمہ کیا۔ اس ناول میں عطیہ حسین نے لکھنؤکے تعلقہ داروں کی اس زندگی کا نقشہ کھینچا ہے جو موجود تھی تومحسوس ہوتا تھا کہ یہ کبھی ختم نہیں ہوگی اور جب ختم ہوئی تو تقسیم کے ساتھ ہی یاد فراموشی کے طاق پر رکھی گئی اور تاریخ کے دھندلکوں میں کھوگئی۔ عطیہ اس بات پر نازکرتی تھیں کہ میری رگوں میں ان اجداد کا خون دوڑ رہا ہے جو 800 برس سے ہندوستانی تھے ۔ انھوں نے تقسیم کی برچھی کھا کر رہائش کے لیے برطانیہ کے شہر لندن کو اختیارکیا اور وہیں کی ہو رہیں۔ وہ ایک ایسی قصہ گو تھیں کہ جن کی باتیں سننے والے ان کے سحر میں ڈوب جاتے تھے۔
کاملہ شمسی کے خاندان کی عورتوں کا قصہ کچھ یوں ہے کہ ان کی پر نانی بیگم انعام فاطمہ حبیب اللہ نے 1924 میں ’تاثراتِ سفرِ یورپ‘ لکھی ۔ ادیبوں کی کئی پشتیں ہیں جوکاملہ تک آتی ہیں اور تسلسل نہیں ٹوٹتا ۔ انگلستان جا کر بس جانے والے عامر حسین بھی ان کے خاندان سے ہیں ۔ وہ بھی انگریزی میں لکھنے والے ایک اہم ایشیائی ادیب ہیں ۔ اس تناظر میں دیکھیے توکاملہ ادیبوں کے جدی پشتی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ کاملہ 1973کے پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ کراچی ان کی جنم بھومی ہے۔ کراچی گرائمر اسکول سے انھوںنے اے لیول کیا اور پھر امریکا چلی گئیں جہاں سے انھوں نے گریجویشن کیا ۔ وہ واپس کراچی آئیں اور اب لندن اورکراچی کے پھیرے لگاتی ہیں ۔کراچی ان کے لیے یادوں کا ایک خزانہ ہے اوراس کے ساتھ ہی لندن انھیں اپنا گھر لگتا ہے۔ وہ لندن، کراچی اور دلی کے درمیان سفر میں رہتی ہیں ۔ اسی طرح جیسے بپسی سدھوا امریکا ، کراچی اور دلی کواپنا گھرخیال کرتی ہیں ۔
ہم جب ادب اور امن کانفرنس کے سات دن دلی میں گزار رہے تھے تو یہ خوش قسمتی صرف کاملہ کے حصے میں آئی تھی کہ دلی میں ان کا ننیہال ‘ ان کا گھر تھا۔ وہ دن کے کئی گھنٹے کانفرنس کے سیشنوں میں گزارتیں، پھر گھر سے کار آتی اور وہ اپنے خاندان میں چلی جاتیں۔اس وقت کاملہ کے صرف 2 ناول شایع ہوئے تھے اور دونوں انعام کے لیے شارٹ لسٹ ہوچکے تھے۔ اسی حوالے سے وہ مشہور ہوچکی تھیں۔دلی میں ہندوستانی ادیبوں کے حلقے میں وہ معروف تھیں اور مقبول بھی ۔ ہم خوش ہوئے کہ ارون دھتی رائے اوروکرم سیٹھہ کی طرح ہمارے یہاں بھی انگریزی میں لکھنے والوں کی نئی نسل سامنے آرہی ہے۔ بپسی سدھوا، سارہ سلہری ان سے پہلے کی نسل تھی ۔ محسن حامد اور محمد حنیف ،کاملہ شمسی اور عظمیٰ اسلم خان کی نسل ان کے بعد آئی اوریورپی ادبی حلقوں میں اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی تھی ۔
کاملہ کی زندگی میں کراچی بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ وہ یہاں پیدا ہوئیں، ان کی ابتدائی تعلیم بھی یہیں ہوئی۔ سہیلیاں، دوست، رشتے کے بھائی بہن ۔ وہ گلیاں جن سے وہ گزریں، وہ بازارجہاں سے انھوں نے چوڑیاں اور چُنے ہوئے دوپٹے خریدے۔ شاید گول گپے اورمرچ کی تیزچٹنی ڈال کر دہی بڑے بھی کھائے ہوں اورسُوسُوکرتی پھری ہوں۔ وہ تمام کام جو ہم سب لڑکپن میں کرتے ہیں اورپھر وہ ہمارے اندرجادوئی منظرکی طرح نقش ہوجاتے ہیں ۔ نوعمری میں ہی کاملہ نے ا علان کردیا تھا کہ وہ ایک ادیب بننا چاہتی ہیں ۔ ان کے اس دعوے پرکسی کوبھی حیرت نہیں ہونی چاہیے تھی ۔ ان کی رگوں میں انیس فاطمہ، جہاں آراحبیب اللہ، عطیہ حسین اورمنیژہ شمسی کاخون دوڑتا تھا ‘ ایسے میں وہ مولوی اسمعیل میرٹھی کی اس نظم کی تصویر کیسے بن سکتی تھیں کہ ’’ایک لڑکی بگھارتی ہے دال۔‘‘
ان کا ناول’کارٹوگرافی‘ ریت میں پتھرا جانے والے سکندر اعظم کے نقش قدم کی تلاش سے شروع ہوتا ہے۔ کروکولاکی بندرگاہ جو کراچی کی ابتدا تھی۔ شاید یہ سکندر اعظم کا لشکر تھا جس نے بحیرۂ عرب کے مشرقی ساحل کی ریت کو روندایا یہ اس کے امیرالبحر نیارکس کے قدم تھے؟ الیکزنڈرایف بیلی کی کتاب ’ کوراچی، پاسٹ، پرزنٹ اینڈ فیوچر‘ اس ناول پر اپنا سایہ ڈالتی ہے۔ اس ناول میں تشدد، غداری اور قربانیوں کا تذکرہ ہے‘اس کے ساتھ ہی ہمیں اس میں آوارہ گولیاں بھی ملتی ہیں ۔ آوارہ گولیاں جوننھے بدن چاٹ جاتی ہیں اور بیٹوں سے بے پناہ محبت کرنے والے باپ کا سینہ چیر جاتی ہیں۔ کراچی میں ، 90,80اور ہزاریہ کے اختتامی برسوں میں زندگی گزارنے والے ’کارٹوگرافی‘ کوقدم قدم پہچانتے ہیں ۔
ان کا ناول’برنٹ شیڈوز‘ ’جلے ہوئے سائے‘ 1945 میں9 اگست کی سوختہ بخت تاریخ سے شروع ہوتا ہے ۔ امریکا کی عنایت سے ایٹمی آگ جو ہیروکوتناکا ’کے کمونو‘ کی پشت پر تین سیاہ کوبخوں کاسایہ چھوڑ جاتی ہے، وہ ہیروکوتنا کا کواس دنیا میں دھکیل دیتی ہے جس میں سفر اس کا مقدر ہے۔ ہندوستان، پاکستان، افغانستان،امریکا۔ ملک در ملک اور شہر درشہر وہ سفرمہینے اس کاسفر9 اگست 1945سے شروع ہوا تھا اوراب اس دنیا کودیکھتی ہے جو نائن الیون کے بعد کی دنیا ہے۔ ایک ایسی دنیا جوسرکے بل کھڑی ہوچکی ہے۔
کاملہ کا نیا ناول’’ہوم فائر‘‘ اپنے ساتھ شہرت اور 30ہزار پونڈ کی رقم لے کر آیا ہے۔ میں نے یہ ناول نہیں پڑھا لیکن اس کے بارے میں جوتبصرے پڑھے ہیں جی چاہتا ہے کہ اس کے نام کا ترجمہ ’’گھرکا چراغ‘‘ کیا جائے۔
اب سے 2400 برس پرانی بے مثال کہانی’ انٹی گونی‘ کے کرداروں کو کاملہ نے اٹھایا ہے اور آج کی سیاست سے پیوستہ ایک ناول کی شکل دے دی ہے ۔ یہ المیہ ڈراما جسے سوفوکلیز نے لکھا تھا اور جو دو بھائیوں اور دوبہنوں بلکہ سچ تویہ ہے کہ ایک بھائی، ایک بہن کی کہانی ہے۔ نوجوان، نوخیز، بادشاہ کی ہونے والی بہو اور ولی عہدکی منگیتر جس کے دونوں بھائی ایک جنگ میں مارے جاتے ہیں ۔ وہ بھائی جو بادشاہ کے ساتھ تھا، اسے ہیرواورشہید کے نام سے پکارا جاتا ہے اور سرکاری اعزاز کے ساتھ اس کی تجہیز وتکفین ہوتی ہے جب کہ دوسرا بھائی’غدار‘ قرار دے کر میدان جنگ میں ہی چھوڑ دیا جاتا ہے‘ مردارخور پرندوں کی ضیافت کے لیے ۔ بہن کے لیے یہ صدمہ ناقابل برداشت ہے ۔
وہ اپنے دوسرے بھائی کوعزت وتکریم کے ساتھ دفن کرناچاہتی ہے لیکن بادشاہ نے منادی کرادی ہے کہ غدارکودفن کرنے کی جرأت کرنے والابھی غدار ٹہرے گا اورموت اس کا مقدر ہوگئی۔ ’غدار‘کی بہن بادشاہ کے اس حکم کی تعمیل کے لیے تیار نہیں۔وہ بادشاہ کی نظرمیں غدار ہوگا لیکن اس کی بہن کاحق ہے کہ وہ اسے عزت احترام سے دفن کرے ۔ یہ ایک ایسافیصلہ ہے جسے اس کی دوسری بہن بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ ’’ہوم فائر‘‘ اس دنیاکی کہانی ہے جس میں جمہوریت، جہاد، غداری، وفاداری، حب وطن اورحب جاہ سب ہی گڈ مڈ ہوگئے ہیں ۔ بیٹے باپ کی سیاست سے اختلاف کرتے ہیں اور بیٹیاں باپ کی سمجھ میں نہیں آتیں۔ گھرکوگھرکے چراغ سے آگ لگ چکی ہے لیکن عشق کی آگ بھی سینوں میں بھڑکتی ہے۔ عشق جس سے کسی کو فرار نہیں، اس زمانے میں بھی نہیں جب عراق میں انسانیت کا قتل عام ہو رہا ہو اور افغانستان کے خودکش بمبار،کابل سے کراچی اور داتا کے دربار تک اپنے پرچم لہرا رہے ہوں۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ
image_print




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*